میر تقی میر … اسلم فرخی

Spread the love

علیم اللہ جب قاضی کے حوض پر کہ گزرگاہ خاص و عام ہے پہنچا، تو اس جوان کو وہاں بیٹھے دیکھ کر ٹھٹک گیا، جس کے چہرے سے مایوسی ،آنکھوں سے غم ،چین پیشانی سے ،کچھ خفّت کچھ جھنجھلاہٹ، لباس سے افلاس، حلیے سےاضمحلال اور طرزِ نشست سے لا ابالی انداز کااظہار ہو رہا تھا۔ غور سےدیکھا تو جنون کی سی کیفیت، دیوانگی کا طور، مسکینی اور انانیت دونوں کاامتزاج ۔ سراپا میں جس جا نظر کیجیے یہ محسوس ہوتا تھا کہ گردشِ روز گار کا مارا ہوا، حالات کی بے رحمی کاشکار، ایک افسردہ دل نوجوان ہے کہ تھک کر سر راہ ٹھہر گیا ہے۔ مگر اس انداز میں بھی ایک آن پائی جاتی ہے۔ ویسے تو سارا شاہ جہاں آباد ہی ان دنوں افسردگی اور اضمحلال کا شکار تھا مگر جوجوان کی افسردگی بطون سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ علیم اللہ لمحے بھر کے لیے ٹھٹکا اور پھر نوجوان کو پہچان گیا۔ وہ بڑے ادب سے اس کی طرف بڑھا۔ سلام کیا اور خیریت دریافت کی۔ نوجوان نےاسے غور سے دیکھا۔ سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا، ‘‘بھائی تم مجھے کیسے پہنچاتے ہو۔’’ علیم اللہ نےجواب دیا، ‘‘میر صاحب آپ کا سودائیانہ طرز تو سارے شہر میں مشہور ہے۔ آپ کو کون نہیں پہچانتا۔ مگر یہ سرراہ تشریف رکھنے کا کیا سبب ہے۔ آپ کا حقیقی مقام دلِ احباب ہے اور آپ رہ گزر پر بیٹھے ہیں۔’’

علیم اللہ کا اتنا کہنا تھا کہ میر صاحب کی آنکھوں کے سامنے حرماں نصیبی کی پوری تصویر عیاں ہوگئی۔ والد کی بے بضاعتی اور درویشی، گھر کا درویشانہ ماحول، گیارہ برس کی عمر میں والد کے سائے سے محروم ہوجانا، سوتیلے بڑے بھائی کی بدسلوکی اور بے مہری، چھوٹے بھائی اور بہن کی کفالت، فکرِ معاش میں دلّی کا سفر، والد کے ایک عقیدت مند نواب صمصام الدولہ کی بارگاہ سے ایک روپیہ روز وظیفہ مقرر ہونا، حملۂ نادری میں صمصام الدولہ کا زخمی ہونا اور پھر ان کاانتقال، وظیفہ کی بندش، بارد گر دلّی، سراج الدین علی خان آرزوؔ کے یہاں قیام، جنوں میں مبتلا ہونا، آرزو کی شاگردی، ان کے ایما سے شعر و شاعری کی مشق، سودائیانہ طور میں اضافہ، مہتاب میں ماہتابی شکل کانظر آنا، عشق کا وفور، شہرتِ شاعری کا ظہور، دیوانگی کا چرچا، سخن والی کا شہرا پھر آرزو کی خفگی اور فہمائش کہ ایک نامور بزرگ اور پابند وضع انسان کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری تھی۔ اپنی بے چارگی کا احساس، نازک مزاجی، معاشی الجھن اور پھر آج کا تازہ واقعہ کہ آرزو نے بھرے دسترخوان پر سب کی موجودگی میں نصیحت شروع کردی۔ نصیحت یا فضیحت اور اپنا برا فروختہ ہوکر دسترخوان سے اٹھ آنا اور سر راہ بیٹھ جانا۔ سارے واقعات یکے بعد دیگرے آنکھوں کے سامنے پھر گئے مگر کہتے توکیا:

صبر بھی کریے بلا پر میرؔ صاحب جی کبھو

جب نہ تب رونا ہی کڑھنا یہ بھی کوئی ڈھنگ ہے

علیم اللہ پاس ہی بیٹھ گیا اور اگلے دن غم زدہ میرؔ کو قمرالدین خان کے یہاں لے گیا جن کے توسط سے وہ میر رعایت خان کے متوسلین میں شامل ہوگئے۔ ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا۔

محمد تقی میرؔ کہ جنھیں اردو شاعری ‘‘خدائے سخن’’ کے لقب سے پہچانتی ہے، اکبر آباد میں پیدا ہوئے۔ درویشانہ ماحول میں آنکھ کھولی۔ والد محمد علی متقی خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ بیٹے کو یہی سمجھاتے تھے کہ بیٹا عشق اختیار کرو۔ یہی کائنات کا نور، تخلیق کا وفور اورانسان کا شعور ہے۔ ان کے انتقال سے میرؔ کے لیے مصائب و آلام کے دور کا آغاز ہوگیا۔ جوں توں زندگی گزاری۔ خانِ آرزوؔ نے ذہنی تربیت بھی کی۔ شعر و شاعری کی طرف متوجہ بھی کیا اور فن کے رموز و نکات بھی سمجھائے۔ جنوں، میرؔ کا خاندانی مرض تھا۔ ان کے ایک چچا اسی مرض کی نذر ہوئے تھے۔ میرؔ بھی اس میں مبتلا ہوئے۔ نوجوانی ہی میں زندگی نے پے بہ پے ایسے سبق سکھائے کہ میرؔ کو اعتراف کرنا پڑا:

زیر فلک بھلا تو رووے ہے آپ کو میرؔ

کس کس طرح کا عالم یاں خاک ہوگیا ہے

دور وہ تھا کہ ہر چیز بے نشان ہوئی جارہی تھی۔ کیا عظیم الشان مغلیہ سلطنت۔ کیا شاہ جہاں آباد کی رونق اور آبادی۔ کیا امرا اور وزرا، کیا اہلِ حرفہ اور کیا لشکری، سب کے سب معدوم ہوئے جارہے تھے۔ ایک اضطراب تھا۔ عالم گیر بے چینی تھی۔ معاشی بدحالی تھی۔ اعتماد ختم ہوگیا تھا۔ سیاسی انتشار تھا۔ افغان، مرہٹے، جاٹ، روہیلے سبھی پایۂ سخت کو روند رہے تھے۔ میرؔ کی حساس طبیعت کو اس ماحول نےاور زیادہ حساس بنادیا۔ اندرونی ماحول اور بیرونی فضا دونوں نے میرؔ کی غم پسندی میں اضافہ کیا۔ وہ ساری زندگی اس کا اظہار کرتے رہے۔ آرزو سے علاحدہ ہوکر میر رعایت خان کے متوسلین میں شامل ہوئے۔ چاروناچار دن گزارے کہ طبیعت کی افتاد سے مجبور اور نازک مزاجی کی وجہ سے ظاہر بینوں کی نگاہ میں مغرور تھے۔ رعایت خان نے کہا، اس لڑکے کو اپنے چند شعر یاد کرادیجیے تاکہ یہ انھیں ساز پرگائے۔ وقار شعر کے علم بردار میر کو یہ بات بہت ناگوار گزری۔ اس لڑکے کو کچھ شعر تو لکھ کر دے دیے مگر دو تین دن بعد خانہ نشین ہوگئے۔ رعایت خان نے پھر بھی رعایت برتی کہ میر کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی کو ملازم رکھ لیا۔ ملازمت میں یہ طنطنہ میر ہی کے یہاں تھا کہ تم امیر ہو تو ہم بھی میر ملک سخن ہیں۔ تم سے کسی طرح کم نہیں۔

مجھ کو دماغِ وصفِ گل و یا سمن نہیں

میں جوں نسیم باد فروشِ چمن نہیں

مختلف امرا کی ملازمت میں رہے۔ راجا جُگل کشور، راجا ناگر مل، نواب بہادر جاوید خان۔ شعر و شاعری بھی کی، سفارتی امور بھی انجام دیے۔ دربار دار بھی رہے مگر:

زمانے نے رکھا مجھے متصل

پراگندہ روزی پراگندہ دل

امیروں کا حال کون سا اچھا تھا۔ جاوید خان قتل ہوئے، راجا جُگل کشور معاشی بدحالی کا شکار ہوا۔ ناگرمل سے میر خود علاحدہ ہوئے، عجیب افرا تفری کا عالم تھا۔

شہاں کہ کحل جواہر تھی خاک پا جن کی

انھوں کی آنکھوں میں پھرتی سلائیاں دیکھیں

میر جب تک دلّی میں رہے شاہی دربار سے بھی کچھ نہ کچھ آتا رہتا تھا۔ لیکن شاہی دربار کیا، ایک درگاہ رہ گئی تھی جس کاتکیہ دار خود بادشاہ تھا۔ دلّی کے صاحبانِ کمال فضال کی اس بے یقینی سے دل برداشتہ ہوکر شہر چھوڑے جارہے تھے۔ استاد الاساتذہ سراج الدین علی خان آرزو لکھنؤ چلے گئے۔ مرزا محمد رفیع سودا کہ سر خیالِ شعرائے شاہ جہاں آباد تھے، لکھنؤ چلے گئے۔ میر سوز بھی لکھنؤ چلے گئے، دلّی اجڑ رہی تھی، لکھنؤ آباد ہو رہا تھا کہ وہاں داخلی اور بیرونی کش مکش نہ تھی۔ جان و مال کا تحفظ تھا، در و دیوار سے شعر و نغمہ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ آصف الدولہ کی داد و دہش سے گھر گھر دولت کی گنگاہ بہہ رہی تھی۔ نئی تراش خراش، نئی وضع، ایک نیا طرزِ احساس، ایک نیا تہذیبی مرکز وجود میں آچکا تھا۔ سوداؔ کا انتقال ہوا تو آصف الدولہ کو خیال ہوا کہ اگر میر لکھنؤ آجائیں تو لکھنؤ کی شعری حیثیت نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ اس میں اضافہ بھی ہوگا۔ چناں چہ آصف الدولہ کے ایما سے نواب سالار جنگ نے زادِ راہ اور طلبی کا پروانہ بھجوادیا۔ میر لکھنؤ کے لیے روانہ ہوگئے۔ راستے میں فرخ آباد کے نواب نے انھیں صرف چھ دن کے لیے روکنا چاہا مگر میر ہوائے شوق میں اڑ رہے تھے، رُکے نہیں۔ حسن افزا منزل کے مشاعرے میں ‘‘ہستی اپنی حباب کی سی ہے۔ یہ نمائش سراب کی سی ہے’’ پڑھ کر آگے برھ گئے اور لکھنؤ پہنچے۔ یہ واقعہ ۱۱۹۶ھ کا ہے، میر اس وقت ساٹھ برس کے ہوچکے تھے اور اب یہ راقم آثم کہ اردو ادب کے البیلے انشا پرداز مولوی محمد حسین آزاد کا سوانح نگار بھی ہے اور خوشہ چیں بھی، الفاظ کے رنگ و آہنگ اور تخئیل کی تجسیم کے اس باکمال مصور کے نگار خانے کی ایک تصویر آپ کی نذر کرتا ہے اور سلسلہ سخن کو یوں رونق دیتا ہے کہ ‘‘لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا کہ مسافروں کا دستور ہے ایک سرا میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں ایک جگہ مشاعرہ ہے، رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ان کی وضع قدیمانہ، کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا جامہ، ایک پورا تھان پستو لیے کا کمر سے بندھا۔ ایک رومال پٹری دار تہہ کیا ہوا اس میں آویزاں، مشروع کا پاجامہ جس کے عرض کے پائنچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخلِ محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنؤ نئے انداز، نئی تراش، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انھیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے۔ میر صاحب بے چارے غریب الوطن، زمانے کے ہاتھ پہلے ہی دل شکستہ تھے اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ شمع ان کے سامنے آئی تو پھر سب کی نظر پڑی اور بعض اشخاص نے پوچھا، حضور کا وطن کہاں ہے۔ میر صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا:

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

اس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

سب کو حال معلوم ہوا۔ بہت معذرت کی اور میر صاحب سے عفوِ تقصیر چاہی، صبح ہوتے ہوتے شہر میں مشہور ہوگیا کہ میر صاحب تشریف لائے۔

آزاد کے نگار خانے کا ورق ختم ہوا۔ میر صاحب آصف الدولہ کے یہاں حاضر ہوئے۔ آصف الدولہ لطف و کرم سے پیش آئے۔ دو سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر ہوا۔ نواب بہادر جاوید خان کے یہاں بائیس روپے ماہوار ملتے تھے اور میر صاحب خوش تھے کہ روزگار کی صورت برقرار ہے، اب دو سو ملتے ہیں اور میر صاحب فریاد کرتے ہیں۔

خرابہ دلّی کا وہ چند بہتر لکھنؤ سے تھا

وہیں میں کاش مرجاتا سراسیمہ نہ آتا یاں

لکھنؤ میں میر صاحب نے عمرِ عزیز کے اکتیس برس گزارے۔ دلّی میں دل کی بربادی کے نوحے تھے، لکھنؤ میں دل اور دلّی دونوں کے مرثیے کہتے رہے:

لکھنؤ دلّی سے آیا یاں بھی رہتا ہے اداس

میر کو سر گشتگی نے بیدل و حیراں کیا

۲۰ستمبر ۱۸۱۰ء کو نوّے برس کی عمر میں میر صاحب کا انتقال ہوا:

مرگِ مجنوں سے عقل گم ہے میر

کیا دوانے نے موت پائی ہے

میر کو شعر و شاعری کی جانب آرزو نےمائل کیا تھا۔ آرزو ہی کی رہنمائی میں میر نے شاعری کی ابتدائی منزلیں طے کیں ورنہ عین ممکن تھا کہ میر ساری زندگی دیوانہ پن میں گزار دیتے:

کہتا تھا کسی سے کچھ تکتا تھا کسو کا منھ

کل کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا

آرزو نے میر کی دیوانگی کا رُخ موڑ کر اسے ایک نئی جہت دے دی۔ ایک دن خانِ آرزو نے کہا، آج مرزا رفیع سودا آئے تھے۔ اپنا یہ مطلع بڑے فخر کے ساتھ سناگئے:

چمن میں صبح جو اس جنگجو کانام لیا

صبا نے تیغ کا آبِ رواں سے کام لیا

میر نے یہ سن کر فی البدیہہ کہا

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

آرزو یہ مطلع سن کر خوشی سے اچھل پڑے اور کہنے لگے، ‘‘خدا نظر بد سے محفوظ رکھے۔’’ جلد ہی میر کی شاعری کا سارا شہر میں شہرا ہوگیا۔ شہر بھی کوئی ایسا ویسا نہیں، پایہ تخت دارالحکومت۔ جہاں شاہ حاتم موجود تھے۔ حضرت مرزا مظہر جانجاناں مرکزِ رشد و ہدایت تھے، یقین، تاباں، سودا، مرزا محمد رفیع سودا۔ حضرت خواجہ میر درد کہ فرماتے تھے ‘‘میر تو میر مجلس خواہی شد۔’’ بڑے بڑے باکمال موجود تھے۔ ان کی موجودگی میں کمالِ فن کااظہار اور وہ بھی اس طرح کہ ہر شخص اس کمال کو پوری طرح محسوس بھی کرے اور اس کا اعتراف بھی کرے، میر ہی کا حصہ تھا۔ میر بھی وہ کہ جن کا سودائیانہ طرز مشہور تھا، جن کی انانیت اہلِ سخن کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، جن کی درویشی میں شاہی کا انداز تھا۔ جن کا سخن خاص پسند ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کے جذبات کا مظہر بھی تھا، اہلِ سخن سے نوک جھونک بھی ہوتی، چھیڑ چھاڑ بھی چلتی رہتی۔ سارا شہر ایک طرف، میر تنہا ایک طرف۔ ‘‘چابک سواراں یک طرف۔ مسکینِ گداہا یک طرف۔’’ میر دل تنگ بھی ہوتے۔ ایک دفعہ ایک مثنوی لکھی۔ اژدرنامہ۔ اپنے آپ کو اژدر تصور کیا اور دوسرے شعرا کو سانپ، بچھو، چوہا، کن کھجورا وغیرہ ٹھہرایا اور یہ دکھایا کہ اژدر نے دم بھرا تو سب کے سب فنا ہوگئے۔ یہ مثنوی ایک مشاعرے میں پڑھی گئی۔ سب نے سنی، سب نے اس راست زد کو محسوس کیا۔ شمع میر محمد اماں نثار کے سامنے آئی تو ایک قطعہ پڑھا کہ مقطع اس قطعے کا یہ تھا:

حیدرِ کرارؓ نےوہ زور بخشا ہے نثار

ایک دم میں دو کروں اژدر کے کلےّ چیر کر

نثار نے اژدر کے کلےّ توبہ اعانتِ زورِ حیدری چیر دیے لیکن میر کی شہرت پر لگا کر اڑتی رہی اور دیکھتے ہی دیکھتے مجلسوں میں میر بے دماغ کہلانے والے محفل سخن کے مسند نشین ہوگئے۔ مسند نشین اور بھی تھے۔ میر تو اتنے اونچے اڑے، اتنے اونچے اڑے کہ عرشِ سخن پر جاپہنچے اور خدائے سخن کہلائے:

ریختہ رُتبے کو پہنچایا ہوا اس کا ہے

معتقد کون نہیں میرؔ کی استادی کا

اردو شاعری میں خدائے سخن ایک ہی ہے اور وہ محمد تقی میر ہیں۔ وحدت میں جس کی حرف دوئی کا نہ آسکے۔ میر کو یہ رُتبہ کیسے حاصل ہوا۔ یہ بات غور طلب ہے اور اسی غور و فکر سے ہمیں اپنے سوال کا جواب مل جائے گا مگر اس غور و فکر کا محور میر کی شاعری ہے اور کسی حدتک ان کی شخصیت بھی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے مل جل کر تخلیق کی سطح، پھر معنویت کی ایک نئی دنیا پیش کرتےہیں۔

میر طبعاً درویش تھے، مسکین تھے، صبر و رضا، توکل اور قناعت ان کا شعار تھا۔ دنیا کی بے ثباتی، انقلابِ زمانہ اور نیرنگیِ دوراں کا تجربہ انھیں نوعمری میں ہوگیا تھا۔ اپنوں کو پرایا ہوتے ہوئے دیکھنا، بنی کا بگڑجانا، یہ سب میر کے الم ناک ذاتی مشاہدات میں شامل تھا۔ سیاسی انتشار، بدنظمی اور اہلِ کمال کی بے وقعتی نے انھیں اور زیادہ متاثر کیا۔ ذاتی حالات الم انگیز، معاشرتی حالات غم خیز۔ سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا۔ سچا شاعر شعر میں اپنی بپتا کو آفاقی صداقت کے روپ میں ڈھال کر پیش کرتا ہے۔ میر نے بھی یہی کیا۔ ان کی شاعری شخصیت اور حالات کا بہترین اظہار ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ میر یاس پسند ہیں۔ روتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں، معمولی باتوں کو اس تاثیر کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ ہر سننے والا دل تھام کر رہ جاتا ہے۔ عشق کے پردے اور پیرائے میں زندگی کے حقائق بیان کرتے ہیں، اپنی ذاتی واردات کو ہر حساس انسان کے دل کی دھڑکن بنادیتے ہیں۔ میر صاحب کے بارے میں یہ اور اس طرح کی بے شمار باتیں کہیں جاتی ہیں اور یہ سب صحیح بھی ہیں۔ مگر ‘‘وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہیں۔’’ یہ ہے کہ میر صاحب سے مل کر، انھیں سن کر اور انھیں پڑھ کر ایک طرح کا تزکیۂ نفس ہوتا ہے۔ تزکیۂ نفس حضرات صوفیا کی اصطلاح ہے اور ایک خاص مفہوم پر محیط ہے۔ میر کے کلام سے جو تزکیہ ہوتا ہے وہ یہ کہ ان کو پڑھ کر، ان کے سوز میں ڈوبے ہوئے اشعار سن کر جذبات کی شدت اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ رحم اور خوف کی آویزش، امید و بیم کی کشمکش، جذبا ت کو ٹھنڈا کرکے قاری کا تزکیہ کردیتی ہے اور وہ خود کو بہتر اور پاکیزہ تر محسوس کرتا ہے۔ میرکو پڑھنا شروع کیجیے۔ قدم قدم پر ایسے اشعار ملیں گے جن سے قاری کے دل کا چور نکل جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو نئی توانائی کا حامل محسوس کرتا ہے۔ یہ وصف اردو کے دوسرے شاعروں میں بھی ملتا ہے مگر کم کم۔ میر کی طرح نہیں۔ میر کے غم سے عظمت کا ایک احساس بیدار ہوتا ہے۔ یہ ہمیں پستی کی طرف نہیں لے جاتا۔ اس میں ارتفاع ہی ارتفاع ہے۔

میر صاحب یوں تو استادِ سخن تھے۔ مثنوی، قصیدہ، مرثیہ، ہجو سب کچھ کہا ہے لیکن غزل اور مثنوی سے انھیں خصوصی مناسبت تھی۔ میر کے عہد میں اردو غزل اپنی روایت میں پختہ ہوچکی تھی۔ میر نے اس روایت کو پختہ ترکیا۔ زبان و بیان میں فارسی کے اثر سے آزاد ہوکر عوامی سطح پر گفتگو کی۔ میٹھی اور نرم زبان، سادہ اور دل کش اندازِ بیان، انفرادیت کی گہری چھاپ۔ جی چاہتا ہے کہ یہاں ایک مثال سے سلسلۂ کلام کو آگے بڑھایا جائے۔ خواجہ حافظ فارسی شاعری کے خدائے سخن ہیں۔ مستی سرشاری، بے خودی ان کا شیوہ اور مجاز میں حقیقت کا طرفہ ماجرا ان کا شعار ہے۔ خواجہ صاحب کی ایک مشہور غزل ہے۔

عیش مدام است از لعل دل خواہ

کارم بکام است الحمدللہ

بقول سخن ورانِ قدیم، مطلع نہیں مطلعِ آفتاب ہے کہ خدائے سخن کی انفرادیت کی گہری چھاپ سے نور ہی نور ہے۔ اساتذہ فن بالعموم دوسرے اساتذہ کی زمینوں میں خامہ فرسائی نہیں کرتے، بقول انیسؔ:

بھلا تردّد بے جاسے ان میں کیا حاصل

اٹھا چکے ہیں زمین دار جن زمینوں کو

مگر اردو کا خدائے سخن بھی پیچھے نہیں رہا۔ اٹھائی ہوئی زمین میں اپنی انفرادیت اس طرح نمایاں کرگیا کہ زمین سخن ملک سی ہوگئی۔ میر صاحب کہتے ہیں:

اب حال اپنا ہے اس کے دل خواہ

کیا پوچھتے ہو الحمدللہ

اس مطلعے میں میر کی پوری شخصیت، ان کی شاعری کا پورا حسن اور توانائی جلوہ گر ہے۔ ایک ٹھنڈی سانس، شیوہِ تسلیم و رضا، سپردگی، زندگی کی پوری کش مکش۔ قاری کے لیے تطہیر نفس۔ ‘‘اگر جاناں بدیں شاد است یارب پارہ تر بادا’’ امیر خسرو جیسے درویش نے کہا تھا۔ میر تو فنافی المحبوب ہوگئے ہیں۔ ان کی الحمدللہ میں زہر خند نہیں۔ صبر و شکر ہے اور جب مطلعے کے ساتھ ہم غزل کے اس شعر کو بھی پڑھتے ہیں:

اوّل کہ آخر ظاہر کہ باطن

اللہ اللہ اللہ اللہ

تو میر کے صبر و رضا اور شیوۂ تسلیم کی اساس پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ میر اردو غزل کی روایت کے بہترین نمائندے ہیں۔ اردو غزل پر ان کی انفرادیت کی چھاپ بڑی گہری اور ہمہ جہت ہے۔ ان کے نغمے دل موہ لیتے ہیں۔ دل کی گہرائی میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ سادہ سے اشعار عام فہم انداز۔ انسانی نفسیات کا باکمال مشاہدہ، عشق کی شوریدہ سری، حسن کی دلیری، مطالعہِ کائنات میں دیدہ وری۔ حقائق کے ادراک میں آفاقیت، نرمی، دل آویزی۔ میر کی غزل میں کیا نہیں ہے۔ جو کچھ ہے اردو غزل کا سرمایۂ افتخار ہے۔ غزل عجیب صنفِ سخن ہے۔ داخلیت میں ڈوبی ہوئی، بظاہر بے ربط اور ایک دوسرے سے غیر متعلق اشعار کا مجموعہ ہے۔ بباطن بندھے ہوئے موتیوں کی لڑی۔ ہر شعر میں ایک جہانِ معنی اور تمام اشعار میں بحیثیت مجموعی جذبات و واردات کا ایک جہانِ نادیدہ جس کے وجود کو ہم سب محسوس کرتے ہیں۔ میر کی غزل میں یہ جہانِ نادیدہ، دیدنی بن گیا ہے۔ یہ ایسی دنیا ہے جو ہماری اپنی دنیا سے زیادہ بہتر، زیادہ خوش تر اور زیادہ معنی خیز ہے۔ میر کی یہ دنیا بڑی پُرکشش ہے۔ ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ہمیں اپنا بنالیتی ہے۔ میر کی کوئی غزل پڑھیے اس میں ایک معنوی وحدت ملے گی، ایک مخصوص مزاج ملے گا۔ زندگی کا سلیقہ اور انسانیت کی آبرو ملے گی:

پڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھے

رہے گا دیر تک ماتم ہمارا

میر کی مثنویوں میں بھی غزل ہی کی داخلیت کا رنگ و آہنگ ہے۔ مثنویاں میر کی شعری شخصیت کا بہترین اظہار ہیں۔ کچھ آپ بیتی کچھ جگ بیتی۔ سوز عشق کے حوالے سے شوریدگی اور شوریدہ سری کے حوالے سے، دل دوز اور خوں چکاں، ناکامی اور مایوسی کاتابندہ نشاں، میر کے تصور عشق کاتوسیعی بیان۔ ان مثنویوں سے بھی پڑھنے والے تطہیر کی منزلوں سے گزرتے ہیں اور ایک نئے حوصلے سے آشنا ہوتے ہیں۔

یہ بھی میر کی زندگی کا المیہ ہے کہ وہ اکتیس برس لکھنؤ میں رہے لیکن وہاں کی فضا اور مزاج سے ہم آہنگ نہ ہوسکے۔ میر بجھتے چراغوں، کمھلائے پھولوں، ڈوبتی خوشبو اور ماند پڑے رنگوں کے خوگر تھے۔ محفل میں اجالا دیکھ کر ان کی آنکھیں خیرہ ہوگئیں۔ وہ روشنی کی تاب نہ لاسکے کہ یہ روشنی مصنوعی اور ایک منفی فکری رجحان کی غماز تھی۔ یہ ان کی کمزوری نہیں انسانی سرشت کا فطری تقاضا تھا۔ ہر رنگ میں ڈھل جانا میر کی فطرت کے خلاف تھا۔ وہ یک رنگ تھے، یک درگیر و محکم گیر کے قائل تھے۔میر کی شاعری سیاسی انحطاط میں مبتلا دہلوی معاشرے کی ترجمان ہے لیکن یہ وضاحت ضروری ہے کہ میر کی شاعری سے دہلوی معاشرے کے سیاسی انحطاط کا اندازہ ضرور ہوتا ہے۔ تاہم فکر میر کے پھیلاؤ اور وسعت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انحطاط سیاسی تھا ذہنی نہیں تھا، فکر میں ٹھہراؤ نہیں پیدا ہوا تھا۔ تشکیل نو کی ضرورت تھی۔ میر کی وفات کے سینتالیس برس بعد تشکیل نو کا کام بھی شروع ہوگیا اور یہ فکر ایک نئے انداز سے نمایاں ہوئی۔میر کی شاعری کا محور اور حوالہ ذہن و فکر کا انحطاط نہیں، خلوص و محبت کے فقدان کااحساس ہے۔ انھیں ساری زندگی شکوہ رہا۔

اس عہد میں الہٰی محبت کو کیا ہوا

چھوڑا وفا کو ان نے محبت کو کیا ہوا

یہ ہمارے عہد کا المیہ بھی ہے مگر ہم اسے تسلیم نہیں کرتے۔ میر میں اتنی اخلاقی جرأت تھی کہ وہ اس فقدانِ محبت کا برملا اظہار کرسکتے تھے۔ ہم اپنی ساری بے باکی کے باوجود اس حقیقت کا اعتراف نہیں کرتے اور اپنی منافقت کی تاویلیں کرتے رہتے ہیں۔

میر نے محبت کی بے زبانی کو زبان عطا کی ہے۔ محبت کا نغمہ ہر شاعر نے چھیڑا ہے لیکن میر کی محبت رسمی اور محدود نہیں۔ یہ ان کے وجود کا بنیادی عنصر ہے۔ ان کے رگ و پے میں رواں دواں ہے۔ محبت ان کی فکر، ان کا ذہن، ان کا دل، ان کی روح ہے۔ ‘‘محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نور۔ نہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور۔’’ اس محبت میں بے راہ روی نہیں، باغیانہ جوش نہیں، نرمی اور دھیماپن ہے۔ جذبۂ تعمیر اور بہتر انسانیت کی تشکیل کاحوصلہ ہے۔ اسی محبت کے وفور نےمیر صاحب کو خدائے سخن بنادیا ہے۔

میر نے طویل عمر پائی تھی، اسی مناسبت سے ان کا کلیات بھی ضخیم ہے۔ انھوں نے چھ دیوان مرتب کیے ہیں۔ میر صاحب، نرے شاعر ہی نہیں اچھے نثرنگار بھی تھے۔ ان کے نثری کارناموں میں شعرا کا ایک تذکرہ ‘‘نکات الشعرا’’ ہے جو ۱۷۵۲ء میں مرتب ہوا۔ نکات الشعرا سے میر کی سخن فہمی، استادی اور انانیت کااحساس ہوتا ہے۔ ‘‘فیضِ میر’’ میر صاحب نےاپنے بڑے بیٹے فیض علی کے لیے مرتب کی تھی۔ تیسری کتاب ‘‘ذکرِ میر’’ ہے جو ۱۷۸۲-۸۳ء میں اختتام کو پہنچی۔ یہ میر صاحب کی خود نوشت ہے۔ میر صاحب نے سیاسی ماحول کے حوالے سے اپنے حالات کاجائزہ مرتب کیاہے۔اس کتاب کی وجہ سے میر صاحب کے احوال و آثار کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔ یہ تینوں کتابیں فارسی میں ہیں۔ انجمن ترقی اردو ‘‘نکات الشعرا’’ اور ‘‘ذکرِ میر’’ شائع کرچکی ہے۔

بعض شاعروں کا کلام نو عمری میں بھلا معلوم ہوتا ہے۔ بعض جوانی کی شوریدہ سری میں زیادہ پُرکشش نظر آتے ہیں۔ بعض شعرا احترام کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں کہ ہمیں مجبوراً ان کی انگلی پکڑ کر ان کے ساتھ چلنا پڑتا ہے مگر میر صاحب، وہ تو صرف محبت کرنا سکھاتے ہیں۔ اپنوں سے، غیروں سے، سب سے، وہ ہر ایک سے صرف یہی کہتے ہیں:

بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہو

ایسا کچھ کرکے چلو یاں کہ بہت یاد رہو

اپنا تبصرہ بھیجیں