میں‌اور شیطان … اسلم پرویز

Spread the love

شیطان کا روایتی تصور تو یہی ہے کہ وہ معلون ہے، مطعون ہے، خدا کی نافرمانی کرنے والا ہے اور انسان کو تمام برائیاں وہی سکھاتا ہے۔ شیطان کا یہ تصور آسمانوں سے آیا ہوا ہے۔ ہماری زمینی زندگی میں شیطان کے کچھ اور تصورات ہیں۔ مثلاً معصوم بچے کی شرارت کو شیطانی اور ایسے بچے کو شیطان کہتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک شیطان، انسان کی اس زندگی کا شریک ہے جو ’درد و داغ و سوز و ساز و آرزو و جستجو‘ سے عبارت ہے۔ پھر ہمارے معلمین اخلاق نے بھی گناہ گار لوگوں کے اس رویّے کی مذمت کی ہے جہاں وہ اپنے کارِبد کے لیے شیطان پر لعنت بھیجتے ہیں۔ بات کو آگے بڑھانے سے پہلے راجا مہدی علی خاں کی نظم ’’میں اور شیطاں‘‘ کو بھی تھوڑا یاد کرتے چلیں۔

میں اور شیطاں دیکھ رہے تھے

جنت کی دیوار پہ چڑھ کر

جنت کے دل چسپ مناظر

نیارے نیارے پیارے پیارے

میں اور شیطاں دیکھ رہے تھے

موٹی موٹی توندوں والے

لمبی لمبی داڑھی والے

خوف زدہ حوروں کے پیچھے

چٹکی بجاتے ناچتے گاتے

دوڑ رہے تھے بھاگ رہے تھے

میں اور شیطاں دیکھ رہے تھے

ہماری شعری روایت میں شاعر حق کا علم بردار ہے اور اپنا سلسلہ ابراہیم، منصور، سرمد اور سقراط سے ملاتا ہے اور بقول حافظ نمائشی زہد کو ریا کا مترادف قرار دیتا ہے۔ ‘کہ حافظ توبہ از زہد و ریا کرد’۔ اور جب راجا مہدی علی خاں کی نظم ’میں اور شیطاں‘ میں شاعر اور شیطان دونوں ہی ایک ساتھ مولوی کی جنت کا مضحکہ اڑا رہے ہیں تو اس کا مطلب گویا یہی ہوا کہ راجا مہدی علی خاں کی رو سے زندگی کی اس تگا پوئے دمادم میں شاعر اور شیطان دونوں ہی ایک دوسرے کے ہم رتبہ اور ہم پلہ ہیں۔ اپنے اپنے شخصی امتیاز کے ساتھ یعنی یہ کہ اگر کوئی مجھ سے میرے ’میں‘ کے تشخص پر سوال کرے تو میں جواب دوں گا۔ ’میں کہ خود اپنے ہی مذاقِ طرب آگیں کا شکار‘ جب کہ شیطان اسی سوال کے جواب میں کہے گا۔ ’میرے طوفاں یم بہ یم دریا بہ دریا جوبہ جو‘ یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ مجھ میں اور خلیق انجم میں بہت سی خصوصیات مشترک ہیں تب ہی تو ہم اتنا لمبا ساتھ نبھاتے چلے آرہے ہیں لیکن ان مشترک خصوصیات کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کی کاربن کاپی ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ کوئلہ کوئلہ ہے اور پانی پانی ۔ہاں آپ مجھے اور خلیق انجم کو ایک ہی سکے کے دو رخ کہہ سکتے ہیں اور سکّہ بھی دھات کی اکہری ٹکلی کا جس کی ایک ہی پرت ہوتی ہے جہاں دوسری پرت کے چھٹ کر علاحدہ ہوجانے کا کوئی خدشہ نہیں۔ اس انجذاب و انضمام کے باوجود ایک ہی سکّے کے ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں، ایک ہیڈ اور دوسرا ٹیل جس کے لیے تقسیم سے پہلے کی اردو میں ملکۂ وکٹوریہ کی تصویر والے سکے کے متعلق سے میم حرف کی اصطلاح رائج تھی۔ میم سے مراد انگریز عورت یعنی ہیڈ اور حرف گویا ٹیل۔ اب وہ دنیا جس میں میں اور خلیق انجم رہتے ہیں یہ بات تو بخوبی جانتی ہی ہوگی کہ اس سکّے کا ہیڈ تو خلیق انجم ہی ہیں اور ٹیل اسلم پرویز اور اس بات کی تصدیق و توثیق خود میں اپنے ساتھ خلیق انجم کی اس سدا بہار اور پرشفقت ہیکڑی سے کرسکتا ہوں جسے اسی ہیڈ اینڈ ٹیل کے ایک محاورے میں Head, I win tail you lose۔ کہتے ہیں۔ شیطان کے زمینی تصور میں شیطان کی وہ ذہانت اور فطانت اور وہ قوتِ مقابلہ اور مجادلہ بھی ملحوظ ہے جسے اقبال جیسے شاعر نے خراج پیش کیا ہے۔ اور جب میں اپنے ساتھ خلیق انجم کو شیطان کہہ رہا ہوں تو اس کا سیدھا مطلب یہی ہوا کہ اس ایک سکّے کا، جس کے ہم دونوں دورخ ہیں، ہیڈ تو خلیق انجم ہی ہوئے اس لیے کہ ذہانت اور فطانت یا بالفاظِ دیگر شیطنت کا تعلق تو سر ہی سے ہے۔ اب میری مشکل یہ ہے کہ اگرچہ میں اس سکّے کی ٹیل یعنی دم ہوں جس کے کہ خلیق انجم ہیڈ یعنی سر ہیں لیکن اکثر لوگ مجھے بجائے اس سکّے کی دم کے خود خلیق انجم ہی کی دُم سمجھتے رہے تاآنکہ میری شادی نہیں ہوگئی اور میں ہر شوہرِ مسکین کی طرح اپنی بیوی کی دم نہیں ہوگیا۔ خلیق انجم کی ’ہیکڑی‘ تو مجھ پر آج تک ہے لیکن اس ہیکڑی اور بیوی کی ہیکڑی میں فرق ہے۔ خلیق انجم کی دھونس تو مجھ پر یہ ہے کہ بیٹا وہ کام تو میں تیرے اچھے سے کرواکے رہوں گا جس کام کے کرنے کے تو لائق ہے اور میری بیوی کا ٹھینگا یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ایسا کام جو خود ان کے بس کا نہیں اس کام کو میرے بس کا تو ہونا ہی چاہیے۔ اب میں چکّی کے ان دوپاٹوں کے بیچ میں برابر رگڑے کھا رہا ہوں۔ پس یوں نہیں چکتا کہ سخت جان ہوں اور نکل کے باہر جاؤں تو کہاں کہ ان سے باہر سوائے ایک بے اماں خلا کے اور کچھ بھی نہیں۔

یہ ۱۹۴۸ء کا قصہ ہے ’دوچار برس کی بات نہیں‘ جب میری اور خلیق انجم کی ملاقات ایک دوسرے سے ہوئی تھی۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے اینگلو عربک ہائر سیکنڈری اسکول کی دلّی شہر میں کئی شاخیں تھیں۔ ایک شاخ دریاگنج میں پٹودی ہاؤس پر بھی تھی جہاں خلیق انجم پڑھتے تھے۔ یہ اسکول کلاں محل سے قریب تھا جہاں خلیق انجم کاگھر تھا۔ میں شروع ہی سے اجمیری دروازے والی برانچ میں تھا۔ ۱۹۴۷ء کے فسادات میں سب کچھ تہس نہس ہوگیا۔ مارچ ۱۹۴۸ء میں جب فسادات کی آگ ٹھنڈی ہوئی تو اجمیری دروازے پر مدرسہ غازی الدین خاں میں اینگلو عربک ہائر سیکنڈری اسکول پھر سے شروع ہوا۔ اب پوری دلّی میں ایک ہی اینگلوعربک اسکول رہ گیا تھا۔ چنانچہ اینگلوعربک کی تمام سابقہ شاخوں کے بچے کھچے طلبہ نے یہیں داخلہ لیا۔ اور روز انگریزی کی کلاس جاری تھی۔ مولانا زبیر قریشی جو سینٹ اسٹیفن کالج کے طالب علم رہے تھے زور شور سے مینس فیلڈ کی گرامر سے analysis کا سبق پڑھا رہے تھے کہ ایک لڑکا شلوار قمیص میں ملبوس پیروں میں چپل پہنے سرپر بالوں کا گپھّا بنائے بغل میں کچھ کتابیں دبائے کلاس روم میں داخل ہوا۔ بظاہر یہ نیو ایڈمیشن کیس تھا۔ مولانا زبیر قریشی نے خلافِ عادت اس لڑکے سے اس کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا۔ بعد میں اس کا سبب بھی معلوم ہوگیا کہ اس لڑکے سے ان کی عزیزداری تھی۔ مولانا زبیر قریشی نے نووارد کو ایک خالی بینچ پر بیٹھنے کا اشارہ کرکے analysis کا سبق پھر وہیں سے شروع کردیا جہاں سے منقطع کیا تھا۔ میرے برابر کی سیٹ پر عشرت نام کا ایک لڑکا بیٹھتا تھا۔ یہ لڑکا اس سے پہلے پٹودی ہاؤس کی برانچ میں تھا۔ عشرت نے اس لڑکے کے داخل ہوتے ہی کہا ’ابے یہ بھی یہاں آگیا‘۔ میں نے پوچھا کون؟ وہ بولا۔ ’یہی جو ابھی آیا ہے۔ خلیق ہے اس کا نام، بڑا حرامی ہے سالا۔‘ اس وقت اس لفظ حرامی کا استعمال نہ تو عشرت ہی نے سوچ سمجھ کر کیا تھا اور نہ میں ہی اس کے دور رس امکانات کا اندازہ لگانے کا اہل تھا۔ آج باون برس بعد جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو میری سمجھ میں اس لفظ حرامی کے معنی یہ آرہے ہیں کہ خلیق انجم دنیا میں صرف اپنی شرطوں پر جینے کے لیے پیدا ہوا ہے اور اس انداز سے جینے کے عذاب ثواب کا بھی وہ تنہا ہی حصے دار ہے۔ عام طور پر لوگ جب کسی کام کی طرف بڑھتے ہیں تو پہلے وہ یہ جاننے کے لیے کہ آیا وہ یہ کام کربھی سکیں گے اپنے آپ کو ناپتے تولتے ہیں۔ خلیق انجم کا مزاج یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے توبے خطر آتشِ نمرود میں کود پڑتا ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ہاتھ کے ہاتھ اپنے اندر ایک عملی فراست کو جنم دیتا ہے اور پھر اس فراست کے اسپِ تازی کی راسیں کھینچتے ہوئے وہ اس آگ کے دریا کے پار اتر جاتا ہے۔ ہمارے شاعروں نے عقل کو کہیں عشق کا آئینہ دکھلایا ہے ’کہیں دل کا‘ کہیں جنون کا اور کہیں خبر کا۔ خلیق انجم عقل کو عمل کا آئینہ دکھاتے ہوئے چلتے ہیں۔ مختصر یہ کہ خلیق انجم کار زارِ حیات میں عمل سے کتنا کام لیتے ہیں یہ تو آپ کو ان کے مقربین میں سے کوئی بھی بتا سکتا ہے۔ رہا یہ کہ انھیں عقل کی رہ نمائی کتنی حاصل ہے یہ سوال خود انیت سے پوچھنے کا ہے ،ہم تو بس اتنا ہی جانتے ہیں کہ محفل عقل سے کام لینے والے زندگی میں زیادہ تر پھسڈی ہی ثابت ہوئے ہیں۔

ہاں تو میرے کلاس فیلو عشرت نے خلیق انجم کے لیے لفظ حرامی کا جو استعمال کیا اس کے تعلق سے میرے نزدیک کسی مخرّبِ اخلاق رویے کی عدم موجودگی کے باوجود کسی کو حرامی کہنے کی نفسیات یہی ہے کہ یہ شخص ہم سے آگے کیوں نکلا جارہا ہے۔ گھپلا دراصل یہ ہے کہ بعض لوگ یوں بھی حرامی ہیں اور ووں بھی حرامی ،اور وہ اپنے اس طرح کے حرامی پن کو اس طرح کے حرامی پن سے آلودہ کئے رکھتے ہیں۔ لیکن جو حرامی پن خلیق انجم سے منسوب کیا جاسکتا ہے وہ انتہائی شفاف transparentاور مستحسن قسم کا حرامی پن ہے اور جس عمر کے حوالے سے عشرت نے خلیق کے بارے میں یہ کہی وہ تو معصومیت کی وہ شرارت ہے جسے ہم شیطانی کہتے ہیں۔ خیر تو اگلے ہی روز اسکول میں جب تفریح کا گھنٹہ بجا تو میں معمول کے مطابق اپنے ایک دوست کےانتظار میں کینٹین کے سامنے جاکھڑا ہوا، ساتھ چائے پینے کے لیے۔ وہ دوست تو نہیں آئے البتہ کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے سے خلیق چلے آرہے ہیں۔ مجھے ایک دم ان کے بارے میں عشرت کا دیا ہوا خطاب یاد آگیا اس لیے انھیں دیکھ کر کچھ دیر کے لیے سراسیمہ سا ہونے کی تیاری میں لگ گیا۔ اتنے میں وہ قریب پہنچ چکے تھے۔ انھوں نے ایک دم بے تکلفی برتتے ہوئے مجھ سے دریافت کیا ’چائے پیںس گے؟‘ اور اسی کے ساتھ ہم چائے کی میز پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تھے۔ ہم چائے کے ساتھ ایک دوسرے کے بارے میں باتیں پوچھتے رہے اور کچھ زیادہ ہی تیزی کے ساتھ ایک دوسرے کے قریب بھی آتے گئے۔ چائے کا کپ ختم ہونے کے بعد خلیق نے جیب سے سگریٹ کاپیکٹ نکالا اور پہلے مجھے سگریٹ پیش کیا جو میں نے بلا تردّد قبول کرلیا۔ حالا نکہ میں نے اس سے پہلے کبھی سگریٹ نہیں پیا تھا۔ میں نے مکمل اناڑی پن سے اور خلیق نے کمالِ مہارت سے اپنا اپنا سگریٹ جلایا۔ میں سگریٹ کا دھواں باہر کے باہر ہی چھوڑتا رہا اور وہ جلدی جلدی لمبے لمبے کش اندر کی طرف بھرتے رہے۔ تھوڑی ہی دیر بعدہم نے اپنے اپنے سگرٹ کے ٹوٹے کینٹین کی بھٹی میں جھونکے اور چل دیے پھر کلاس کی طرف۔ آہستہ آہستہ ہم اسکول سے واپسی پر بھی ساتھ نکلنے لگے جہاں سے ہم اِدھر ادھر گھومتے اپنے اپنے گھر پہنچتے۔ ایک روز ہم اسکول کے باہر اس گھاس کے میدان میں بیٹھے سگرٹ پی رہے تھے جو اس زمانے میں شاجی کا تلاؤ (شاہ جی کا تالاب) کہلاتا تھا اور جہاں اب کملا مارکیٹ ہے۔ باتوں باتوں میں خلیق نے مجھ سے پوچھا ’آپ نے سگریٹ کیسے شروع کیا‘۔ میں نے کہا، میں تو سگریٹ پیتا ہی نہیں بس جب آپ پیش کرتے ہیں تو ایک آدھ اب پینے لگا ہوں۔ خلیق نے یہ سن کر میرے ہاتھ سے جلتا ہوا سگریٹ لے کر توڑ کر پھینک دیا اور کہا ’نہیں پیتے تو مت پیجئے، یہ لت بہت بری ہے لگ جائے تو پیچھا مشکل ہی سے چھوڑتی ہے۔

انسان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل میں جو عوامل کارفرما ہوتے ہیں ان میں تقدیر کو ماننے یا نہ ماننے سے قطع نظر ماحول ،وراثت اور سرشت کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ جس وقت میں اور خلیق انجم ایک دوسرے سے ملے، باوجود اس کے کہ اس وقت ہماری عمریں ہی کیا تھیں، خلیق کے والد کو گزرے ہوئے کئی برس ہوچکے تھے پرمیرے والدین حیات تھے۔ اس اعتبار سے خلیق کی حیثیت ایک آوارہ پنچھی کی سی تھی اور میری سنہری پنجرے کے قیدی کی سی۔ گویا خلیق نے ’’جہنم کے آزاد شعلوں‘‘ کی لپیٹ میں جینا سیکھا اور میں نے ’غلامی کی جنت‘ میں پرورش پائی۔ چنانچہ خلیق نے شروع ہی سے اخترالایمان کے ’آوارہ منش آزاد سیلانی‘ لڑکے کی طرح زندگی کی رزم گاہ میں دوڑیں لگانی شروع کردی تھیں۔ اس طرح خلیق نے مارک ٹوین کے ٹام سویر اور ہکل بری فن کی طرح زندگی کے بہت سے ایڈوینچرز کا مزا لڑکپن ہی کی عمر میں چکھ لیا تھا۔ میری شخصیت پر اس عہد کے اس روایتی باپ کا سایہ تھا جس کے پُرہیبت ماڈل کو سامنے رکھ کر شاید ہماری زبان میں ’باپ رے باپ‘ کا محاورہ وجود میں آیا ہے۔ باپ کی بالواسطہ شفقت اور براہِ راست خشونت، کچی مٹی کے گھڑے جیسے میرے لڑکپن پر دباؤ ڈالنے والی ان کی صلابت ایثار، میرے مستقبل کے تحفظ کی فکر میں میری شخصی آزادی کو مصلوب رکھنے کی ان کی سوج بوجھ، سونے کا نوالا کھلانے اور قہر کی نگاہ سے دیکھنے کا ان کا رویہ، کھیل کود کو مجھ پر اس طرح حرام کردینے کا فتویٰ جیسے مسلمان پر سور کھانا، وضع قطع اور لباس کے معاملے میں خود میری پسند ناپسند پر اپنی پسند ناپسند کو ترجیح، گھر سے باہر نکلنے پر پہرے، یہ وہ خزانہ تھا جس سے گھر کی چہاردیواری میں ، میں مالامال تھا۔ لیکن خلیق کی طرح بھرے بازار میں بالی عمریا کو سراٹھاکر لئے چلنے کا میرے پاس کوئی سامان نہیں تھا۔ اس صورت حال میں خلیق کا وجود تازہ ہوا کے ایک جھونکے کے ساتھ اس کھڑکی کی طرح مجھ پر کھلا جس کے اس طرف ان خوش گوار آوارگیوں کا بہار ستان تھا جس میں شخصیت لالۂ خودرو کی طرح نشو و نما پاتی ہے۔ اس بہارستان میں خلیق جیسوں کی عمل داری تھی اور ہم جیسے تو اس میں گھر سے بھاگی یا بھگائی ہوئی لڑکیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔

فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ۱۹۴۸ء میں جب اینگلو عربک اسکول دوبارہ کھلا تو دو تین سال تک پڑھائی کی اتنی بری حالت رہی کہ بورڈ کے امتحانات میں فیل ہونے والوں کی شرح صد فیصد رہی۔ اس میں بڑا دخل ہم مسلمان بچوں کے لیے Higher Mathematics کے اس مضمون کا تھا جو اس وقت لازمی تھا۔ چنانچہ اینگلوعربک اسکول کے بیشتر لڑکوں نےاس زمانے میں دسویں کے امتحان کے بعد علی گڑھ کا رخ کرنا شروع کردیا۔ خلیق کی ذہانت نے انھیں علی گڑھ کا راستہ دکھایا۔ انھوں نے چلنے کے لیے مجھے اکسایا۔ مجھے یہ کام بظاہر ناممکن نظر آتا تھا اس لیے کہ میرے والد تو گھر ہی سے نکلنے کی اجازت مشکل سے دیتے تھے کجا کہ دلی چھوڑ کر علی گڑھ چلے جانا۔ میں نے خلیق سے کہا ، یار مجھے تو اس بارے میں اپنے باپ سے بات کرتےہوئے ڈر لگتا ہے۔ لیکن معاملہ اصل میں والد کے رعب سے زیادہ اس کمیونی کیشن گیپ کا تھا جس کے سبب میں والد سے خود ان کی قوت رعب سے بھی کہیں زیادہ مرعوب تھا۔ حالا نکہ معاملہ یہ تھا کہ تمام تر سختی کے باوجود وہ میری اعلیٰ تعلیم کے لیے ہمیشہ کوشاں اور فکرمند رہتے تھے۔ خلیق کے لیے یہی نکتے کی بات تھی۔ چنانچہ کیس یہ بنایا گیا کہ اس وقت دلّی میں مسلمانوں کے لیے جو ناسازگار فضا ہے اس میں مسلمان بچوں کے لیے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کے راستے بند ہیں اور اب علی گڑھ جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ کیس کی وکالت کے لیے جناب اختر ہاشمی کو معہ ان کی ڈاڑھی، ٹوپی اور اچکن کے ساتھ لیا گیا اور تھوڑی ہی سی ردوکد کے بعد میرے حق میں یہ مقدمہ فیصل ہوگیا کہ والد صاحب مجھے علی گڑھ بھیج دیں گے ۔ یوں اور بھی کہ وہاں میں اکیلا نہیں ہوں گا خلیق بھی میرے ساتھ ہوں گے۔ اب علی گڑھ پہنچ کر تو ہم کو گویا ہوا لگ گئی۔ اب مجھ پر سرشاری کا کچھ وہی عالم تھا جو ابوخاں کی بکری چاندنی پر رسی تڑا کر آزاد ہونے کے بعد طاری ہوا تھا اور یہاں ابوخاں کی رعایت بھی یوں خوب تھی کہ میرے والد بھی خاں صاحب تھے۔ میرے والد نے اگرچہ مجھے علی گڑھ اپنے مرضی ہی سے بھیجا تھا لیکن ان کے ذہن کے کسی گوشے میں کہیں نہ کہیں ویسی ہی پر شفقت ناگواری بھی تھی جس سے ماں باپ کو بیٹی جدا کرتے ہوئے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس نفسیاتی گرہ کو ڈھیلا کرنے کے لیے وہ کبھی کبھی کوئی حیلہ لطیف سی سرزنش کا نکال لیا کرتے تھے۔ ایسے موقعوں کے لیے انھوں نے خلیق کا نام چودھری خلیق الزماں رکھ چھوڑا تھا۔

خلیق نے دوستی کا ناتا جوڑتے ہی اپنی چھٹی حِس کے ذریعے میرے بارے میں بہت سے فیصلے خود ہی کرلیے تھے۔ یعنی یہ کہ یہ شخص مخلص ہے، بھروسے کے قابل ہے، تابع دار ہونے کی حدتک وفادار ہے، صاف دل ہے اور یہ بھی کہ ایسا آدمی اندر سے انتہائی کم زور ہوتا ہے، وہ مروت کے دائمی مرض میں مبتلا ہوتا ہے، وہ خود مختار نہیں ہوسکتا، اس میں اخلاقی جرأت کی کمی ہوتی ہے ۔لہٰذا اس کے ساتھ ایک ایسے جری سرپرست کا ہونا نہایت ضروری ہے جو اپنی مشکلات کی باڑ کاٹتے ہوئے اپنا رستہ صاف کرنے کے ساتھ ساتھ اسے بھی راستہ دکھاتا چلے۔ لیکن جس طرح ریڑھےکے اڑیل ٹٹو کا مالک بیچ سڑک پر اکڑوں بیٹھے ہوئے ٹٹو کو اپنے کندھوں پر ڈھوکر لے چلنے کے بجائے چابک مار مار کر اسے بالآخر چلتا کرتا ہے اسی طرح خلیق بھی مجھے چلاتے رہے ہیں۔ میری اپنی ہی ٹانگوں کے بل پر۔ یہ خلیق کا میری زندگی میں ایک اہم رول ہے۔ خیر تو ان کے اس سرپرستانہ رویے کے معنی ہمارے تعلقات میں ہمیشہ کے لیے یہ طے پائے کہ یہ باس اور میں ان کا سب آرڈی نیٹ۔ اب ان تعلقات میں ایسے مقامات بھی آتے رہے ہیں جہاں وہ داستانوں کے بادشاہ اور میں ان کا وزیر باتدبیر ثابت ہوا ہوں مگر بادشاہ پھر بادشاہ ہے اور وزیز وزیر۔ چنانچہ کبھی کبھی وزیر کی تدبیر بھی بادشاہی کے کھاتے میں چلی جاتی ہے۔

علی گڑھ میں ہم چار سال رہے۔ ہمارے علی گڑھ پہنچنے کے کچھ ہی دن بعد شہر سے ’شمع‘ کی طرز کا ایک فلمی رسالہ ’جھلک‘ جاری ہوا۔ ایک انٹرمیڈیٹ فیل قسم کے طاہر صدیقی عرف طاہر علیگ اس کے اڈیٹر تھے۔ خلیق نےرسالے میں چھپنے کے لیے کچھ بھیجا اور اڈیٹر کے نام لچھے دار قسم کا ایک خط بھی لکھا۔ جواب میں طاہر علیگ صاحب نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور پھر ایک دن خود ہی ملاقات کےلیے ممتاز ہاسٹل چلے آئے اور اسی ملاقات میں یہ طے پاگیا کہ اگلے شمارے سے خلیق ’جھلک‘ کے اڈیٹر ہوں گے۔ علی گڑھ جیسے چھوٹے سے شہر سے جھلک جیسا نیم فلمی ،نیم ادبی پرچہ نکالنے کا مطلب یہ تھا کہ آدھا پرچہ تو خود تصنیف کیجئے اور باقی آدھا چلتے ہوئے فلمی پرچوں سے نقل کیجیے۔ اب یہ باس اور سب آرڈی نیٹ والا معاملہ جس کا ذکر ابھی ہوچکا ہے میرے اور خلیق کے درمیان ہمیشہ سے ایک طرح کی باہمی انڈراسٹینڈنگ رہا ہے ۔یہ کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کی ڈرائنگ روم میں دو اشخاص ایک ساتھ داخل ہوں اور اپنے اپنے حوصلے یا کم ہمتی ،خوداعتمادی یا انکساری، رعونیت یا بردباری کے مطابق بناکسی ردوکد، بنا کسی کنفیوژن، بنا کسی تبادلہ تکلفات ان میں سےایک زیادہ آرام دہ اور قدرے ممتاز اور دوسرے نسبتاً کم آرام دہ اور دور افتادہ نشست اختیار کرلے۔ علی گڑھ میں بی اے کے آخری سال میں چلتے چلتے ہم نےایک دہلی کیفے بھی کھول ڈالا۔ یہ گولڈن آئیڈیا بھی خلیق انجم ہی کا تھا۔ یوں تو حقیقتاً یہ ہم دونوں کا مشترکہ وینچر تھا لیکن عملی طور پر فیصلے کرنے اور پالیسی بنانے کی مالکانہ قسم کی ترجیحات خلیق انجم کا حصہ تھیں اور انتظامی امور کی پیروی میرے ذمے داری تھی۔ اس وینچر کا کیا انجام ہوا اس پہیلی کا حل آپ سوچئے، اتا پتا یہ ہے۔

یہ لوگ کیوں مری عریانیوں پہ ہنستے ہیں

لباس پھونک کے میں خود کو تو بچا لایا

مسلم یونیورسٹی کے ممتاز ہاسٹل میں میں ہم دس گیارہ لڑکوں کا گروپ تھا۔ ہم لوگوں میں ہاسٹل لائف کی پھونک کچھ زیادہ ہی بھری ہوئی تھی۔ activity کرنا، پروکٹوریل قوانین کی خلاف ورزی کرنا ہمارا صبح و شام کا معمول تھا۔ اس گروپ کے دو سرغنےتھے ایک میرٹھ کی نادر علی بلڈنگ کے کسی پولس آفیسر کے فرزند اعجاز اور دوسرے خلیق انجم۔ ہم نے شرارتوں کےمیدان میں کئی تاریخی کارنامے انجام دیے جن کے نتیجے میں کچھ کو یونیورسٹی سے ڈیبار ہونا پڑا، کچھ پر جرمانے ہوئے لیکن سزا سے صاف بچ نکلنے والوں میں جو لوگ شامل تھے ان میں ایک خلق انجم بھی تھے۔

علی گڑھ میں ہم دونوں کا ہروقت کا ساتھ تھا اس لیے ہم دونوں انجم اسلم ہی کے نام سے مشہور تھے۔ بعض لوگوں کو ہمیں دیکھ کر بڑی حیرت ہوتی تھی اس لیے کہ ہم دونوں کی مثال کسی چلتی ہوئی سائیکل کے ایسے دوپہیوں کی سی تھی جس کااگلا پہیا سومیل فی گھنٹے اور پچھلا دس میل فی گھنٹے کی رفتار سے گھومتا تھا پھر بھی دونوں اس چلتی ہوئی سائیکل کااٹوٹ انگ تھے۔ بعض لوگ کہا کرتے تھے، یہ خلیق بڑا چلتا پرزہ ہے مگر اس کے ساتھ جو وہ گورا سا لڑکا رہتا ہے وہ بہت سیدھا ہے۔ مگر میں اس کامپلی مینٹ سے کچھ خوش نہیں ہوتا تھا اس لیے کہ مجھے اس موقع پر منٹو کی ایک کہانی کا وہ کردار یاد آجاتا تھا جو والنٹیر تھا اور جب ایک بار اس کی محبوبہ نے اس سے اس لفظ والنٹیر کی وضاحت چاہتے ہوئے یہ پوچھا تھا کہ والنٹیر کسے کہتے ہیں تو اس نے برملا جواب دیا تھا ’الو کے پٹھے کو‘۔

آج میں جہاں بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں کبھی جب اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ اگر خلیق کا وجود میرے زندگی میں نہ ہوتا تو جانے میری زندگی کا رخ آج کیا ہوتا۔ یوں تو آدمی زندگی میں جو کچھ بنتا ہے اپنی ذاتی صلاحیتوں ہی کے بل پر بنتا ہے لیکن اس کے کچھ بھی بننے کا دارومدار بڑی حدتک اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے اپنی ابتدائی زندگی میں کیسے ساتھی ملے، وہ کن لوگوں کے حلقہ اثر میں رہا۔ خلیق انجم کے مزاج میں بلا کی سیما بیت ہے وہ ہمیشہ سے ایک بہت ہی ambitious انسان رہے ہیں۔ ہر ambitious انسان کی اپنے ambitions پورا کرنے کی ایک ethics ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ ethics مجھ جیسے unambitous انسان کی ethics سے یقیناً مختلف ہوتی ہے لیکن ambitious لوگوں میں اس ethics کے ان کی اپنی اپنی اچھی یا بری فطرت کے مطابق الگ الگ درجات ہوتےہیں۔

بےجا مروت، جرأت اخلاق کی کمی، شائستگی کی بلندیوں کو چھونے کی للک، اپنے حقوق کا گھلا گھونٹنے کا رویہ ،چوری چھپے محنت کرنے کی عادت ،اپنے مفاد کے لیے کچھ بھی نہ کرسکنے یا نہ کرسکنے کی کمی ،یہ میری شخصیت کی وہ کمزوریاں رہی ہیں جو کسی شخص کو کہیں کا بھی نہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن پھر بھی ایسا کیوں ہوا کہ میرے حصے میں کہیں کا بھی نہ رہنا نہیں آیا۔ اس کا جواب اگر صرف ایک لفظ میں پوچھئے تو یہ ہے کہ خلیق اگر خدانخواستہ یہی مزاج جو میرا ہے خلیق کا بھی ہوتا تو، ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے، والا مضمون ہوجاتا لیکن شکر ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اگر ہوا تو یہ کہ ’ہم تو تیرے ہیں صنم تم کو بھی لے تیریں گے۔‘ خلیق انجم کی نظر ہمیشہ accomplishment پر رہی ہے ایسا آدمی پچھڑتا نہیں اپنے نشانے کی طرف تیرکی سی تیزی کے ساتھ دوڑتا رہتا ہے۔ میں اس کے برخلاف perfectionism کے خواب زاروں کا سیلانی ہوں۔ ایسے آدمی کا ایک ایک قدم بھاری پڑتا ہے۔ وہ دو قدم آگے چلتا ہے تو دس قدم پیچھے پھسل پڑتا ہے۔ ایسی صورت میں میری زندگی کو ایک ایسا آدمی چاہیئےتھا جو مجھے وقتاً فوقتاً دوڑائے رکھے اور وہ آدمی خلیق انجم کی صورت میں وقت سے بہت پہلے مجھے مل بھی گیا۔ دراصل ایک لکھنے پڑھنے والے کی حیثیت سے میں نے اپنے آپ کو جتنا دریافت کیا ہے وہ خلیق انجم ہی کے توسط سے کیا ہے۔ اب اگر اس میدان میں میرا بھی اپنا کوئی جوہر ہے جو ان تمام جواہر سے علاحدہ ہے جو خلیق انجم کی ذات سے مشخص ہیں تو اس میں عجیب بات کیا ہے۔ اگر زمانے نے زمین کی قوت کشش کو نیوٹن کے توسط سے دریافت کیا ہے تو کیا ضروری ہے کہ وہی قوت کشش خود نیوٹن میں بھی ہو اور ایسا بھی نہیں اس کے باوجود نیوٹن کی عظمت اپنی جگہ برقرار ہے۔

اگر ہم دلّی چھوڑ کر علی گڑھ نہ گئے ہوتے تو ہوسکتا ہے کہ دہلی ہائر سکینڈری بورڈ کی Higher Mathemetics کے لازمی مضمون کی خلیج کو ہم کبھی پار نہ کرپاتے اور ہم پر یونیورسٹی ایجوکیشن کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتے۔ مجھ کو اپنے ساتھ گھسیٹ کر علی گڑھ لے جانے والے بھی خلیق ہی تھے۔ علی گڑھ سے واپس آکر میں نے ہفت روزہ ’’آئینہ‘‘ کی ملازمت اختیار کرلی اور خلیق انجم بجلی کے پرانے پنکھے بنانے کی فری لانسنگ میں لگ گئے۔ پھر ایک روز یوں ہوا کہ دن کے گیارہ بجے خلیق میرے پاس ’آئینہ‘ کے دفتر میں آئے اور دفتر سے چھٹی دلاکے سیدھے دلی کالج پہنچے۔ میرے پوچھنے پر کہ آخر قصہ کیا ہے بتایا کہ ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی اور کالج کے پرنسپل مرزا محمود بیگ صاحب سے بات کرنی ہے۔ اردو ایم ۔اے میں داخلے کے لیے، بس یہیں سے ہماری زندگیوں کارخ اس طرح مڑگیا جہاں آج ہم ہیں۔

ہمارے ایم ۔ اے فائنل کے امتحانات قریب تھے کہ میرے والد کا انتقال ہوگیا جس کے سبب میں امتحان اس سال نہیں دے سکا۔ خلیق کا ایم ۔اے مجھ سے ایک سال پہلے مکمل ہوگیا۔ ان دنوں ڈاکٹر سروپ سنگھ کروڑی مل کالج کے قائم مقام پرنسپل تھے۔ وہ کالج میں اردو کا شعبہ بحال کرنے کی فکر میں تھے۔ انھوں نے بیگ صاحب سے رجوع کیا کہ وہ اپنے کالج کا کوئی ایسا ایم ۔اے پاس طالب علم انھیں دیں جو دلّی والا ہو اور بیگ صاحب اس کی لیاقت سے مطمئن ہوں۔ بیگ صاحب نے فوراً ہی خلیق انجم کو ڈاکٹر سروپ سنگھ کی جانب روانہ کردیا۔ خلیق انجم نے پہلے سال پارٹ ٹائم لکچرر کی حیثیت سے پڑھایا اور اس ایک ہی سال میں نہ صرف پورے کالج میں اپنے لیے فضا ہموار کرلی بلکہ ڈاکٹر کنور محمد اشرف اور ڈاکٹر سروپ سنگھ کے دلوں میں بھی جگہ پیدا کرلی۔ ایک سال بعد جب لکچرر کی پوسٹ کے فل ٹائم اور پرماننٹ ہونے کا موقع آیا تو ایک صاحب جو سینٹ اسٹیفن کالج میں پارٹ ٹائم لکچرر تھے وہ بھی میدان میں کود آئے اور کچھ ایسا لگتا تھا کہ شاید یونیورسٹی کے صدر شعبہ بھی ان پر مہربان تھے۔ خلیق انجم نے ان خدشات کا اظہار ڈاکٹر اشرف اور ڈاکٹر سروپ سنگھ سے کیا اور بیگ صاحب کو بھی صورت حال سے آگاہ کردیا۔ ڈاکٹر سروپ سنگھ ٹھہرے کھرے جاٹھ ،انھوں نے خلیق انجم سے کہا ’دیکھو میں نے یہ پوسٹ صرف تمہارے لیے نکلوائی ہے اور میں نے تمہاری ایک سال کی کارکردگی میں یہ دیکھ لیا ہے کہ آگے چل کر کیمپس کے کالجوں میں اگر کروڑی مل کالج کے شعبہ اردو کو اپنی کوئی امتیاز قائم کرنا ہے تو وہ تم جیسے آدمی کے یہاں رہتے ہی ہوسکتا ہے۔ تم فکر نہ کرو ، اگر صدر شعبہ نے کسی اور شخص کو کالج پر تھوپنے کی کوشش کی تو میں یہ پوسٹ ہی ختم کردوںگا۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ نوبت آئے صدر شعبہ کو ڈاکٹر سروپ سنگھ کا اندیشہ پتا چل گیا اور پھر وہی ہوا جو ڈاکٹر سروپ سنگھ چاہتے تھے۔ کچھ ہی دنوں میں خلیق انجم نے کروڑی مل کالج کے شعبہ اردو کو آسمانوں پر پہنچادیا۔ شعبے میں ان کے کارناموں کی طویل فہرست ہے جنھیں یہاں دہرانے کا محل نہیں۔

کروڑی مل کالج سے چل کر وزارتِ تعلیم میں گجرال کمیٹی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے خلیق انجم، انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریٹری کے عہدے پرپہنچے۔ یہاں ایک دل چسپ بات کا ذکر ضروری ہے۔ مسلم یونیورسٹی کے ممتاز ہاسٹل میں ہمارے ونگ کا بیرا بہادر نامی ایک بوڑھا شخص تھا۔ پاس ہی کے جمال پور گاؤں کا رہنے والا۔ وہ اسی زمانے سے خلیق انجم کو انجمن صاحب کہا کرتا تھا۔ اس کی یہ پیش گوئی خلیق انجم کے حق میں پتھر کی لکیر بن گئی۔ چنانچہ آج وہ اردو گھر میں اپنے پورے شان و شکوہ کے ساتھ انجمن صاحب بنے بیٹھے ہیں۔ اردو گھر کی یہ بلند و بالا اور شان دار عمارت جو ہم دیکھ رہے ہیں اس میں کرنل بشیر حسین زیدی مرحوم کی سرپرستی اور رہ نمائی کے ساتھ خلیق انجم کی شخصیت کا وہ ڈائنامزم شامل ہے جس کی تعریف کرنے والے، جس پر رشک کرنے والے اور جس سے جلنے والے سبھی طرح کے لوگ موجود ہیں۔

خلیق انجم نے اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں ہی سے روزگار کے وسائل کی تلاش میں کبھی جھوٹے وقار کو اپنےراستے کا پتھرنہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہرکام کو خواہ وہ اکاڈمک نوعیت کا ہو، یا کسی اور طرح کا اور کسی بھی سطح کا،اسے پوری dignity of labour کے ساتھ کیا۔ ان کاموں میں ڈاک خانے کے باہر بیٹھ کر خط لکھنا، سرِ بازار دکان کے پٹرے پر بیٹھ کر بجلی کے پرانے پنکھوں کی مرمت کرنا، کروڑی مل کالج کی لکچرر شپ، گجرال کمیٹی کی ڈائرکٹر شپ، جامعہ اردو کی وائس چانسلری اور انجمن ترقی اردو (ہند) کی جنرل سکریٹری شپ یہ سبھی شامل ہیں۔

میں نے کچھ دیر پہلے خلیق انجم کے اور اپنے تعلق سے accomplishment اور perfectionism کی بات کہی تھی۔ معاملہ یہ ہے کہ جس شخص کو ایک ہی ساتھ بہت سارے کام کرنے ہوں اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ایک ہی کام کو لئے بیٹھا اس میں میناکاری کرتا رہے۔ وہ مخالفتوں کی بھی پروا نہیں کرتا۔ وہ صحیح کام کو ہر قیمت پر تیزی کے ساتھ آگے بڑھانے میں کوشاں رہتا ہے،چاہے اس کے لیے کبھی کبھی غلط راستہ ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑے۔ وہ ایک کام کی تکمیل کے بعد کچھ دیر بیٹھ کر دم لینے کا بھی قائل نہیں ہوتا بلکہ پچھلے کام کی تکمیل سے پہلے ہی وہ کسی اگلے کام کا منصوبہ بناکر اس کی ابتدا بھی کرچکا ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کی ایک نفسیات اور بن جاتی ہے۔ اس کے پاس دوسروں کی سننے کا وقت نہیں ہوتا۔ وہ اپنی بات کو احکام کی طرح صادر کرتا ہوا آگے نکل جاتا ہے۔ دوسروں کو ان کی بات کہنے کا موقع کم ہی دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ دوسروں کے پاس تو اپنی بات کہنے کا وقت ہی وقت ہے۔ لیکن اسے تو انجمن ترقی اردو (ہند) جیسی کل ہند تنظیم کو چلانا ہے، اردو تحریک کے جلوس میں جھنڈا اٹھاکر چلنا ہے، شاعروں کے مزارات کی بازیافت کے لیے سپریم کورٹ میں وکیل کی جگہ خود کھڑےہوکر مقدمے کی پیروی کرنی ہےاور اسی کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں خطوط غالب اور آثار الصنادید کی تدوین جیسے وہ علمی اور ادبی کارنامے بھی انجام دینے ہیں جو اسے آگے چل کر تاریخ ادب اردو کا ایک حصہ بنانے والے ہیں۔ اس درجہ فعال شخصیت میں تھوڑا بہت عنصر خودسری کا شامل ہونا لازمی سی بات ہے۔ اس خودسری کو بعض لوگ چودھراہٹ سےتعبیر کرتے ہیں۔ لیکن کام کے راستے میں اڑنگے لگانے والوں کےہجوم کے سروں پر چھلانگ لگانے کے لیے کبھی کبھی چودھراہٹ بھی ضروری ہوجاتی ہے۔ صالح مقاصد کے حصول کے لیے چودھری بننے میں بھی کوئی مضائع نہیں۔ situational ethics کی رو سے تو بسااوقات قتل کر گزرنا بھی مستحسن قرار پاجاتا ہے۔ چودھری کہیں آسمان سے نازل نہیں ہوتے وہ ان معاملات کی کوکھ ہی سے پیدا ہوتے ہیں جن معاملات کو چودھری چاہیے ہوتے ہیں، چودھری مرزا محمود بیگ، چودھری خواجہ احمد فاروقی، چودھری انور جمال قدوائی، چودھری سروپ سنگھ یہاں تک کہ چودھری خلیق انجم بھی ایسی ہی کچھ مثالیں ہیں۔

جب شاعر یہ کہتا ہے۔

میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی

ہیولہ برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا

تو اس شعر میں خرابی کا سیدھا سا اشارہ بظاہر برقِ خرمن ہی کی طرف ہے۔ لیکن کبھی کبھی خون گرم بھی تھوڑی بہت خرابی کا باعث ہوسکتا ہے۔ یہاں ’تھوڑی بہت‘ کے لفظ پر اصرار کرتے ہوئے اس شعر کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے۔

جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

میں جانتا ہوں کہ خلیق انجم ہائرنٹینشن کے مریض نہیں ہیں۔ میں یہ بات بھی وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ تخریب پسند بھی نہیں۔ ان کے ہاں مخالف کو نیست و نابود کردینے کا نہیں اس پر سبقت لے جانے کا جذبہ کارفرما رہتا ہے۔ ہرمحاذ پر مقابلے کے لیے ڈٹے رہنا ان کا مزاج ہے۔ نئے نئے مقابلوں کی تلاش ان کی زندگی کا مشغلہ ہے۔ ان کاموں کے لیے لہو گرم رکھنے کی ضرورت رہتی ہے۔ اس لیے مخالفین کے ساتھ تک یہاں کہ دوستوں کے ساتھ بھی کبھی کبھی چھوٹی موٹی جھڑپیں چلتی رہنی چاہیں۔ ایسی جھڑپوں میں مدمقابل کو زچ کردینے کے خلیق انجم کے پاس بہت سے پینترے ہیں۔ مثلاً کسی بحث کے آغاز ہی میں اپنی بات زور شور سے کہی اور سامنے والے شخص کی جانب سے اس بات کاجواب آنے سے پہلے ہی بجلی کی سی تیزی سے گفتگو میں گریز کا پہلو نکال کر کوئی اور بات شروع کردی یا اپنی بات کے جواب میں اگر دوسرے کی بات سنی بھی تو اس کے سامنے اس بات کو یہ کہتے ہوئے گویاردّی کی ٹوکری میں ڈال دیا ’اچھا چھوڑو یار کوئی اور بات کرو‘۔ میرے ساتھ خلیق انجم کا معاملہ دنیا سے نرالا ہی ہے۔ وہ کوئی پروگرام ،کوئی اسکیم،کوئی پراجیکٹ بنائیں اس کے لیے میرا نام ان کی سمجھ میں سب سے پہلےآتا ہے۔ پھر ساتھ میں یہ بھی کہیں گے یار تم کام وام تو کرتے نہیں اب تمہارا نام رکھا ہے تو مجھے رسوا نہ کرادینا۔ میرے کام نہ کرنے سے ان کی عزت آبرو اتنی جلدی خطرے میں پڑتی ہے جس کا کوئی ٹھکانا نہیں۔

لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ اگر دنیا میں خلیق انجم کے سب سے قریب کوئی ہے تو وہ میں ہوں لیکن روح الا میں کے عروج سے بھی ایک اگلی منزل معراج کی ہے، اب اس کا مطلب آپ خود ہی سمجھ لیں۔ نزدیک ترین کی اصطلاح بھی دوچیزوں یا دو افراد کے درمیان کسی نہ کسی نوع کے فصل کا اشاریہ ہے خواہ وہ فصل بال برابر ہی کیوں نہ ہو۔ خیر تو اس نزدیکی کی بناپر بعض لوگ جو خلیق انجم سے کچھ کام لینا چاہتے ہیں تو وہ مجھے پکڑتےہیں یہ سوچ کر کہ سب سے زیادہ قابو خلیق انجم پر شاید میرا ہی ہے۔ خلیق انجم پر بھلا کس کا زور چلا ہے اور اگر چلے گا بھی تو صرف اس کا جس کا زور وہ اپنے پر چلوانا چاہیں گے۔ میں ٹھہرا گھر کی مرغی۔ میرے ان سے قریب ترین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی بات کے لیے جتنا صاف صاف مجھے منع کرسکتے ہیں دنیا میں کسی کو بھی نہیں کرسکتے۔ کسی دوسرے کی کوئی بات مانیں گے تو اس کی کوئی رگ بھی دبے گی ان سے۔ میری بھلا وہ کون سی رگ دبالیں گے پہلے ہی سے ساری رگیں دبائے بیٹھے ہیں۔

خلیق انجم اپنے روزانہ کے معمولات پر سختی سے کاربند رہتے ہیں۔ وہ ہرحالت میں رات کو دس بجے اپنے بستر پر ہوتے ہیں۔ صبح ساڑھے چار بنے اٹھ کر اپنے مطالعے کی میز پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اب آٹھ ساڑھے آٹھ تک یہ تین چار گھنٹے کا ٹائم ان کا اپنا ہے جو ان کی ادبی کاوشوں کے لیے وقف ہے۔ انھوں نے بالخصوص تحقیق و تدوین کے میدان میں اپنی جو شناخت قائم کی ہے وہ اسی سحر خیزی کے معمول کی دین ہے۔ دفتر کا ٹائم ساڑھے نو بجے کا ہے، یہ نو اور سوا نو کے بیچ دفتر پہنچ کر اپنی میز سنبھال لیتے ہیں۔ اور اب شام تک دنیاداری ہوتی رہتی ہے۔ آنے جانے والوں کا تانتا بندھا ہے، چار خوش ،چار ناخوش۔ دفتر کے مسائل اور الجھیڑے الگ ،اس کے علاوہ کتابوں کی اشاعت، بک ڈپو، انجمن کمپیوٹر سینٹر، قیصر تعلیمی مرکز، بچوںکا ادبی ٹرسٹ، ملک بھر میں پھیلی ہوئی انجمن کی شاخوں کی خبر گیری، اردو کے مسائل اور ان سے متعلق مطالبے، جلسے، جلوس اور تحریکیں ،غرض اتنی مصروف زندگی کہ خدا کی پناہ۔ اتنی مصروف زندگی میں آدمی کو تھوڑا بہت کامک ریلیف تو چاہیے ہی ہوتا ہے۔ اس کامک ریلیف کا سامان بھی قدرت نے خود خلیق انجم کی ذات ہی میں چھپا کر رکھ دیا ہے۔

خلیق انجم تہذیب اورشائستگی کا مطلب بخوبی جانتے ہیں لیکن مختلف مراتب کے لوگوں کے ساتھ ایک ہی طرح کی تہذیب کو برتنے کے وہ قائل نہیں۔ وہ شائستہ لوگوں کے ساتھ شائستہ، نیم شائستہ لوگوں کے ساتھ نیم شائستہ، یہاں تک کہ ناشائستہ لوگوں کے ساتھ ناشائستہ تک بن کر دکھاسکتے ہیں۔ ان کی وضع اس معاملے میں بقول سید انشا ء یہ ہے۔

کاٹے ہیں ہم نے یوں ہی ایام زندگی کے

سیدھے سے سیدھے سادے اور کج سے کج رہے ہیں

یہ بڑی جرأت کی بات ہے جو ہر شخص میں نہیں ہوتی۔ خلیق انجم ایک انتہائی مہذب انسان ہیں اس بات کی گواہی دینے والے کچھ لوگ تو اس دنیا سے اٹھ گئے جیسے کرنل بشیر حسین زیدی، پنڈت آنند نرائن ملا، پروفیسر خواجہ احمد فاروقی، مولانا امتیاز علی خاں عرشی، مرزا محمود بیگ، پرفیسر محی الدین قادری زور۔ جو لوگ بفضلِ خدا ہمارے بیچ موجود ہیں ان میں اندر کمار گجرال، ڈاکٹر سروپ سنگھ، سید حامد، پروفیسر جگن ناتھ آزاد اور ڈاکٹر راج بہادر گوڑ اس بات کے گواہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ایسی مثالیں بھی ہیں جہاں خلیق انجم نے رسمِ عقیدت کو کج کلاہی اور بانکپن سے نبھایا ہے۔ ایسے لوگوں میں پروفیسر آلِ احمد سرور، مالک رام، حیات اللہ انصاری اور پروفیسر مسعود حسین خاں شامل ہیں۔

خلیق انجم میں ظرافت طبع بھی بلا کی ہے۔ ان کی حِس مزاح انتہائی تیز ہے جو ان کی حاضر دماغی اور حاضر جوابی سے مل کر بڑے گل کھلاتی ہے۔ کوئی بھی برجستہ، کوئی زور دار پھبتی کوئی انتہائی موزوں مذاق دوستوں کی ملفہ میں یا سمیناروں کے اسٹیج پر برملا ان کے منہ سے پھوٹ پڑتا ہے اور پوری محفل کو زعفران زار بنادیتا ہے۔ تاہم خلیق انجم کو بذلہ سنج کہنے میں مجھے تھوڑی تامل سا ہے، ان کے مزاج کے اِک گونہ پھکّڑ پن کے سبب۔ بزلہ سنجی تہذیبی سطح پر ایک ایسے مزاج کی متقاضی ہے جو پھکڑ پن ذرا سا بھی برداشت نہیں کرتا۔ گویا بذلہ سنجی میں لطیف قسم کے تصنع کی بھی ہلکی سی رمق ہوتی ہے۔ اسی لیے بذلہ سنجی کا علاقہ بھی قدرے محدود ہوتا ہے۔ خلیق انجم کی ظرافت طبع کو تو ایک بے کراں میدان چاہیے اور کھل کر بات کرنے کی ان کی طبیعت کو رواداری کی سپر سے زیادہ بے باکی کی تیغ کی ضرورت ہے۔ اور اس بےباکی کی انتہا ہے منہ پھٹ اور پھکّڑ ہونا ،جو کبھی کبھی خلیق انجم کو ہونا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا استعمال وہ براہِ راست کبھی نہیں کرتے۔ وہ مجلسی خوش گپیوں کے حیلے سے یہ کام کرجاتے ہیں۔

میں کافی دیر سے اس مضمون کو اختتام پر پہنچانے کی فکر میں ہوں لیکن اس کی باگ میرے ہاتھ سے کب کی چھوٹ چکی ہے۔ مجھے اپنی زندگی کا سب سے مشکل کام خلیق انجم کا خاکہ لکھنا ہی لگتا تھا، اسی لیے میں اس کو اب تک ٹالتا رہا تھا۔ اگر خلیق انجم میرے لیے کوئی معروضی حقیقت ہوتا تو میں اسے ماڈل کی طرح اپنے سامنے بٹھاکر کب کا اس کا نقش اتار چکا ہوتا۔ لیکن ماڈل اور رول ماڈل میں جو فرق ہوسکتا ہے وہی فرق خلیق انجم کی معروضی شخصیت اور اصلی خلیق انجم میں ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ اصلی خلیق انجم کیا ہے۔ تو اسی اصلی خلیق انجم کی بھی کئی اصلیتیں ہیں خود ان لوگوں کی اپنی اصلیتوں کے تعلق سے جن کے وجود میں خلیق انجم کسی نہ کسی طور سمایا ہوا ہے۔ تو میرے وجود میں بھی خلیق انجم پچھلے باون برسوں سے پوری طرح متھا ہوا ہے۔ میں اسے کسی مر د اکائی کی شکل میں اپنے اندر سے باہر لاکر آپ کو دکھا ہی نہیں سکتا۔ اسی لیے تھوڑا تھوڑا سا کہیں کہیں سے ،کھرچ کھرچ کر ،باہر لالاکر دکھانے میں لگاہوں۔ اور یہ نظارہ میتھی کی روٹی کے اس گندھے ہوئے آٹے کے پیڑوں کی طرح سے ہے جہاں آٹا اور میتھی کا ساگ اپنے اپنے دو نمایاں سفید اور سبز رنگوں میں دیکھے تو جاسکتے ہیں لیکن انھیں علاحدہ علاحدہ کرکے نہیں بتایا جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں