غزل سپلائنگ اینڈ مینوفیکچرنگ کمپنی (پرائیوٹ ان لمیٹیڈ) … مجتبی حسین

Spread the love

ادھر جب سے دنیا تجارت کے چنگل میں پھنس گئی ہے۔ اس وقت سے ہر شئے ترازو میں تلنے اور تجارت کے سانچے میں ڈھلنے لگی ہے۔ ہمیں اس نوجوان کی بات اب بھی یاد ہے جس نے ایک کتب فروش کی دکان پر کھڑے ہو کر کتب فروش سے کہا تھا، ’’جنابِ والا! مجھے کرشن چندر کے دو کلو افسانے، راجندر سنگھ بیدی کے ڈیڑھ کلو کہانیاں اور فیض کی چار کلو غزلیں دیجئے۔‘‘

اس پر کتب فروش نے ہماری آنکھوں کے سامنے کرشن چندر اور بیدی کی کہانیوں کے مجموعے ترازو میں تول کر دیئے اور فیض کی غزلوں کے بارے میں فرمایا، ’’حضور والا! میں آپ کو فیض احمد فیض کی غزلیں دینے کے موقف میں نہیں ہوں کیونکہ فیض کا سارا ادبی سرمایہ دو کلو غزلوں پر مشتمل ہے۔ یقین نہ آئے تو ’دستِ صبا، نقشِ فریادی‘ اور ’زنداں نامہ‘ کو تول کر دیکھ لیجئے۔‘‘

اس دن سے ہمیں یہ یقین ہو چلا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب تجارت، ادب پر اس قدر غالب آجائے گی کہ لوگ شاعری کی بلیک مارکیٹنگ اور افسانوں کی ذخیرہ اندوزی کرنے لگیں گے (ویسے بیرونی ادب کی اسمگلنگ تو ہمارے ہاں اب بھی جاری ہے) مگر ہمارا یقین اس وقت پختہ ہوا جب ہمیں پتہ چلا کہ ایک صاحب نے ’غزل سپلائنگ اینڈ مینیوفیکچرنگ کمپنی پرائیویٹ ان لمیٹیڈ‘ قائم کررکھی ہےاوراس کمپنی کا کاروبار زوروں پرجاری ہے۔ چنانچہ ہم اس کمپنی کا معائنہ کرنے کی غرض سے اس مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ لوگ قطار باندھے کھڑے ہیں اوران کے ہاتھوں میں کورے کاغذات ہیں۔ ہم نے ان لوگوں سے پوچھا، ’’صاحبو! آپ لوگ کون ہیں، یہاں کیوں کھڑے ہیں اور آپ نے ہاتھوں میں کورے کاغذات کیوں پکڑ رکھے ہیں؟‘‘

اس پرایک نازک اندام نوجوان، جس کے بال بڑھے ہوئے تھے، آگے بڑھا اوربولا، ’’جناب والا! ہم ماڈرن شاعرہیں اور فکرِ شعر میں وقت برباد نہیں کرتے، اس لئے ریڈی میڈ غزلیں خریدنے آئے ہیں اور ہمارے ہاتھوں میں کورے کاغذات اس لئے ہیں کہ ہم ان پرغزلیں لکھوا کر لے جائیں گے۔‘‘

نوجوان کا یہ جواب سن کر ہم آگے بڑھنے لگے تو قطار میں ایک شور بلند ہوا، ’’صاحب! قطار میں ٹھہریئے، ہم تو صبح سے یہاں کھڑے ہیں۔ آپ دیر سے آئے ہیں اس لئے آپ کو قطار میں سب سے پیچھے ٹھہرنا چاہئے۔‘‘

ہم نے شعراء کی ہوٹنگ کا کوئی نوٹس نہ لیا اور کمپنی کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگئے۔ ایک کمرے میں ہمیں اس کمپنی کے پروپرائٹر مسٹر عبدالرحیم وفا نظر آئے جو ہاتھ میں قینچی پکڑے ایک غزل کو کاٹ رہے تھے۔ ہم نے اپنا تعارف کرایا تو بولے، ’’مکرّر مکرّر۔‘‘ ہم نے اپنا دوبارہ تعارف کرایا تو وہ بے حد خوش ہوئے اور بولے، ’’معاف کیجئے، میں ذرا اونچا سنتا ہوں، اسی لئے آپ کو اپنا تعارف مکرر کروانا پڑا۔‘‘ پھر بولے، ’’میں آپ کو اپنی کمپنی کا معائنہ ضرور کراؤں گا۔ مگر آپ کو پانچ منٹ تک انتظار کی زحمت برداشت کرنی ہوگی کیونکہ اس وقت میں ایک غزل کو کاٹ رہا ہوں۔‘‘ پھر جب وہ قینچی لے کر دوبارہ غزل کو کاٹنے میں مصروف ہوگئے تو ہم نے ازراہ تجسس ان سے پوچھا، ’’قبلہ! آپ قینچی سےاس غزل کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟‘‘

وہ مسکراتے ہوئے بولے، ’’بھئی! بات دراصل یہ ہے کہ یہ غزل بڑی بحر میں لکھی گئی ہے اوراب میں اسے کاٹ کراس میں سے چھوٹی بحر کی دو غزلیں برآمد کروں گا کیونکہ میرے پاس وقت بہت کم ہے اور شعرا کے ڈھیروں آرڈرز میرے پاس پڑے ہوئے ہیں۔‘‘

یہ کہہ کر انہوں نےغزل کاٹی اورنوکر کو بلا کر کہا، ’’میاں! یہ غزلیں اسی وقت میوزک ڈائرکٹر کے پاس لے جاؤ اورکہو کہ شام تک ان دونوں غزلوں کا ترنم فٹ ہوجائے کیونکہ آج رات میں مشاعرہ ہے اور جناب ترنم روحانی اس مشاعرہ میں یہ غزلیں پڑھیں گے۔‘‘

ہم نے پوچھا، ’’یہ ترنم روحانی کون ہیں؟‘‘

بولے، ’’ہمارے بہت پرانے گاہک ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے؟ یہ تو ہمارے ملک کے ممتاز شعراء میں شمار کئے جاتے ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ وہ گزشتہ بیس برسوں سے ہماری کمپنی سے غزلیں اور ان کا ترنم خرید رہے ہیں۔‘‘

پھر جناب عبدالرحیم وفاؔ نے اپنی داستان الم انگیز یوں بیان کرنی شروع کردی، ’’جناب والا! میں بچپن ہی سے اس نظریہ کا قائل ہوں کہ شعراءتین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک پیدائشی شاعر، دوسرا موروثی شاعر اور تیسرا نمائشی شاعر۔ پیدائشی شاعر تو وہ ہوتا ہے جو پیدا ہوتے ہی مطلع عرض کرتا ہے یعنی روتا بھی ہے تو علم ِعروض کے اصولوں کو پیش نظر رکھتا ہے۔ اس کے رونے میں بھی ایک ترنم پوشیدہ ہوتا ہے اورابھی دس بارہ سال کا بھی ہونے نہیں پاتا کہ ’صاحب دیوان‘ بن جاتا ہے۔ موروثی شاعر وہ ہوتا ہے جسے شاعری ورثے میں ملتی ہے یعنی اصل میں اس کا باپ شاعرہوتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو اپنے پیچھے قرض خواہوں کے علاوہ غیر مطبوعہ غزلیں اور نظمیں چھوڑ جاتا ہے۔ پس اس کا بیٹا ان غزلوں اور نظموں کو وقفہ وقفہ سے رسائل میں چھپواتا ہے اور موروثی شاعر ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے۔ لیکن شاعروں کی ایک تیسری قسم بھی ہوتی ہے جو نمائشی شاعر کہلاتی ہے۔ سچ پوچھئے تو ان دنوں ہر طرف نمائشی شعراء کی بھر مار ہے جو کہیں سے غزلیں سہ غزلیں لکھوا کر لاتے ہیں انہیں مشاعروں میں پڑھ کر نام کماتے ہیں۔ چونکہ میں ابتداء ہی سے پیدائشی شاعر رہا ہوں اس لئے میں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ بڑا ہو کر ایک ایسی کمپنی قائم کروں گا جہاں سے نمائشی شعراء کو سستے داموں پر غزلیں اور نظمیں فراہم کی جائیں۔ چنانچہ میں نے نہایت قلیل سرمائے سے کمپنی کا آغاز کیا۔ میں نے ایک سکنڈ ہینڈ قلم اور ایک سکنڈ ہینڈ دوات خریدی اور مستقبل کی طرف روانہ ہوگیا۔

ابتداء میں میرا طریقہ کار یہ تھا کہ میں اپنے ہاتھ میں قلم پکڑ کر گلی گلی آوازیں لگاتا پھرتا کہ ’’غزل لکھوائیے، نظم کی اصلاح کروائیے۔‘‘ وہ دن میرے لئے سخت آزمائش کے تھے۔ جب ہر طرف ’پیدائشی شاعر‘ نظرآیا کرتے تھے لیکن رفتہ رفتہ نمائشی شعراء بھی نمودار ہونے لگے اور میرا کاروبار چل پڑا۔ جب میری حالت ذرا سنبھلی تو میں نے ایک ٹھیلہ خریدا اوراس ٹھیلے میں غزلیں، نظمیں، سہرے اور رباعیاں رکھ کر فروخت کرنے لگا۔ رفتہ رفتہ میری گمنامی دور دور تک جاپہنچی اور لوگ دور دور سے غزلیں لکھوانے کے لئے آنے لگے۔ میرا نصیب جاگ اٹھا اور میں اتنا مالدار ہوگیا کہ آج ’غزل سپلائینگ اینڈمینو فیکچرنگ کمپنی‘ کا پروپرائٹر ہوں۔ اب میں نے چار پیدائشی شعرا کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں جو دن رات غزلیں، نظمیں، رباعیاں اور قطعات لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے ایک میوزک ڈائرکٹر کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں جو مختلف غزلوں کا ترنم فٹ کرتا ہے۔ پھر میں نے اپنی کمپنی میں ایک نیا شعبہ بھی قائم کیا ہے جسے ’شعبۂ سامعین‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس شعبے کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ مشاعروں میں سامعین کو روانہ کرے اور کمپنی کی فراہم کردہ غزلوں پر کچھ ایسی داد دے کہ اچھے خاصے نمائشی شاعر پر ’پیدائشی شاعر‘ کا گمان ہونے لگ جائے۔ چنانچہ میں فی سامع سواری خرچ کےعلاوہ دو روپے چارج کرتا ہوں۔ میرا یہ شعبہ بھی دن دونی رات چوگنی ترقی کررہا ہے کیونکہ مشاعرے زیادہ تر راتوں ہی میں منعقد ہوتے ہیں۔ ہمارے سامعین کسی شاعر کے کلام پر اِس زور وشور سے داد دیتے ہیں کہ خود بے چارے شاعر کا کلام کوئی سننے نہیں پاتا۔ اب میں نے ایک ’شعبہ ہوٹنگ‘ بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کمپنی کے مخالفین کے دانت کھٹے کئے جائیں۔‘‘

مسٹر عبدالرحیم وفا ابھی اپنی داستان بیان ہی کر رہے تھے کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی اور وہ ریسیور اٹھا کر کہنے لگے، ’’ہیلو! کون۔۔۔؟ اچھا! شادانی صاحب بات کر رہے ہیں۔‘‘

’’جی ہاں۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ مشاعرہ آج رات میں ہے لیکن میں مجبور ہوں کیونکہ آپ نے ابھی تک دو پرانی غزلوں کی قیمت ادا نہیں کی۔ جب تک پچھلا حساب صاف نہ ہوجائے میں آپ کے لئے ایک شعر بھی نہیں کہہ سکتا۔‘‘

’’کیا کہا! مشاعرہ میں آپ کو معاوضہ ملنے والا ہے، یہ تو مجھے بھی معلوم ہے کہ آپ کو مشاعرہ میں معاوضہ ملتا ہے، گزشتہ بار بھی آپ کو معاوضہ ملا تھا، لیکن آپ نے میری غزلوں کی اجرت ادا کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ آپ مجھ سے پانچ روپے میں ایک غزل لے جاتے ہیں اور اسے مشاعرہ میں پڑھ کر پچیس تیس روپے معاوضہ حاصل کرلیتے ہیں۔ میں کبھی یہ برداشت نہیں کروں گا کہ آپ میری شاعری کے علاوہ میری محنت کا بھی استحصال کریں۔‘‘

اس کے بعد ٹیلیفون پرطویل وقفہ رہا اور شادانی صاحب دوسری طرف سے مسلسل بولتے رہے ۔ اورآخرمیں وفاصاحب جھنجھلاتے ہوئے بولے، ’’دیکھئے، شادانی صاحب، میں آپ کو غزل ضرور لکھ دیتا، لیکن میرے پاس وقت بالکل نہیں ہے کیونکہ مجھے خود صدرِ مشاعرہ کی غزلیں کہنی ہیں۔ بہتر ہے کہ آج آپ مشاعرہ میں نہ جائیں۔‘‘ اس کے بعد وفاصاحب نے بڑے زور سے ریسیور رکھ دیا اور بولے، ’’بدتمیز کہیں کے، جب غزل لکھوانی ہوتی ہے تو یوں منت سماجت کرتے ہیں جیسے کوئی فقیر بھیک مانگ رہا ہو لیکن جب مشاعرے میں میری ہی غزل میرے سامنے پڑھتے ہیں تو میری طرف یوں دیکھتے ہیں جیسے اپنی ذاتی غزل سنا رہے ہوں۔‘‘

پھر وفا صاحب نے اپنے حواس درست کئے اور کہا، ’’میں آپ کو اپنی کمپنی کی داستان تو سنا چکا ہوں، اب آپ میرے پراسپکٹس کا مطالعہ فرمائیے جس سے آپ کو میری کمپنی کی جملہ تفصیلات کا علم ہوجائے گا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے پراسپکٹس ہمارے سامنے پھینک دیا۔ ہم نے موقع کو غنیمت جانا اور ایک پراسپکٹس اپنے ساتھ لے آئے جسے من وعن ہم یہاں نقل کررہے ہیں۔

غزل سپلائنگ اینڈ مینو فیکچرنگ کمپنی پرائیوٹ لمیٹیڈ پراسپکٹس

گاہکوں کے لئےضروری ہے کہ وہ اپنے تخلص کا خودانتخاب کریں۔ ایک بار آپ نے تخلص رکھ لیا توآپ کومکمل شاعر بنانے کی ذمہ داری کمپنی پرعاید ہوگی۔

بیک وقت چارغزلوں کا آرڈر دینے پرایک قطعہ مفت فراہم کیا جائے گا۔

اگر کمپنی کی فراہم کردہ کسی غزل پرمشاعرہ میں ہوٹنگ ہوتواس کی ذمہ داری کمپنی پرعاید نہیں ہوگی۔ ہم غزل کوہوٹنگ سےمحفوظ رکھنے کی ذمہ داری صرف اسی صورت میں قبول کرسکتے ہیں جب آپ ہمارے ’شعبۂ سامعین‘ کی خدمات سے استفادہ کریں۔

غزلوں کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھنے کی ذمہ داری بھی متعلقہ شعراء پر عاید ہوگی۔ کیونکہ کمپنی صرف شعر کہتی ہے، شعراء کو‘قاعدہ’نہیں پڑھا سکتی۔

بڑی بحر کی غزل کے پانچ اشعار کی قیمت دس روپے اور چھوٹی بحر کی غزل کی پانچ روپے ہوگی۔ اگر کوئی صاحب صرف ایک مصرعہ خریدنا چاہتے ہوں تو ان سے پورے شعر کی اجرت وصول کی جائے گی۔

اگر کوئی صاحب کمپنی ہذا سے آزاد نظمیں لکھوانا چاہتے ہوں تو انہیں اپنی دماغی صحت کے بارے میں سب سے پہلے طبی صداقت نامہ پیش کرنا ہوگا۔

اگر کوئی صاحب ’سہرا‘ لکھوانا چاہتے ہوں تو واضح ہوکہ کمپنی سہرا نگاری کی بھاری اجرت وصول کرتی ہے کیونکہ دوسروں کی شادی پر خوشی کا اظہار کرنا ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔

کمپنی ہذا نے گاہکوں کے لئے غزلیں کرایہ پر دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ لیکن کوئی غزل چوبیس گھنٹوں سے زیادہ عرصہ کے لئے اپنے پاس نہ رکھی جائے کیونکہ جب سائیکلیں کرایہ پردی جاتی ہیں تو انہیں بھی اسی شرط کے ساتھ کرایہ پردیا جاتا ہے۔

گاہکوں کو غزلوں کی قیمت نقد ادا کرنی ہوگی کیونکہ شعراء کو ادھار غزلیں دینا، دنیا کی سب سے بڑی غلطی ہے۔

ہم نے گاہکوں کی سہولت کی خاطر پرانی غزلوں کی رپیرنگ کا بھی بندوبست کیا ہے لیکن یہ غزلیں اتنی پرانی، بوسیدہ اور شکستہ بھی نہیں ہونی چاہیئں کہ ان کی رپیرنگ پر نئی غزل کی لاگت آجائے۔

ایک بار فروخت کی ہوئی غزلیں واپس نہیں لی جائیں گی۔ البتہ مستعمل غزلیں نصف قیمت پرخریدی جائیں گی۔

ہم نے کمپنی کے پراسپکٹس کو بغور پڑھا اور مسٹر عبدالرحیم وفا سے اجازت لے کر واپس آگئے۔ اب ہم عوام کی اطلاع کے لئے اسے شائع کر رہے ہیں تاکہ جو کوئی بھی صاحب خواہ مخواہ شاعر بننے کی تمنا رکھتے ہوں وہ شاعری کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھولیں اور یوں سارے پانی کو گندہ کردیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں