الحدیث: ظہورِ قدسی کے وقت دنیائے عرب کی حالت … علامہ محمد معراج الاسلام

Spread the love

دنیا کے حالات یکساں اور ایک جیسے نہیں رہتے بلکہ بدلتے رہتے ہیں، کبھی غریب اور فاقہ کش انسان امیر ہوجاتا ہے اور کبھی دولت مند دیکھتے ہی دیکھتے ٹکڑے ٹکڑے کا محتاج ہوجاتا ہے۔ کوئی آن کی آن میں عزت کھو بیٹھتا ہے اور کوئی ذلت کے گڑھے سے نکل کر عظمت و کرامت کی مسند پر جابیٹھتا ہے۔ غرض دنیا کا نظام اسی طرح چل رہا ہے، کسی چیز کو قرار و سکون حاصل نہیں، دنیا ایک ڈھلتی چھاؤں ہے جو کبھی کسی کے پاس ہے اور کبھی کسی کے پاس۔ اللہ تعالیٰ نے ہر لحظہ بدلتے حالات کو قرآن پاک میں اس طرح بیان فرمایا ہے:

وَتِلْکَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ.

’’اور یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔

(آل عمران:140)

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

عرفت ربی بفسخ العزائم.

’’میں نے اپنے رب کو ارادوں کے ٹوٹنے ہی سے پہچانا ہے‘‘۔

میں ارادہ کچھ کرتا ہوں لیکن ہوتا کچھ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے ارادوں کو بدلنے والی بھی کوئی طاقت ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ارادوں کو بدلتا ہے اسی طرح کائنات اور مخلوقات کے حالات کو بھی بدلتا ہے۔

یہ قانون قدرت ہے، وہ کسی کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑتا بلکہ جب کسی پر سختیوں کی انتہا ہوجائے تو ضرور اس پر مہربانی فرماتا ہے۔ وہ کسی کو بے سہارا نہیں چھوڑتا۔ کمال و زوال کا راستہ ضرور دکھاتا ہے پھر انسان جو چاہے راستہ اختیار کرے اگر نیکی اور ترقی کی طرف قدم بڑھانا چاہے تو اس کی دستگیری فرماتا ہے اور اگر ذلت و پستی کے گڑھے میں گرنا چاہے تو اسے ڈھیل دے دیتا ہے۔

اِنَّ اﷲَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ.

’’بے شک اﷲ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی پیدا کر ڈالیں ‘‘۔

(الرعد:11)

جب اللہ تعالیٰ دونوں راہیں دکھاتا ہے اور سکون و قرار اور ہدایت و راحت کے اسباب مہیا کرتا ہے تو کس طرح ممکن تھا وہ انسان کی روحانی بربادی اور باطنی تباہی پر کچھ انتظام نہ کرتا اور انسان کو گمراہی اور ضلالت کی تاریکیوں میں ٹھوکریں کھانے کے لئے چھوڑ دیتا۔ یہ ممکن ہی نہ تھا چنانچہ اس نے ایسے آفتاب ہدایت کے طلوع کا انتظام فرمایا جس کے بغیر روشنی پھیلنے کی کوئی صورت ہی نہ تھی، ایسے سرچشمہ صداقت کو جاری فرمایا جس کے بغیر انسانی اخلاق کی کھیتیوں کی سیرابی کا کوئی امکان ہی نہ تھا، انسانیت کو ایسا اکسیر نسخہ کیمیا عطا فرمایا جس میں قلب و روح کی بیماریوں کا تیر بہدف علاج مندرج تھا اور لوگوں کو گناہوں کی اس دلدل سے نکالا جس میں وہ گلے تک ڈوبے ہوئے تھے، اس وقت ان کی ہوس رانی، معاشرتی بے راہ روی، ذہنی پستی اور اخلاقی گراوٹ کا کیا عالم ہوگا؟ اس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور سوچ کے زاویے پھیل جاتے ہیں کہ وہ انسان تھے یا انسانیت کے نام پر تہمت تھے۔ ان کی گمراہی کی ایک ہلکی سی جھلک یہ ہے۔

  • اہل عرب ہدایت سے بھٹک کر مختلف گروہوں میں بٹ چکے تھے۔ ذہنی بُعد اور انتشار نے ان کی جمعیت اور قوت کو پارہ پارہ کردیا تھا، ان کی زندگی اس اونٹ کے مشابہ تھی جو بے مہار ہو اور منہ اٹھائے بے مقصد چلا جارہا ہو۔
  • ان میں ایک ہی عقیدہ اور نظریہ کے لوگ آباد نہیں تھے بلکہ ہر خاندان اور قبیلہ اپنے اپنے صنم کدے کو سجائے بیٹھا تھا، یہی نہیں بلکہ ہر شخص کا اپنا اپنا ایک معبود تھا اور اپنا اپنا نظریہ! ان میں خدا، حشر و نشر اور رسولوں کے منکر بھی تھے۔ جو یہ کہتے تھے کہ خدا کوئی نہیں ہے، زمانہ ہی سب کچھ ہے، ہمیں زندگی بخشنے اور موت دینے والا زمانہ ہی ہے۔
  • ایسے کافر بھی تھے جو حشر و نشر اور قیامت کو نہیں مانتے تھے، وہ اعتراض کرتے کہ قبر میں انسان گل سڑ جاتا ہے، اس کی ہڈیاں ریزہ ریزہ بلکہ سرمہ ہوجاتی ہیں وہ کس طرح دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے؟
  • ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں تھی جو خدا اور یوم آخرت پر ایمان تو رکھتے تھے لیکن رسالت کے منکر تھے۔ رسولوں کا وجود تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس لئے انہوں نے بتوں اور پتھر کی مورتیوں کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کئے ہوئے تھے، انہی کو خدا تک پہنچنے کا وسیلہ اور شفیع مانتے تھے۔
  • عرب میں سب سے پہلے بت پرستی کی بنیاد عمرو بن لحی نے رکھی۔ یہ شخص بڑا شریر، خطرناک اور جاہ پرست تھا۔ ایک مرتبہ یہ ملک شام گیا وہاں اس نے لوگوں کو بت پرستی کرتے دیکھا۔ اسے یہ منظر بہت اچھا لگا، ان سے پوچھا یہ تم کیا کررہے ہو؟ وہ بت پرست بولے ہم ان کی پرستش کررہے ہیں یہ ہمارے خدا ہیں۔

نعبدها فنستمطرها فتمطرنا ونستنصرها فتنصرنا.

(ابن هشام)

’’ہم ان کی عبادت کرتے، ان سے بارش مانگتے ہیں تو یہ ہمیں بارش دیتے ہیں۔ مدد مانگیں تو مدد کرتے ہیں‘‘۔

اس نے کہا تم مجھے ایک بت دے سکتے ہو؟ جسے میں عرب میں اپنے ساتھ لے جاؤں تاکہ اہل عرب بھی تمہاری طرح اس کی پوجا کریں۔ انہوں نے کہا تم ضرور لے جاؤ۔ چنانچہ ایک بہت بڑا بت جس کا نام ’’ہبل‘‘ تھا وہ انہوں نے اس کو دے دیا۔ اس نے وہ لاکر کعبہ معظمہ میں نصب کردیا اور سب قبیلوں کو مشترک طور پر اس کی عبادت کرنے کی دعوت دی۔ اس نئے کام میں شریک ہونے کے لئے جس کی حیثیت پتلیوں کے تماشے سے زیادہ نہ تھی، سب اکٹھے ہوگئے اور ’’ہبل‘‘ کے پُجاری بن گئے پھر آہستہ آہستہ ہر قبیلے نے الگ الگ بت گھڑ لئے اور انہیں پوجنا شروع کردیا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا میں نے عمرو بن لحی کو دوزخ میں دیکھا ہے۔ وہ آگ میں اپنی آنتیں کھینچ رہا تھا۔ اس مجلس میں ایک صحابی ’’اکثم‘‘ بھی بیٹھے ہوئے تھے حضور علیہ السلام نے ان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: ’’اے اکثم! اس کی شکل تم سے بہت ملتی جلتی ہے‘‘۔ وہ صحابی ڈر گئے، عرض کی یارسول اللہ! پھر ممکن ہے یہ مشابہت میرے لئے کسی نقصان اور ضرر کا باعث ہو؟ آپ نے فرمایا ’’نہیں! وہ کافر تھا تم مومن ہو۔ اس نے تو دین حنیف کی بنیاد ہلادی تھی جس کی سزا اب بھگت رہا ہے‘‘۔

لوگ بتوں کو پوجتے پوجتے اتنے بے باک اور ذلیل ہوگئے کہ معمولی معمولی پتھروں کو بھی خدا بنانا شروع کردیا۔ اس پستی کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے سفر کے لئے جاتے وقت حرم کعبہ کے پتھروں کو ساتھ لے جانا شروع کردیا۔ وہ جہاں قیام کرتے ان پتھروں کو سامنے رکھ کر پوجتے اور ان کا طواف کرتے۔ آہستہ آہستہ جب وہ اس حرکت کے اچھی طرح عادی ہوگئے تو ہر جگہ کے پتھروں کے ساتھ ایسا ہی کرنا شروع کردیا یعنی ہر روڑا اور کنکر ان کا معبود بن گیا۔ پھر انہوں نے زبان سے بھی شرکیہ کلمات ادا کرنا شروع کردیئے۔ تلبیہ پڑھتے وقت وہ کہتے:

لبيک اللهم لبيک لبيک لاشريک لک الا شريک هو لک تملکه وما ملک.

’’حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں! تیرا کوئی شریک نہیں لیکن وہ جو تیرا شریک ہے (نعوذ باللہ) تُو اس کا مالک ہے وہ تیرا مالک نہیں‘‘۔

گھر سے نکلتے وقت بت کو چومتے اور واپس آکر سب سے پہلے اسی کے آگے جھکتے۔

انسانیت کی اس بے قدری اور شرف آدمیت کی اس ارزانی پر حقیقت شناس ضمیر چیخ اٹھا، اس کی دلدوز آہیں، جاں گداز سسکیاں اور خارا شگاف چیخیں فریاد بن کر لبوں تک آگئیں، ان تڑپتی بلکتی فریادوں سے کوہ و دمن لرز اٹھے، چٹانوں کا دل ہل گیا، ٹھہری ہوئی منجمد فضاؤں میں ارتعاش پیدا ہوا اور ذرہ ذرہ پتہ پتہ، دامن طلب پھیلاکر رحم و کرم اور خصوصی لطف و عنایت کے لئے سراپا التجا بن گیا۔ ذرہ نوازی، بندہ پروری اور نگاہ کرم کی بھیک کے لئے قبولیت کی آرزو میں آس و امید کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھنے لگا۔

کعبہ بھی اپنے صحن میں قرینے سے سجے ہوئے مکروہ صورت بے حس و حرکت بتوں کی قطاریں دیکھ کر انسان کی ناسمجھی اور اپنی ناقدری پر مجسم فریاد بن گیا۔

بارالہٰا! میں تو حق و صداقت کا نشان بن کر ذہن پر اتارا گیا تھا، خلیل نے مجھے اس لئے تو نہیں بنایا تھا کہ میرے مقصد تعمیر کو فراموش کردیا جائے اور میرے دامن میں پتھر اور روڑے بھردیئے جائیں۔ جن کی میرے سامنے پوجا پاٹ ہو اور انہیں خدا مانا جائے، یا اللہ! میں انسان کے اس طرز عمل اور بت پرستی سے بہت ناخوش ہوں۔ جی چاہتا ہے، پھٹ پڑوں اور اپنے غصے کی آگ میں ان سب کو بھسم کردوں۔ قدرت کی طرف سے القاء ہوا اے کعبہ!

تجھے ناراض و غضب ناک ہونے کی ضرورت نہیں، وہ وقت دور نہیں جب ہم اپنے محبوب ترین رسول کو تیرے شہر میں مبعوث فرمائیں گے۔ جو گمراہیوں کے دبیز پردوں کو تار تار کردے گا، انسان کو زندگی کا بھولا ہوا سبق یاد دلائے گا اور صحن حرم میں رکھے ہوئے بتوں کو اپنی ٹھوکروں سے پاش پاش کردے گا، ان کی آمد سے شیطانی قوتیں لرزہ براندام ہوجائیں گی اور ابلیسی صفوں میں کھلبلی مچ جائے گی، ان کے ساتھ فرشتوں کی فوج ظفر موج بھی ہوگی، جو ہر مشکل وقت پر ان کی مدد کرے گی اور خدام کی حیثیت سے ان کے ساتھ رہے گی۔ کعبہ آمد شاہ کے قرب کی بات سن کر مطمئن ہوگیا۔

کعبہ کے ساتھ گنے چنے توحید پرستوں کی پرخلوص فریاد بھی رنگ لائی۔ اہل دل کی نیاز مندی اور طلب صادق مقبول و منظور ہوئی، قدرت کو ان کی بے چارگی اور عجزو درماندگی پر رحم آیا چنانچہ ایک ہمہ گیر عظیم انقلاب برپا کرنے اور اس کے ساتھ اس دور کے بے راہ انساں کو ہدایت، وہاں کے تاریک ترین ماحول کو نور اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ظلمت کدے کو اجالا بخشنے کے لئے مطلع رسالت پر اس آفتاب کو جلوہ بار کیا جس کے پرشکوہ جاہ و جلال کے سامنے ماضی و مستقبل کے تمام سورج، چمکتے چاند، دمکتے ستارے اور نور فشاں مراکز ماند پڑگئے، یہ مملکت نور، حریم قدس اور سپہر رسالت کا منفرد و یکتا اور سب سے زیادہ منور آفتا ب تھا۔

اس آفتاب جہاں تاب نے فاران کی پر جلال چوٹیوں سے طلوع ہوکر اپنی نورانی کرنوں سے گھمبیر ظلمتوں کی دبیز تہوں کا دامن تار تار کردیا اور ان تاریکیوں کا وجود صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا جو صدیوں سے قلب و ذہن، یقین و اعتقاد اور روح و ضمیر کی دنیا پر سرطان کے مہلک اور لاعلاج پھوڑے کی طرح چھائی ہوئی تھیں اور نور ایمان کو گھن کی طرح کھارہی تھیں چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے کالے سائے تحلیل ہوگئے، ظلمت کے پردے چھٹ گئے اور تاریک فضائیں جگمگا اٹھیں۔

خشک دھرتی، تاریک فضا اور بے زبان مخلوق کی دعائیں قبول ہوئیں، رحمت کے سمندر میں جوش آیا، حق کی بجلی کو ندی، کوہ فاران کی طرف سے رحمت کی گھٹا اٹھی، ہدایت کا آفتاب طلوع ہوا اور ہر طرف سے تاریکی کے بادل چھٹ گئے زمین سیراب ہوگئی۔

طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَداع
وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا لِلّٰهِ دَاع

اپنا تبصرہ بھیجیں