القرآن: محبت ایمان کی اساس ہے … ڈاکٹر محمد طاہر القادری

Spread the love

القرآن: محبت ایمان کی اساس ہے 
ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا خصوصی خطاب
ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین، معاون: محمد طاہر  معین

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ.

(البقرة:165)

’’اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر) اﷲ سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں‘‘۔

دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا:

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْکُمُ اﷲُ.

(آل عمران:31)

’’(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا ‘‘۔

یاد رکھیں! وہ دعوی ایمان جو محبت سے خالی ہے، وہ درحقیقت ایمان ہی نہیں ہے۔ جس عقیدے کا خمیر محبت سے تیار نہیں ہوا وہ عقیدہ اسلام کا عقیدہ نہیں ہے۔ افسوس آج کئی لوگ محبت کے معنی و مفہوم اور اس کی مختلف جہتوں سے ناآشنا ہونے کی بناء پر ’’محبت‘‘ کو اسلام اور ایمان کی اساس نہیں سمجھتے۔ نتیجتاً وہ عامۃ الناس اور نوجوان نسل کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات میں محبت کو کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اس صورت حال میں چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ کے تسلسل میں صحیح عقیدہ و سمت پر گامزن لوگوں کو قرآن و سنت سے اپنا ٹوٹا ہوا تعلق بحال کرنا ہوگا اور علم کے حصول کے لئے کئی گنا زیادہ محنت کرنا ہوگی تاکہ اپنے اصل عقائد پر پختگی حاصل ہو۔ نوجوان نسل کو اعتقادی اعتبار سے بہکانے والے یہ تاثر دیتے ہیں کہ محبت کی بات کرنے والے اپنی تسکین کے لئے یہ بات کرتے ہیں اور اس کی اصل بنیاد قرآن و سنت میں نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ہم میلاد مناتے ہیں تو یہ محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مظاہر میں سے ایک عمل ہے۔۔۔ جب صلوۃ و سلام پڑھتے ہیں تو یہ بھی محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مظاہر میں سے ہے۔ ان اعمال کو یہ کہہ کر رد کردیا جاتا ہے کہ ان کی کوئی اصل نہیں اور محبت کا اتنی شدّ و مد سے نام لینا شخصیت پرستی قرار دیا جاتا ہے۔
ذیل میں اسلامی تعلیمات میں موجود محبت کے معنی و مفہوم اور اس کی جہات کو واضح کیا جارہا ہے تاکہ التباس و شکوک کی یہ گردو غبار اتر جائے اور اسلام کا چہرہ قرآن و سنت کے ساتھ صاف اور اجلا ہوجائے۔
محبت کا ایک معنی خالصیت و طہارت ہے۔ اگر دل صاف اور چمکدار ہوجائے اور اس میں کوئی میل کچیل نہ رہے تو اس کو عربی زبان میں ’’حب‘‘ کہتے ہیں۔ پس جس شخص کو محبت کی دولت نصیب ہوجائے اس کے لئے لازم ہے کہ اسکے دل میں میل کچیل نہ رہے، کدورت نہ رہے اور کسی قسم کی سیاہی نہ رہے۔ محبت دل کو صفائی، روشنی اور نور عطا کرتی ہے۔
’’حب‘‘ کا دوسرا معنی ’’کسی کو مضبوطی سے باندھ دینا‘‘ ہے۔ ایسا باندھنا کہ الگ نہ ہو۔ گویا اگر کسی کو کسی سے محبت ہوجائے تو پھر وہ اپنے محبوب سے چمٹ جاتا ہے، بندھ جاتا ہے اور اگر ساری دنیا اسے چھڑانے کی کوشش بھی کرتی رہے پھر بھی وہ نہ ہٹتا ہے اور نہ الگ ہوتا ہے بلکہ استقامت سے جڑا رہتا ہے۔ اس کے جڑنے میں مضبوطی و استقامت آجاتی ہے۔ پس اگر کسی سے تعلق مضبوط ہوجائے، ناقابل انقطاع ہوجائے تو اس کو محبت کہتے ہیں۔

عورتیں کانوں میں جو بالیاں پہنتی ہیں ان کو عربی زبان میں ’’حب‘‘ کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے محبت کے دو معانی ہیں:

  • بالی جب کانوں میں ڈالی جاتی ہے تو وہ کانوں سے جڑ جاتی ہے۔ اگر کوئی اس کو کھینچنا چاہے تو کان کٹ جاتا ہے مگر بالی جدا نہیں ہوتی۔
  • بالی کانوں کو وقتاً فوقتاً تکلیف بھی دیتی رہتی ہے، قلق و اضطراب ہوتا ہے، تکلیف ہوتی ہے۔

پس محبت کا معنی یہ ہوا کہ بالی کی طرح محبوب سے جڑ جائے اور اس سے جدا نہ ہو۔۔۔ اضطراب کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تک محب، محبوب سے مل نہ لے اس وقت تک اسے چین و سکون نہیں آتا۔ قلق اور اضطراب محبت کا خاصہ ہے۔ جس دل میں محبت ہو مگر اضطراب اور بے چینی نہ ہو تو سمجھیں وہ محبت نہیں۔ اس لئے کہ ایک طرف محبت سکون عطا کرتی ہے اور دوسری طرف جب جدائی ہوتی ہے تو اضطراب نصیب ہوتا ہے۔ پس محبت، سکون اور اضطراب کے درمیان ملی جلی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
محبت ’’حب‘‘ سے ہے اور حب کا معنی بیج (Seed) ہے، جس سے پودے نکلتے ہیں۔ گویا محبت بیج Seed ہے۔ کسی کے ایمان کا درخت اگر محبت کے بیج سے اُگا ہو تو اس کو شجرِ ایمان کہتے ہیں اور جس درخت کا بیج محبت نہیں ہے، وہ درخت ایمان نہیں کہلاتا۔ یاد رکھیں! جو عقیدہ اور تعلق محبت پر قائم نہیں وہ ایمان کا تعلق نہیں ہے۔

انی سے بھرے ہوئے جگ کو ’’حب‘‘ کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب جگ پانی سے بھر جائے تو اس میں ایک قطرہ بھی مزید ڈالنے کی گنجائش نہیں ہوتی، اگر ایک قطرہ بھی ڈال دیا تو گر جائے گا۔ اس لحاظ سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ جس کا دل محبوب کی محبت سے بھر جائے وہ کسی صورت غیر کا دھیان دل میں داخل نہیں ہونے دیتا۔

مومن کے پاس اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اس معنی کے لحاظ سے ہے کہ مومن وہ ہے جس کے دل کا برتن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے یوں بھر جائے کہ اس بھرے ہوئے دل کے برتن میں نہ غیر کی محبت داخل ہو اور نہ غیر کا دھیان داخل ہو۔۔۔ وہ اتنا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جڑ جائے کہ مرتو جائے مگر نہ خدا سے جدا ہو اور نہ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا ہو۔ جس کی وفاداری اتنی مضبوط ہوجائے تو اس تعلق کو محبت کہتے ہیں۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والا ان سے مضبوطی سے جڑا بھی رہتا ہے اور خدا سے لقاء اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار کے لئے مضطرب بھی رہتا ہے۔ جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مل نہیں لیتا اور جب تک خدا کے حسن کا جلوہ دیکھ نہیں لیتا، اس وقت تک وہ محبت اس کو مضطرب رکھتی ہے۔

محبت کے مختلف معانی اور اس کے تصور کی واضحیت کے بعد اس کی مختلف جہات کو سمجھتے ہیں۔ ایک مومن کی زندگی میں محبت کی درج ذیل 4 جہات ہیں:

  • اللہ کی بندے سے محبت
  • بندے کی اللہ سے محبت
  • آقا کی امتی سے محبت
  • امتی کی آقا سے محبت
 

یاد رکھیں! محبت کی ابتداء بندے سے نہیں ہوتی بلکہ محبت کی ابتداء اللہ سے ہوتی ہے۔ محبت کرنا اصلاً اللہ کی سنت ہے۔ بندہ اللہ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے Response کی صورت میں اللہ سے محبت کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ پہلے محب بنتا ہے پھر محبوب بنتا ہے۔ اللہ رب العزت کو دونوں شانیں حاصل ہیں یعنی اللہ Loverبھی ہے اور Beloved بھی ہے۔ وہ محب بھی ہے اور محبوب بھی ہے۔ عاشقان الہٰی اور اولیاء و صلحاء کا دل اللہ کی محبت سے معمور ہے، یہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنے والے ہوتے ہیں اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھ لیں! محبت اللہ سے انہوں نے شروع نہیں کی ہوتی بلکہ یہ عملِ محبت اللہ سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے اللہ محبت کرتا ہے اور اللہ کو جس سے محبت ہوجائے اس کی محبت کے Response میں بندہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔ ارشاد فرمایا:

فَسَوْفَ يَاْتِی اﷲُ بِقَوْمٍ يُّحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَه.

’’عنقریب اﷲ (ان کی جگہ) ایسی قوم کو لائے گا جن سے وہ (خود) محبت فرماتا ہوگا اور وہ اس سے محبت کرتے ہوں گے ‘‘۔

(المائدة:54)

اس آیت کریمہ میں یہ امر صریحاً موجود ہے کہ خود رب کائنات نے محبت کے عمل کو اپنی ذات سے شروع کیا کہ میں ان بندوں سے پہلے محبت کروں گا۔ جب تک اللہ کسی بندے سے محبت نہ کرے تب تک بندہ اللہ سے محبت کرہی نہیں سکتا۔ اللہ کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ بعض دلوں کو چن لیتا ہے، جس دل کو چن لیتا ہے اس سے وہ محبت کرتا ہے اور وہ دل بھی اللہ سے محبت کرتا ہے۔ جب اللہ کسی بندے سے خود محبت کرتا ہے تو بعض نادان لوگوں کا امتیوں کو خدا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا طعنہ دینا کسی صورت درست نہیں کیونکہ بندے تو خدا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس سے محبت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ پہلے ان لوگوں کو اپنی محبت کے لئے چنتا ہے۔

حدیث مبارکہ کے مطابق اللہ تعالیٰ اپنی محبت کو چھپاتا نہیں بلکہ ظاہر کرتا ہے اور ہر چنیدہ دل کو اس میں شریک کرتا ہے۔ وہ محبت صرف آسمانوں اور فرشتوں تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ جس بندے سے اللہ محبت کرتا ہے اس کی محبت کو زمین والوں کے دل میں بھی سمودیتا ہے۔ چنانچہ وہ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ زمین پر اترو اور جن دلوں کو پاک دیکھو، محبت کے لائق دیکھو، ان کے دلوں میں میرے بندے کی محبت ڈالتے چلے جاؤ۔ وہ محبت جو اللہ سے شروع ہوئی، جو جبریل سے شروع ہوئی، جو ملائکہ سے شروع ہوئی، آسمانی کائنات میں بھرگئی پھر اس محبت کو زمین پر اتار دیا جاتا ہے اور اس کے لئے دل چنے جاتے ہیں۔

اس کی مثال یہ ہے کہ گندا برتن ہم دودھ اور پانی کے لئے کبھی نہیں چنتے بلکہ پہلے اُسے دھوتے ہیں، صاف کرتے ہیں تب دودھ، پانی یا کوئی مشروب ڈالتے ہیں۔ جب ہم دودھ اور پانی گندے برتن میں نہیں ڈالتے تو رب اپنی محبت گندے دلوں میں کیسے ڈالے گا۔

خوش نصیب ہیں وہ جن کے دل محبت سے بھرگئے، اس لئے بھرگئے کہ ان کے دل آسمان کے فرشتوں نے صاف دیکھے اور محبت کے لئے چن لئے۔ جو لوگ محبت کے نام سے چڑتے ہیں دراصل وہ خود نہیں چڑتے بلکہ اُن کے چڑنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں کو محبت کے لئے چنا نہیں گیا۔ ان کے دل گندے ہیں اور محبت کے لائق نہیں اس لئے وہ محبت پر تنقید کرتے ہیں کیونکہ انہیں محبت نصیب نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگی۔ عقیدہ اہل سنت پر عمل پیرا لوگ اس بات سے پریشان نہ ہوا کریں کہ بدعقیدگی بڑھ رہی ہے۔ اگر کچھ لوگوں کے عقائد میں محبت موجود نہیں تو یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ نے ان کے دل میں محبت رکھی ہی نہیں اور رکھی اس لئے نہیں کہ ان کے دل صاف نہ تھے۔ اس نے اپنی اور اپنے محبوب کی محبت کے لئے انہیں چنا ہی نہیں، اس لئے کہ ہمیشہ اچھے برتنوں کو چنا جاتا ہے۔ ہمارے دل وہ برتن ہیں جنہیں خدا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے لئے چن لیا گیا۔ اگر ہم علم، عمل، تقویٰ، طہارت، محبت میں مزید محنت کریں گے تو رب کائنات دلوں کو مزید تقویٰ و طہارت کو نور عطا فرماتے ہوئے اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے لئے چن لے گا۔

حضرت ذوالنون مصری سے پوچھا گیا: ’’محبت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: محبت موافقت کا نام ہے‘‘۔

موافقت کیا ہے؟ جب بندہ کسی کو محبوب بنالیتا ہے تو محب اس وقت تک محب ہی نہیں بنتا جب تک وہ محبوب کی ہر خواہش اور ہر امر کو اپنا نہ لے۔ اس کا دل محبوب کے حکم کے مطابق موافق ہوجاتا ہے اور محبوب، محب کے ساتھ موافق ہوجاتا ہے۔

امام دیلمی نے بیان کیا کہ صوفیاء بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا میں حرم کعبہ میں گیا، وہاں رستے میں ایک اونٹ کو دیکھا۔ وہ اونٹ صبح سے شام تک دائیں طرف گردن موڑ کر کھڑا رہتا تھا۔ اس اونٹ کو زبردستی اور مار کے ذریعے جتنا چاہو کہ گردن دوسری طرف موڑے، ممکن نہ تھا۔ اس کی گردن دائیں طرف مڑی رہتی تھی، بائیں طرف یا سیدھا دیکھتا ہی نہیں تھا۔ میں نے پوچھا: اس کو کیا ہوگیا؟ بتایا گیا کہ اس کے ساتھ ایک اونٹنی تھی، اس کو اس کے ساتھ بڑی محبت تھی، وہ ادھر دائیں طرف گئی ہے، کئی مہینے گذر گئے ابھی تک واپس نہیں آئی اس لئے اس نے آج تک دائیں طرف سے سر پھیرا ہی نہیں۔ رات دن اسی طرف تکتا رہتا ہے کہ شاید وہ آجائے۔

اگر اونٹ، اونٹنی سے محبت کی بناء پر اس سے موافقت رکھتا ہے کہ جس سمت وہ چلی گئی اس سمت سے سر نہیں ہٹاتا تو اگر بندوں کو خدا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہوجائے تو ان کی موافقت کا حال کیا ہوگا۔ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس طرف اس کا رخ کرانا چاہیں گے، بندہ اسی طرف رخ کرے گا، حلال پر چلے گا، حرام کی سمت نہیں جائے گا اور کبھی بھی اللہ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات سے روگردانی نہیں کرے گا۔

ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چچا حضرت ابوطالب کے پاس تشریف لائے، وہ بیمار تھے۔ چچا نے کہا کہ بیٹے میں بہت بیمار ہوں، اپنے اس رب کے پاس دعا کریں جس کی آپ عبادت کرتے ہو۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی، حضرت ابو طالب اسی وقت شفا یاب ہوگئے۔ شفا یابی کے بعد حضرت ابو طالب کہنے لگے: میں نے دیکھا ہے کہ جس رب کی آپ عبادت کرتے ہیں وہ آپ کی بات بہت مانتا ہے اور آپ کے ساتھ اتنی موافقت رکھتا ہے کہ جو آپ کہتے ہیں وہ مانتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بندہ ایسے ہوجائے کہ جو اللہ کہے، وہ ماننے لگے تو پھر اللہ تعالیٰ بندے کے ساتھ ایسا ہوجائے گا کہ جو بندہ کہے گا، اللہ تعالیٰ وہ ماننے لگ جائے گا۔ اگر بندہ اللہ کے ساتھ ایسی محبت پیدا کرلے تو وہ بندے کے ساتھ ایسی موافقت پیدا کرے گا کہ جو بندہ کہے وہ ماننے لگ جائے گا۔ بندے کا کہنا ہی اس کی رضا اور تقدیر بن جائے گا۔

(ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، ج:66، ص:325)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے ہمیشہ دیکھا ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی چھوٹی سی بھی خواہش ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رب اس کو پورا کرنے میں بڑی جلدی کرتا ہے، خواہش زبان پر ابھی نہیں آتی مگر رب پوری کردیتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم رب کے ساتھ اس کی موافقت میں جلدی کرلو تو لب پہ بات آنے سے پہلے وہ رب تمہاری خواہش پوری کردے گا۔

(صحيح مسلم، کتاب الرضاع، ج2، ص1085، رقم:1464)

یاد رکھیں! موافقت دو طرفہ ہوتی ہے، تم اس کے موافق ہوجاؤ، وہ تمہارے موافق ہوجائے گا۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے ایک دن عرض کیا: باری تعالیٰ!

کن لابنی کما کنت لی.

’’تو میرے بیٹے کے ساتھ اس طرح ہوجا جیسے تو میرے ساتھ ہے‘‘۔

یعنی جیسے تیری شفقت، تیری محبت، تیری موافقت، تیرا کرم، تیری عنایت میرے ساتھ ہے، اسی طرح میری خواہش ہے کہ تو میرے بیٹے کے ساتھ بھی ہوجا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ

قل لابنک ان يکون لی کما انت لی اکون له کما انا کنت لک.

’’اپنے بیٹے کو کہہ دے کہ وہ بھی میرے ساتھ اسی طرح ہوجائے جیسے تم میرے ساتھ ہو۔ اگر وہ میرے ساتھ اسی طرح ہوجائے جیسے تم میرے ساتھ ہو تو میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی ہوجاؤں گا جیسے تمہارے ساتھ ہوں‘‘۔

(ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ج، ص:39)

گویا موافقت کا معنی یہ ہے کہ بندہ اگر اللہ کے ساتھ اس کی خوشنودی، رضا، اوامر، نواہی، احکام الغرض ہر چیز میں ظاہراً و باطناً کاملاً موافق ہوجائے تو اللہ کی موافقت بندے کے ساتھ اکمل ہوجاتی ہے۔ بندہ کو زبان پر بات لانے کی حاجت نہیں ہوتی، زبان پر آنے سے پہلے رب اس کو پورا کردیتا ہے۔ یہ محبت کا صلہ ہے۔ یہ عقیدہ محبت قرآن و حدیث سے اخذ کردہ ہے۔ محبت کے حوالے سے طعنہ دینے والے غور کریں کہ اگر وہ اسلام و ایمان سے محبت نکال دیں گے تو ایمان سے خارج ہوجائیں گے۔

جس بندے سے اللہ محبت کرے اس بندے کو محبوبِ انس و جاں بنادیتا ہے۔ اس بندے کا اپنا حسن لے لیتا ہے اور اس کے چہرے پر رب اپنے حسن و جمال کا عکس چڑھادیتا ہے۔۔۔ رب اس بندے کی صفتیں لے لیتا ہے اور اپنی صفات کا رنگ اس بندے میں داخل کردیتا ہے۔۔۔ اس بندے کے اپنے اخلاق لے لیتا ہے اور رب اپنے اخلاق کا رنگ اس پر چڑھا دیتا ہے۔۔۔ اس کے دل کی تنگی لے لیتا ہے اور رب اپنی وسعت کی خیرات عطا کردیتا ہے۔۔۔ اس بندے سے انتقام و غصہ کے جذبات لے لیتا ہے اور عفو و درگزر کا لباس پہنا دیتا ہے۔۔۔ جب دوسرے بندے اس کا چہرہ دیکھ کر اس سے محبت کرتے ہیں تو وہ حقیقت میں اسے نہیں بلکہ رب کی محبت، اخلاق اور صفات کا رنگ اس کے چہرہ میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے موسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا:

وَاَلْقَيْتُ عَلَيْکَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ.

’’اور میں نے تجھ پر اپنی جناب سے (خاص) محبت کا پرتو ڈال دیا ہے (یعنی تیری صورت کو اس قدر پیاری اور من موہنی بنا دیا ہے کہ جو تجھے دیکھے گا فریفتہ ہو جائے گا)‘‘۔

(طٰه:39)

یعنی تیرے اوپر اپنی محبت کے انوار اتار دیئے۔۔۔ تجھے اپنی محبت کا لباس پہنادیا۔۔۔ پھر تجھے ایسا پیارا بنادیا کہ جو تجھے تکتا تھا اپنا دل تجھے دے بیٹھتا تھا۔۔۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسی کو اپنی محبت کیوں نہ دیتا حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کی محبت اللہ سے ایسی تھی کہ اللہ کے دیدار کے لئے مضطرب رہتے تھے۔ حضرت موسی کو ایسی محبت تھی کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کیا:

’’رب ارنی‘‘

 باری تعالیٰ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں، مجھے اپنا آپ دکھا، اپنا مکھڑا دکھا، اپنا حسن جمال دکھا دے۔

اللہ تعالیٰ نے جواب دیا:

’’لن ترانی‘‘

 تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ عرفاء نے بیان کیا کہ موسی کو اللہ رب العزت کی طرف سے جواب ملا کہ

تو نہیں دیکھ سکتا اس لئے کہ میرے حسن و جمال کا عالم یہ ہے مخلوق میں سے جو کوئی مجھے دیکھ لے، مرجائے گا۔ کیونکہ مخلوق کو وہ آنکھ ہی نہیں دی موسیٰ علیہ السلام اس جواب پر مزید مچل اٹھے اور عرض کی:

’’باری تعالیٰ میں تجھے دیکھ لوں اور مرجاؤں یہ مجھے اس سے زیادہ عزیزہے کہ زندہ بھی رہوں اور تجھے دیکھ نہ پاؤں‘‘۔
(مجير الدين الحليلی، الانس الجليل، ج1:91)

بن دیکھے جب بندہ محبوب کی ایک جھلک کے لئے اپنی جان بھی قربان کرنے پر آجائے تو رب کائنات کا کرم اُسے ڈھانپ لیتا ہے۔ اللہ نے تجلی کی اور اپنی تجلی کا نور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرے پر چڑھادیا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوش میں آئے تو عالم یہ تھا کہ جو کوئی ان کا چہرہ دیکھتا تھا، نابینا ہوجاتا تھا اور رخِ انور پر موجود اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا عکس برداشت نہ کرپاتا۔

یہ حضرت موسی کا عالم ہے اور دوسری طرف سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جن کے بارے میں فرمایا کہ
جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مقام تک پہنچے کہ خدا، مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تھا اور مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے حجاب تکتے رہے، خدا بولا: مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی آنکھ کا جانا تو دور ہے آپ نے تو آنکھ جھپکی بھی نہیں۔ وہ آنکھیں دیں جو پھر لازاغ تکتی رہیں۔ یہ سب اس وقت ہوتا ہے کہ جب انسان موافقت میں قربانی دیتا ہے۔ اللہ پاک قربانی رائیگاں نہیں جانے دیتا بلکہ اس کے بدلے بہت کچھ عطا کردیتا ہے۔

محبت کا تعلق نہ غربت سے ہے اور نہ محلات میں رہنے سے ہے۔ محبت تو قلب کا ایک تعلق ہے۔ ہم محبت کے دعویٰ دار ہیں لیکن ہمیں اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا ہے کہ ہمیں حضور علیہ السلام سے وفاداری کتنی ہے۔۔۔؟ تعلق کتنا ہے۔۔۔؟ موافقت کتنی ہے۔۔۔؟ اس لئے کہ محبت کی خوبی یہ ہے کہ جب محبت ہوجاتی ہے تو موافقت کے ساتھ محبوب کے حکم پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ بندہ محبوب کی خاطر ہر مشکل کام کو آسان سمجھتا ہے۔

حضرت عامر بن عبد قیس (تابعی) کی موت کا وقت قریب آیا تو وہ زارو قطار رونے لگے۔ ان کے اہل خانہ نے پوچھا آپ کو کیا چیز غمزدہ کررہی ہے؟ حالانکہ آپ کی تو ساری زندگی عشق الہٰی میں گزری ہے۔ انہوں نے فرمایا: مجھے دو باتیں رُ لارہی ہیں:

  • پہلی بات یہ کہ جب شدید گرمیوں میں ظہر کی نماز کے لئے میں اللہ کے حضور کھڑا ہوتا تھا، سخت تپتی دھوپ میں جو لذت، سکون و راحت مولا کی عبادت کرنے میں آتی تھی، مجھے جنت میں وہ لذت نظر نہیں آرہی۔
  • دوسری بات یہ کہ سردیوں کی سخت راتوں میں تہجد کے لئے ٹھنڈے پانی سے وضو کرتا اور جو لذت، سکون و راحت اس ٹھنڈے پانی سے وضو کرنے اور تہجد کے وقت مولیٰ سے ہم کلام ہونے میں آتی ہے، جنت میں وہ لذت نظر نہیں آرہی، اس لئے رو رہا ہوں۔

پس جب محبت ہوجاتی ہے تو بندے کو جنت کی لذتیں اور راحتیں اتنی عزیز نہیں لگتیں جتنی اس کے حضور سرجھکانے میں لذت آتی ہے۔
(ذهبی سير اعلام النبلاء، ج4، ص19)
حضرت ایوب سختیانی رضی اللہ عنہ (جلیل القدر تابعی) کی وفات کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ تہجد کے وقت ان کی قبر سے نماز پڑھنے، بلند آواز سے قرآن مجید کی قرات اور مناجات کی آواز آرہی تھی۔ لوگ اس کا راز جاننے کے لئے ان کی صاحبزادی کے پاس گئے کہ ہمیں بتائیں کہ حضرت ایوب سختیانی کا عمل کیا تھا جس کی وجہ سے وصال کے بعد بھی قبر میں سے قرآن و نماز پڑھنے اور مناجات کی آواز سنائی دیتی ہے۔ بیٹی روپڑی اور کہا: میں نے اپنے والد کو عمر بھر ایک ہی دعا کرتے سنا، وہ عرض کرتے:

باری تعالیٰ! اگر کسی شخص کو بھی مرنے کے بعد بھی قبر میں نماز پڑھنے کی اجازت دے تو وہ اجازت مجھے دے دینا تاکہ جو لذت مجھے تیری نماز کی سجدہ ریزیوں میں آتی ہے، وہ جنت میں نہیں۔ اللہ نے دعا قبول فرمائی اس لئے تہجد کا وقت ہوتا ہے تو جو عمل دنیا میں ساری زندگی رہا لہذا اب قبر میں بھی قیامت تک جاری رہے گا۔ پس محبت بندے کے احوال کو بدلتی ہے اور اگر احوال نہ بدلیں تو سمجھیں کہ محبت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔احادیث مبارکہ میں آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کثرت کے ساتھ بیان فرمایا کہ بندہ، اللہ سے کیسی محبت کرتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ کے لئے ایک لشکر بھیجا۔ ایک صحابی کو ان کا امیر بنایا۔ سفر میں نماز کے وقت صحابہ کی امامت کرواتے ہوئے صحابی ہر رکعت میں سورۃ الاخلاص ’’قل ہواللہ احد‘‘ ضرور پڑھتے۔ اگر کوئی اور سورت بھی پڑھتے تو اس رکعت کے آخر میں سورۃ الاخلاص ضرور پڑھتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لئے یہ نئی بات تھی۔ واپسی پر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ہر رکعت میں اور ہر رکعت کے آخر پر سورۃ الاخلاص ہی پڑھتے ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات سن کر فرمایا کہ اس سے جاکر پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے پوچھنے پر اس صحابی نے جواب دیا کہ اس لئے ایسا کرتا ہوں کہ سورۃ الاخلاص کی ہر آیت میں میرے محبوب کی صفتوں کا تذکرہ ہے، بار بار یہ ہی تلاوت کرنے سے مجھے ذوق ملتا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صحابی کے جواب بارے مطلع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام دے کر اس صحابی کی طرف بھیجا کہ جیسے تمہیں اللہ سے محبت ہے، ایسے ہی اسے بھی تم سے محبت ہے۔

(صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، ج1، ص557 رقم813)
حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا ایک جوان صحابی حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مینڈھے کی کھال کی چادر باندھے ہوئے ننگے پاؤں آرہے ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:

انظروا الی هذا الرجل الذی نورالله قلبه.

’’میرے صحابیو! اس جوان کو دیکھو جس کے دل کو اللہ نے اپنے نور سے روشن کردیا ہے‘‘۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ جب ان کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میں نے اس وقت اسے دیکھا تھا جب یہ چھوٹا سا بچہ تھا۔ مکہ میں اس کے ماں باپ زندہ تھے، یہ ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا۔ اس کے ماں باپ اس کو اعلیٰ خوراک دیتے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے اس زمانے میں اسے دو سو درہم کا لباس پہنے ہوئے دیکھا۔ یہ فرماکر آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روپڑے اور فرمانے لگے: پھر یہ ہوا کہ جب سے یہ نوجوان خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق ہوا تو اس عشق نے اسے اس حال تک پہنچادیا ہے، دیکھو! مینڈھے کی کھال پہنے، ننگے پاؤں پھر رہا ہے۔ عشق نے اسے یہاںتک پہنچادیا۔(بيهقی، شعب الايمان، ج5، ص160، رقم:6189)

ان احادیث کو بیان کرنے کا مقصود یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں محبت، عشق بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمیں قرآن و سنت میں جابجا عشق کے مضامین دکھائی دیتے ہیں۔

ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے گیا تو ذوالبجدین صحابی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، مسجد نبوی میں اونچی اونچی آواز سے ذکر کررہے تھے۔ میں نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے یہ ریاکار لگتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا خبردار اسے ریاکار نہ کہو تمہیں معلوم نہیں یہ ذوالبجدین ہے، میرا غلام ہے۔

اس واقعہ کے کچھ دن بعد ان کی وفات ہوگئی۔ صحابی کہتے ہیں کہ میرے کانوں میں ذوالبجدین کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلمات ابھی تک گونج رہے تھے لہذا میں ان کی تدفین میں شرکت کے لئے قبرستان پہنچا۔ وہاں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر پر خود کھڑے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ قبر کھود رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمارہے ہیں کہ اس کی قبر کو کھلا رکھو، اللہ تمہاری قبر کو کھلا رکھے گا۔۔۔ ذرا نرمی سے کام لینا، اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرے گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! لگتا ہے آپ کو اس سے بڑی محبت ہے۔ فرمایا: کیوں نہ ہو، اس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت تھی اسی لئے میں نہیں چاہتا کہ اس کی میت کو تھوڑی سی بھی تکلیف ہو۔

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت پر زندہ رہنے والا جب دنیا سے رخصت ہوگا اور اس کی میت کو لحد میں اتارا جائے گا تو مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرشتوں سے کہیں گے کہ میرا غلام ہے، مجھ سے محبت کرنے والا ہے، لہذا اس سے نرمی سے پیش آنا۔

آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدنا داؤد علیہ السلام ہمیشہ یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللهم انی اسئلک حبک وحب من يحبک والعمل الذی يبلغنی حبک اللهم اجعل حبک احب الی من نفسی و اهلی ومن الماء البارد.

(ترمذی، السنن، کتاب الدعوات عن رسول الله، باب جامع الدعوات، 5:522، رقم:3490)

’’باری تعالیٰ میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور جو تجھ سے محبت کرے اس بندے کی محبت مانگتا ہوں اور اس عمل کی محبت مانگتا ہوں جو عمل مجھے تیری محبت کے قریب کردے۔ اے اللہ اپنی محبت کو میری جان، میرے اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی کے پینے سے ملنے والے سکون کی محبت سے بھی زیادہ کردے‘‘۔

آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرماتے:

اللهم ارزقنی حبک وحب من ينفعنی حبه عندک.

(جامع ترمذی، ابواب الدعوات، ج 5 ص523 رقم3491)

’’باری تعالیٰ مجھے اپنی محبت عطا فرما اور اس کی محبت دے جس سے محبت کرنا مجھے تیرے حوالے سے نفع دے ‘‘۔

پس حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں اللہ کی محبت بھی ہے اور اللہ کے ان بندوں سے محبت کرنا بھی ہے جن سے اللہ محبت کرتے ہیں اور جن سے محبت کرنے سے اللہ قریب ہوتا ہے۔ یہ محبت کا بنیادی اصول ہے۔ دین اسلام کی بنیاد محبت ہے، ایمان کی بنیاد محبت ہے، ہر رشتہ کی بنیاد محبت پر ہے۔ جس طرح اللہ سے تعلق محبت پر قائم ہے، اس طرح مسلمان کا رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق بھی محبت پر قائم ہے۔ ہر چیز محبت کے تابع ہے، تعلق کی اساس محبت ہے، ایمان کی اساس محبت ہے، ایمان کا بیج محبت ہے، ایمان کا کمال محبت ہے۔
عمل اور محبت دونوں میں فرق ہے جو لوگ عمل کو محبت کا نام دیتے ہیں وہ لوگ بہکاوے میں ہیں۔ عمل محبت کے کمال کے لئے لازم ہے مگر عمل، عین محبت نہیں بلکہ شرطِ محبت اور تقاضائے محبت ہے۔ محبت کا تعلق دل کی دنیا سے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں