بنت چھپکلی … خواجہ حسن نظامی

Spread the love

خدا کے لئے ریزلو جلدی آؤ۔ اس بنت چھپکلی کو دیوار سے ہٹاؤ، یکساں پروانوں کو کھائے چلی جاتی ہے۔

گرمی آئی میں نے لیمپ جلایا۔ پروانوں کی آمد ہوئی۔ لکھنا پڑھنا خاک نہیں ان کی بے قراریاں دیکھ دیکھ کر جی بہلاتا ہوں۔ شریر چھپکلی زادی کہاں سے آگئی۔ جو غریب عشق بازوں کو نگل رہی ہے۔ ابھی تو مس ہے لیڈی ہوگی تو خبر نہیں کیا غضب ڈھائے گی۔ اس کی دم کاٹ لو بڑی حرافہ ہے۔ کیوں ری مردار میرے چہیتے پتنگوں کو کیوں کھاتی ہے۔ جلا دوں تیرا منہ، بھڑکاؤں شعلہ۔ بجھاؤں تیری زندگی۔

ہائے ریزلو۔تم اب تک نہ آئی دیکھو اس نے پھر ایک تیتری کو پکڑ لیا۔ منہ میں دبائے بیٹھی ہے۔گردن اونچی کرتی ہے اور نگلنا چاہتی ہے۔ بیچاری تیتری کیسی بےکسی سے اس کے منہ میں گرفتار ہے۔

بھائی یہ عشق بری بلا ہے۔ نہ روشنی پر آتی نہ جان گنواتی۔ شعلہ پرچمنی تھی۔محبوب کے رخ تک اسے رسائی نہ ملی تو چھپکلی کے آتش شکم کی نذر ہوئی۔

اللہ ایک زمانہ تھا جب ابادیہ کا شانہ تھا۔ ہر چیز صاف تھی۔ نہ مچھر آتے تھے۔ کھٹمل پسؤوں سے بھی نجات تھی۔ چھپکلیوں کا بھی گزرنہ ہو سکتا تھا، مگر جب سے ویرانہ میں گھر بنا ہے سب ستانے آتے ہیں۔ طرح طرح سے چٹکیاں لے کر رلاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں