معجزوں کا انتظار کرنے والی قوم…..یاسر پیر زادہ

Spread the love

ہو سکتا ہے کوئی معجزہ ہو جائے اور کورونا وائرس کی ویکسین جامعہ دینیہ کراچی کا کوئی طالب علم دریافت کر لے، اِس بات کا امکان بھی ہے کہ ریاض میں قائم کالج برائے دوا سازی کا کوئی ڈاکٹر یہ ویکسین ایجاد کرکے دنیا میں تہلکہ مچا دے اور یہ بھی ممکن ہے کسی ولیٔ کامل پر اِس ویکسین کا فارمولا القا ہو جائے یا ہماری جامعات میں سے ٹیلنٹ سے ابلتا ہوا کوئی نوجوان کسی دن اچانک یہ اعلان کرکے دنیا کو حیران کردے کہ اُس نے کووڈ 19علاج تلاش کر لیا ہے۔
پھر ہم فرطِ جذبات سے اُس کا منہ چوم چوم کر ہی مار دیں مگر ہم سب جانتے ہیں کہ اِن سب باتوں کا امکان نا ہونے کے برابر ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو مجھ سمیت ہر بندہ یہ ویکسین استعمال کرے گا۔
بالکل اسی طرح جیسے کورونا وائرس کی ویکسین اگر کسی کافر ملک میں تیار ہوئی تو ہم سب بلا چون چراں اس کے ٹیکے لگوا لیں گے! وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم سب کے دل میں چور ہے، ہمیں اچھی طر ح علم ہے کہ کووڈ 19بیماری کا علاج ویکسین میں ہے اور یہ ویکسین اگر کہیں ایجاد ہوئی تو وہ کافروں کے ملک کی کسی لیبارٹری میں ہو گی نہ کہ گورنمنٹ ڈگری کالج درہ آدم خیل میں۔
امریکہ کی لیبارٹری میں ایک ’’بےحیا‘‘ عورت آزمائشی ویکسین کا ٹیکہ لگوا چکی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ ویکسین کس حد تک موثر ثابت ہوگی! وہ بےحیا عورت جہنم میں جائے گی جبکہ ہم کافر کی ویکسین استعمال کرکے جنت میں جائیں گے !!!
سوال یہ نہیں کہ کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم میں، کیونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالی ٰ نے یومِ آخرت پر کرنا ہے، اللہ نے کسی انسان کو اِس کا اختیار نہیں دیا۔
سوال یہ ہے کہ جو بات ہمارے دل میں ہے وہ ہم زبان پر کیوں نہیں لا رہے، جب ہمیں یہ علم ہے کہ اِس وبا کا تدارک سائنسی علوم کی مدد سے ہی ہوگا اور ہر مولوی اور مسٹر نے ویکسین ہی استعمال کرنی ہے، زاہدہ اور فاحشہ کو بھی دوا سے ہی آرام آنا ہے اور درویش اور دنیادار بھی ٹیکہ لگوا کر ہی جان بچا پائیں گے تو پھر مختلف تاویلات سے لوگوں کو گمراہ کیوں کر رہے ہیں؟
اِس کے جواب میں یہ استدلال دیا جاتا ہے کہ مذہب کسی کو سائنسی تحقیق سے نہیں روکتا، کوئی شخص سائنس کی ایجادات کا مخالف نہیں، ہم سب ان ایجادات سے استفادہ کرتے ہیں، کوئی مذہبی عالم یہ نہیں کہتا کہ جامعات میں سائنسی علوم پر پابندی لگا دینی چاہیے کہ یہ خلافِ دین ہیں، مذہب کا کوئی پیروکار یہ نہیں دعوی ٰ نہیں کرتا کہ وبا کا علاج صرف دعا میں ہے اور تو اور اب تو مدرسوں میں بھی ریاضی، طبیعات اور دیگر سائنسی علوم پڑھائے جاتے ہیں۔
مذہب اور سائنس کو آمنے سامنے کھڑا کرنے کی ضرورت ہی نہیں، مذہب تو صرف انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیاوی اسباب سے ماورا بھی ایک قوت ہے جو اِس کارخانۂ ہستی میں کارفرما ہے، ایک خیال اُس کا بھی رہے، سائنس اور مذہب کے مابین کوئی جھگڑا نہیں۔ اِس دلیل میں وزن تو ہے مگر اِس حد تک کہ مذہب ہمیں سائنسی تحقیق سے نہیں روکتا، پھر مسئلہ کیا ہے؟
مسئلہ سائنسی سوچ اور سائنسی ماحول کا فقدان ہے۔ ملک میں جیسا ماحول ہوگا ویسے لوگ پیدا ہوں گے۔ یہ ممکن نہیں کہ ملک کے شارح دین یہ بتائیں کہ وبائیں/ آفتیں ہمارے گناہوں کی سزا ہیں اور اِن سے بچاؤ کا طریقہ خدا سے دعا ہے اور ساتھ ہی ہماری لیبارٹریوں میں وبائی امراض پر سائنسی اصولوں پر تحقیق بھی کی جا سکے۔
یہ ممکن نہیں کہ ہم ملک میں شدت پسندی کی پنیری لگائیں اور پھر یہ امید رکھیں کہ اِس کے نتیجے میں خود کُش بمبار کے بجائے بو علی سینا پیدا ہوگا۔ یہ ممکن نہیں کہ ہم سوال کرنے پر قدغن لگائیں اور پھر یہ خوش فہمی رکھیں کہ ہمارے ہاں نظریہ ارتقا پر کوئی قابلِ قدر مقالہ لکھا جا سکے گا۔
بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں دلی میں شعرا کی جس طرح سرپرستی کی جاتی تھی اُس کے نتیجے میں غالب/ ذوق نے ہی پیدا ہونا تھا، ہم نے اِس ملک میں کرکٹ کی سرپرستی کی اور بہترین کرکٹر پیدا کیے، یہی کلیہ سائنس اور دیگر علوم کے لیے بھی ہے۔
اگر مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق کی آزادی ہوتی تو آج ہم منہ اٹھاکر کافروں کی شکل نہ دیکھ رہے ہوتے، درہ آدم خیل کے کالج میں تو فنڈز کی کمی کا رونا رو کر ہم اپنی ناکامی کا جواز تراش لیں گے مگر جن عرب ممالک کی جامعات میں ڈالروں کی برسات ہوتی ہے، وہاں آج تک کیا ایجاد ہوا! دراصل آج ہم مذہب کی جو تعبیر پیش کر رہے ہیں اُس کے نتیجے میں سائنسدان نہیں خطیب یا زیادہ سے زیادہ مبلغ ہی پیدا ہوں گے۔
ہماری یہ خوش فہمی ہے کہ ہم خدا کی پسندیدہ قوم ہیں اور چونکہ ہم نے یہ راز پا لیا ہے کہ یہ وبا ہمارے گناہوں کی پاداش میں عذاب/ سرزنش کے طور پر آئی ہے اِس لیے اجتماعی اور انفرادی مغفرت کے نتیجے میں اِس سے چھٹکارا مل جائے گا اور یہ چھٹکارا کسی دوا اور ویکسین کی صورت میں ہی ہوگا۔
یہ سوچ خدا کے بتائے ہوئے طریقے سے مطابقت نہیں رکھتی، یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم محض دعویٰ کرکے بیٹھ جائیں کہ مذہب ہمیں سائنسی تحقیق سے نہیں روکتا، اگر نہیں روکتا تو پھر مسلمان تحقیق اور غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔
ہم غور و فکر اِس لیے نہیں کرتے کیونکہ ہم نے یہ غیرسائنسی سوچ اپنا لی ہے کہ اِن دنیاوی آفات کے پیچھے دراصل ما بعد الطبیعاتی عوامل کارفرما ہیں، اگر یہ سوچ ہوگی تو پھر ہم طبیعات کی دنیا سے اِس کا علاج نہیں کر پائیں گے، یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی بات کی وجہ تو روحانی یا غیبی ہو اور اُس کا علاج کفار کی لیبارٹری میں کسی بےپردہ خاتون پر تجربہ کرکے تلاش کیا جا سکے۔
منطق کی زبان میں اسے قانون تضادات کہتے ہیں، یعنی دو متصاد نظریات ایک ہی وقت میں درست نہیں مانے جا سکتے۔ ہم چونکہ وہ قوم ہیں جو ایک ہی وقت میں سنی لیون اور مولانا طارق جمیل، دونوں کے پرستار ہیں، اِس لیے ہم سے کچھ بھی بعید نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں