مذاہبِ عالم میں اسم الہیہ اور تصورِ خدا …. مزمل حسین چیمہ

Spread the love

خدا کے نام ہر مذہب میں اور ہر زبان میں الگ الگ ہیں،نام سے صفات عیاں ہوتی ہیں اور خدا کی صفات تصورِ خدا کے زمرے میں آتا ہے۔  خدا کی صفات ذاتی اور عام طور پر ہر مذہب اور زبان میں مماثلت کی حامل ہیں کہ وہ خالق ہے، مالک، ہے رز‍ق دینے والا، گناہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا اور دعا سننے والا۔ پھر بھی مختلف مذاہب میں خدا کی کچھ خصوصیات الگ ہیں دوسرے مذہب سے، جس وجہ سے اس مذہب میں خدا کا کچھ ناموں کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو باقی مذہب میں ملتا ہے۔ جیسے مسیحیت نے  مسیح کو اکلوتا، بیٹا، روح القدس کا نام دیا ۔ جبکہ اسلام میں خدا کے ناموں میں واحد ہے، جس کا معنی ہے کہ وہ صرف ایک ہے، اس کا کوئی بیٹا نہیں۔ مسیحیت، یہودیت میں خدا کو یہوداہ، ایلوہیم، ایل، وہ، میں جو ہوں سو میں ہوں، جیسے نام بھی دیے گئے۔ زبانوں کے فرق سے انسانوں نے اس مالک الملک ہستی کو کہیں اللہ، کہیں ایشور، کہیں گاڈ، کہیں یہوواہ، کہیں اہور امزدا، کہیں زیوس، کہیں یزداں، کہیں آمن، کہیں پانکو اور کہیں تاؤ کا نام دیا۔ دنیا بھر کے مذہب میں مختلف زبانوں میں اس ہستی کے لیے بیسیوں نام پائے جاتے ہیں۔

اللہ  مختلف زبانوں میں لکھا ہوا

اسلام میں تصورِ خدا 

مسلمان خدا کے لیے اللہ کا نام استعمال کرتے ہیں، اللہ عربی زبان کا لفظ ہے۔ مسلمان اللہ کو تمام جہانوں کا خالق، مالک اور رب مانتے ہیں۔ اسلام میں اللہ کی ذات کے ساتھ جو خصوصیات منسلک ہیں ان سے توحیدیت کا اظہار ہوتا ہے اور شرک و کفر کی نفی کی جاتی ہے۔ یہ نام قرآن میں کئی مقامات پر خدا کے لیے آیا ہے۔
نام خدااللہ مسلمانوں کی ثقافت کا حصہ ہے، مساجد، مزارات، جامعات، کتب، ٹوپیاں، قبروں کے کتبات، گھروں کے آرائشی سامان وغیرہ پر لفظ اللہ کو مختلف انداز میں لکھا جاتا ہے، جیسے خطاطی کہا جاتا ہے۔’اللہ کے علاوہ اللہ کے ننانوے صفاتی نام مشہور ہیں۔ انہیں أسماء الله الحسنی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بیشتر قرآن میں موجود ہیں ۔قرآن میں ننانوے کی تعداد مذکور نہیں ہے۔ارشاد ہے کہ :

هُوَ اللّـٰهُ الَّـذِىْ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْـمٰنُ الرَّحِـيْـمُ (22) هُوَ اللّـٰهُ الَّـذِىْ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَۚ الْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَـبِّـرُ ۚ سُبْحَانَ اللّـٰهِ عَمَّا يُشْرِكُـوْنَ (23) (سورہ الحشر)
ترجمہ:وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحمت فرمانے والا نہایت مہربان ہےoوہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (حقیقی) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق فرمانے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے، غلبہ و عزّت والا ہے، زبردست عظمت والا ہے، سلطنت و کبریائی والا ہے، اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیںo

 

روایات میں  اللہ کے جو 99 صفاتی نام بیان کیے گیے ہیں  وہ اردو ترجمے کے ساتھ ذیل میں درج ہیں ۔

شمارنامترجمہ
1الرحمنبڑی رحمت والا
2الرحيمنہائت مہربان
3الملكحقیقی بادشاہ
4القدوسنہائت مقدس اور پاک
5السلامجس کی ذاتی صفت سلامتی ہے
6المؤمنامن و امان عطا کرنے والا
7المهيمنپوری نگہبانی کرنے والا
8العزيزغلبہ اور عزت والا، جو سب پر غالب ہے
9الجبارصاحب جبروت، ساری مخلوق اس کے زیرِ تصرف ہے
10المتكبرکبریائی اور بڑائی اس کا حق ہے
11الخالقپیدا فرمانے والا
12البارئٹھیک بنانے والا
13المصورصورت گری کرنے والا
14الغفارگناہوں کا بہت زیادہ بخشنے والا
15القهارسب پر پوری طرح غالب، جس کے سامنے سب مغلوب اور عاجز ہیں
16الوهاببغیر کسی منفعت کے خوب عطا کرنے والا
17الرزاقسب کو روزی دینے والا
18الفتاحسب کے لیے رحمت و رزق کے دروازے کھولنے والا
19العليمسب کچھ جاننے والا
20القابضتنگی کرنے والا
21الباسطفراخی کرنے والا
22الخافضپست کرنے والا
23الرافعبلند کرنے والا
24المعزعزت دینے والا
25المذلذلت دینے والا
26السميعسب کچھ سننے والا
27البصيرسب کچھ دیکھنے والا
28الحكمفیصلہ کرنے والا
29العدلسراپا عدل و انصاف
30اللطيفلطافت اور لطف و کرم جس کی ذاتی صفت ہے
31الخبيرہر بات سے با خبر
32الحليمنہائت بردبار
33العظيمبڑی عظمت والا، سب سے بزرگ و برتر
34الغفوربہت بخشنے والا
35الشكورحسنِ عمل کی قدر کرنے والا، بہتر سے بہتر جزا دینے والا
36العليسب سے بالا
37الكبيرسب سے بڑا
38الحفيظسب کا نگہبان
39المقيتسب کو سامانِ حیات فراہم کرنے والا
40الحسيبسب کے لیے کفایت کرنے والا
41الجليلعظیم القدر
42الكريمصاحبِ کرم
43الرقيبنگہدار اور محافظ
44المجيبقبول کرنے والا
45الواسعوسعت رکھنے والا
46الحكيمسب کام حکمت سے کرنے والا
47الودوداپنے بندوں کو چاہنے والا
48المجيدبزرگی والا
49الباعثاٹھانے والا، موت کے بعد مردوں کو زندہ کرنے والا
50الشهيدحاضر، جو سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے
51الحقجس کی ذات و وجود اصلاً حق ہے
52الوكيلکارسازِ حقیقی
53القوىصاحبِ قوت
54المتينبہت مضبوط
55الولىسرپرست و مددگار
56الحميدمستحقِ حمد و ستائش
57المحصىسب مخلوقات کے بارے میں پوری معلومات رکھنے والا
58المبدئپہلا وجود بخشنے والا
59المعيددوبارہ زندگی دینے والا
60المحيىزندگی بخشنے والا
61المميتموت دینے والا
62الحيزندہ و جاوید، زندگی جس کی ذاتی صفت ہے
63القيومخود قائم رہنے والا، سب مخلوق کو اپنی مشیئت کے مطابق قائم رکھنے والا
64الواجدسب کچھ اپنے پاس رکھنے والا
65الماجدبزرگی اور عظمت والا
66الواحدایک اپنی ذات میں
67الاحداپنی صفات میں یکتا
68الصمدسب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج
69القادرقدرت والا
70المقتدرسب پر کامل اقتدار رکھنے والا
71المقدمجسے چاہے آگے کر دینے والا
72المؤخرجسے چاہے پیچھے کر دینے والا
73الأولسب سے پہلے وجود رکھنے والا
74الأخرسب کے بعد وجود رکھنے والا
75الظاهربالکل آشکار
76الباطنبالکل مخفی
77الواليمالک و کارساز
78المتعاليبہت بلند و بالا
79البربڑا محسن
80التوابتوبہ کی توفیق دینے والا، توبہ قبول کرنے والا
81المنتقممجرمین کو کیفرِ کردار کو پہنچانے والا
82العفوبہت معافی دینے والا
83الرؤوفبہت مہربان
84مالك الملكسارے جہاں کا مالک
85ذو الجلال و الإكرامصاحبِ جلال اور بہت کرم فرمانے والا جس کے جلال سے بندے ہمیشہ خائف ہوں اور جس کے کرم کی بندے ہمیشہ امید رکھیں
86المقسطحقدار کو حق عطا کرنے والا، عادل و منصف
87الجامعساری مخلوقات کو قیامت کے دن یکجا کرنے والا
88الغنىخود بے نیاز جس کو کسی سے کوئی حاجت نہیں
89المغنىاپنی عطا کے ذریعے بندوں کو بے نیاز کرنے والا
90المانعروک دینے والا
91الضاراپنی حکمت اور مشیئت کے تحت ضرر پہنچانے والا
92النافعنفع پہنچانے والا
93النورسراپا نور
94الهاديہدائت دینے والا
95البديعبغیر مثالِ سابق کے مخلوق کا پیدا کرنے والا
96الباقيہمیشہ رہنے والا، جسے کبھی فنا نہیں
97الوارثسب کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے والا
98الرشيدصاحبِ رشد و حکمت جس کا ہر فعل درست ہے
99الصبوربڑا صابر کہ بندوں کی بڑی سے بڑی نافرمانیاں دیکھتا ہے اور فوراً عذاب بھیج کر تہس نہس نہیں کرتا

 ان 99 ناموں کے علاوہ بھی قرآن مجید اور احادیث میں اللہ کے مزید صفاتی نام بھی ملتے ہیں

 

شمارنامترجمہماخذ مع حوالہ
1رَبِّپروردگارالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔سورۂ الفاتحہ آیت:1
2کافیکفایت کرنے والاأَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۔سورۂ الزمرآیت: 36
3رفیع الدرجاتبلند و بالا درجے والارَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ۔سورۂ المومن آیت: 15
4حافظحفاظت کرنے والافَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا ۔ سورۂ یوسف آیت: 64
5مبینظاہر کرنے والاأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ۔سورۂ نور آیت :25
6قدیرطاقتور، قدرت والاإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ قَدِيرٌ ۔سورۂ النحل آیت:70
7کفیلکفالت کرنے والا، ضامنوَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا ۔سورۂ النحل آیت:91
8شاکررضامند، قدرشناسفَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ ۔سورۂ البقرہ آیت:158
9اکرامکرم والا، بزرگی والااقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ۔سورۂ العلق آیت:03
10اعلیٰاونچا، اعلیٰسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ۔سورۂ الاعلی آیت:01
11خلاقتخلیق کرنے والاسبَلَى وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ ۔سورۂ یٰسین آیت:81
12مولیٰساتھی، مالکثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ ۔سورۂ الانعام آیت: 62
13نصیرمددگاروَكَفَى بِاللَّهِ نَصِيرًا ۔سورۂ النساء آیت: 85
14الہٰمعبودأَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ ۔سورۂ الاکہف آیت : 110
15علام الغیوبغیب کا علم رکھنے والاإِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ۔
16قاہرغالبإوَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۔
17غافرچھپانے والاغَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۔
18فاطرپیدا کرنے والاالْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۔
19ملیکمالک، بادشاہفِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ ۔
20الحفیمہربانسَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًا ۔
21محیطاحاطہ کرنے والاأَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ۔
22مستعانمدد کرنے والاوَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ۔
23غالبغلبہ والاوَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ۔
24شدید العقابسخت عذاب دینے والاغَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۔
25قابلقبول کرنے والاغَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۔
26اصدق/صادقسچاوَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ ۔
27جاعلبنانے والاإِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۔
28اعلمجاننے والاقُلْ أَأَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللَّه ۔
29اسرعجلدی کرنے والاوَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ ۔
30عاصمبچانے والالَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ۔
31عالمجاننے والاعَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۔
32فالقنکالنے والاإِنَّ اللَّهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوَى ۔
33موہنکمزور کرنے والاوَأَنَّ اللَّهَ مُوهِنُ كَيْدِ الْكَافِرِينَ۔
34کاشفکھولنے والافَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۔
35رادہٹانے والافَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۔
36یدبر الامرتدبیرکرنے والاوَمَنْ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللَّه۔
37اٰخذپکڑنے والامَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ۔
38قریبنزدیکإِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ۔
39واقبچانے والاوَمَا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَاقٍ۔
40قائمقائم، موجودأَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ ۔
41مرشدہدایت دینے والاأمَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًا مُرْشِدًا۔
42اقربقریب تروَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ۔
43حاسبحساب لینے والاوَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ۔
44متمپورا کرنے والاوَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ 
45ممسکبند کرنے والامَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۔
46ذوالعقاببدلہ لینے والاإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ۔
47ذوالمغفرۃمغفرت والاإِنَّ رَبَّكَ لَذُو مَغْفِرَةٍ وَذُو عِقَابٍ أَلِيمٍ۔
48ذوالفضلفضل والاوَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔
49ذوالرحمۃرحمت والاوَرَبُّكَ الْغَنِيُّ ذُو الرَّحْمَةِ ۔
50ذوالعرشعرش والارَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ذُو الْعَرْشِ ۔
51ذوالانتقامبدلہ لینے والاوَاللَّهُ عَزِيزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۔
52ذوالقوۃقوت والاإِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ۔
53ذی الطولدولت والاغَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۔
54ذی المعارجدرجات والامِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ۔
55اکبر/ کبیربہت بڑاعَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ ۔

قدیم انبیائے کرام کے بیان کردہ اسمائِے الہٰیہ 

 حضرت آدم کے بعد سریانی زبان میں اللہ کے لیے جو اسم منسوب کیا وہ دیوہ، کا لیوہ تھا۔ حضرت نوح کے زمانے میں اللہ کو پہچاننے کے لیے جو اسم استعمال ہوتا تھا وہ اللہ اور الاللہ کے ہم معنی تھا پھر حضرت نوح کے بعد تمخاہ اور تمخیا اپنالیا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے صدیوں پہلے اللہ اور الاللہ کو اسمِ الٰہی قرار دیا گیا۔ فونیقی زبان میں خدا کو ایلون (Elon یا Elion) کہتے تھے۔ جو اِمتداد زمانہ کے باعث اہرامک میں الہٰ، آشوری میں ایلو اور عبرانی میں ایل (عبرانی) میں تبدیل ہو گیا۔ حضرت ابراہیم نے ایل کو اسمِ الٰہی فرمایا۔

 

یہودیوں (توریت) میں اسم الہیہ اور تصورِ خدا 

توریت میں سب سے زیادہ جو اسم استعمال ہوا ہے وہ ایلوہم اور یہووا ہے۔ توریت میں یہووا 6823 مرتبہ اور ایلوہم 156 مرتبہ آیا ہے اور کئی بار یہووا ایلوہم ایک ساتھ بھی ملتا ہے۔ یہوواہ کے لغوی معنی ”وہ رب“ یا ”وہ ذات“ کے ہیں۔ عربی میں یہ لفظ یاہُوَ یعنی ”وہ“ اور لفظ ایلوہ عربی میں اللہ کی صورت اختیار کرگیا۔ توریت میں درج عبرانی زبان کے کئی اسمائے الہٰیہ عربی میں منتقل ہوئے جیسے شلوم (سلام) اور اُخُد (احد)، علیون (اعلیٰ)، حی(الحئی)، ماکوم (قیوم)، ملیکنو (مالک)، مالک یا مالکم (مالک الملک) توریت میں ایک نام ادونائی (میرے رب) بھی آیا ہے جو کنعانی لفظ ”ادو“ سے ماخذ ہے جس کے معنی ہیں رب۔ اس کے علاوہ حضرت موسیٰ نے ایل الوہی اسرائیل (اسرائیل کا خدا)، بعل (مالک)، زِلگوسر (ربِ عرشِ عظیم) جبکہ حضرت ایوب نے ایلوہا اور حضرت دانیال نے الٰہ کو اسم الٰہی قرار دیا۔ توریت میں اس کے علاوہ جو اسمائے الہٰیہ درج ہیں ہم یہاں آپ کے سامنے اُن کے معنی کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ ایل علیون (رب الاعلیٰ)، ایل شیدائی (قادر المطلق)، ایل حئی (الحئی)، ماکوم (قیوم)، ایل اولام (الآخر)، ایل روئی (البصیر)، ایل جبرُ (القدیر)، ادونائی (ربّی)، یہوواہ تزیوت (رب الافواج، رب العالمین)، شلوم (سلام)، ایموت (الحق)، اوینو (رب)، ملیکنو (الملک)، راع (المھیمن اور المقیت)، مالک یا مالِکم (مالک الملک) اس کے علاوہ اہیا اسراہیا (وہ میں ہوں)، نِسی (سایہ فگن)، رافا (شفیع)، جیراہ (وہاب)۔

ی
شمارنامعبرانیانگریزیترجمہماخذ مع حوالہ
1یهوواہיְהֹוָהJehovahوہ ذات، خداوندپِھر خُدا نے مُوسیٰ سے کہا مَیں خُداوند ہُوں۔ اور مَیں اب رہا م اور اِضحا ق اور یعقُوب کو خُدایِ قادِرِ مُطلق کے طَور پر دِکھائی دِیا لیکن اپنے یہوواہ نام سے اُن پر ظاہِر نہ ہُؤا۔
2ایلوهمאֱלֹהִיםElohimخُداخُدا نے اِبتدا میں زمِین و آسمان کو پَیدا کِیا۔۔
3ایلאלelخُدااَے زبردست! تُو شرارت پر کیوں فخر کرتا ہے؟ خُدا کی شفقت دائِمی ہے۔
4علیونעליוןElyonخُدا تعالیٰ، اعلیٰاور اُن کو یاد آیا کہ خُدا اُن کی چٹان۔ اور حق تعالیٰ اُن کا فِدیہ دینے والا ہے
5ایلوهاאֱלוֹהַּEloahخُدااَیسے آدمی کو روشنی کیوں مِلتی ہے جِس کی راہ چُھپی ہے اور جِسے خُدا نے ہر طرف سے بند کر دِیا ہے؟۔
6ایل شدّائیאֵל שַׁדָּיEl Shaddaiخُدائے قادر مطلق، شدیداور مَیں اب رہا م اور اِضحا ق اور یعقُوب کو خُدایِ قادِرِ مُطلق کے طَور پر دِکھائی دِیا لیکن اپنے یہوواہ نام سے اُن پر ظاہِر نہ ہُؤا۔
6ایل روئیאֵל רֳאִיEl Roiبصیر، دیکھنے والااور ہاجرہ نے خُداوند کا جِس نے اُس سے باتیں کِیں اتاا یل روئی نام رکھّایعنی اَے خُدا تُو بصیر ہے 
7شلومשָׁלוֹםShalomسلام، سلامتی والاتب جِدعو ن نے وہاں خُداوند کے لِئے مذبح بنایا اور اُس کا نام یہووا ہ سلوم رکھّا۔
8اهیا اشر اهیاאֶהְיֶה אֲשֶׁר אֶהְיֶהEhyeh-Asher-Ehyehوہ میں ہوںخُدا نے مُوسیٰ سے کہا مَیں جو ہُوں سو مَیں ہُوں۔ سو تُو بنی اِسرائیل سے یُوں کہنا کہ مَیں جو ہُوں نے مُجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے۔
9ادونائیאֲדֹנָיAdonaiمیرے رب

اَے خُداوند ہمارے رب!تیرا نام تمام زمِین پر کَیسابزُرگ ہے؟۔

مَیں نے خُداوند سے کہا ہے تُو ہی رب ہے۔ تیرے سِوا میری بھلائی نہیں۔

10ایل احدאֵל אֶחָדEl Echadایک خدا، یکتا،احدسُن اَے اِسرائیل ! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔
11هاشمהַשֵּׁםHaShemوہ نام، پاک ناماگر تُو اُس شرِیعت کی اُن سب باتوں پر جو اِس کِتاب میں لِکھی ہیں اِحتیاط رکھ کر اِس طرح عمل نہ کرے کہ تُجھ کو خُداوند اپنے خُدا کے جلالی اور مُہِیب نامکا خَوف ہو۔۔۔۔ اور اِسرائیلی عَورت کے بیٹے نے پاک نام پر کُفربکا۔
12بعلیבַּעְלִיba’lمالکاور خُداوند فرماتا ہے تب وہ مُجھے اِیشی کہے گی اور پِھر بعلی نہ کہے گی۔
13اله الٰهنאֱלָהּ אֱלָהִיןElah Elahinمعبُودوں کا معبُودبادشاہ نے دانی ایل سے کہا فی الحقِیقت تیرا خُدا معبُودوں کا معبُود اور بادشاہوں کا خُداوند اور بھیدوں کا کھولنے والا ہے کیونکہ تُو اِس راز کو کھول سکا۔
14ایل جبرאֵל, גִּבּוֹרEl ha-Gibborجبار، خدائے قادرایک بقِیّہ یعنی یعقُو ب کا بقِیّہ خُدایئ قادِر کی طرف پِھرے گا۔
15عزز و جبورעִזּוּז וְגִבּוֹרIzuz ve-giborعزیز و جبار، قادر و قوی، طاقتوریہ جلال کا بادشاہ کَون ہے؟ خُداوند جو قوِی اورقادِر ہے۔ خُداوند جو جنگ میں زورآور ہے۔
16ایل ها کوودאֵל-הַכָּבוֹדEl hakavodخدائے ذوالجلالخُداوند کی آواز بادلوں پر ہے۔ خُدایِ ذُوالجلال گرجتا ہے ۔۔
17ایل عولامאֵל עוֹלָםEl Olamابدی خدا،ہمیشہ ہمیشہ سےتب اب رہام نے بیرسبع میں جھاؤ کا ایک درخت لگایا اور وہاں اُس نے خُداوند سے جو ابدی خُدا ہے دُعا کی۔
18ایل ها نیمانאֵל הַנֶּאֱמָןEl hanne’emanوعدہ وفا،وفادارسو جان لے کہ خُداوند تیرا خُدا وُہی خُدا ہے۔ وہ وفادار خُدا ہے اور جو اُس سے مُحبّت رکھتے اور اُس کے حُکموں کو مانتے ہیں اُن کے ساتھ ہزار پُشت تک وہ اپنے عہد کو قائِم رکھتا اور اُن پر رحم کرتا ہے۔۔
19تزیوت/الصباووتיְהוָה צְבָאוֹתjehovah Tzevaotرب الافواجاور داؤُد نے اُس فِلستی سے کہا کہ تُو تلوار بھالا اور برچھی لِئے ہُوئے میرے پاس آتا ہے پر مَیں ربُّ الافواج کے نام سے جو اِسرا ئیل کے لشکروں کا خُدا ہے جِس کی تُو نے فضِیحت کی ہے تیرے پاس آتا ہُوں۔
20قدّوسקְדוֹשׁKidoshقدوس، پاکہمارا فِدیہ دینے والے کا نام ربُّ الافواج یعنی ا ِسرائیل کا قُدُّوس ہے۔
21یهوواہ نسّیיְהוָה נִסִּיJehovah-Nissiخدائے سایہ فگناور مُوسیٰ نے ایک قُربان گاہ بنائی اور اُس کا نام یہوواہ نِسّی رکھّا۔
22یهوواہ رافاיְהוָה, רֹפְאֶJehovah Raphaخداوند شافعکہ اگر تُو دِل لگا کر خُداوند اپنے خُدا کی بات سُنے اور وہی کام کرے جو اُس کی نظر میں بھلا ہے اور اُس کے حُکموں کو مانے اور اُس کے آئِین پر عمل کرے تو مَیں اُن بیمارِیوں میں سے جو مَیں نے مِصریوں پر بھیجیں تُجھ پر کوئی نہ بھیجُوں گا کیونکہ مَیں خُداوند تیرا شافی ہُوں۔
23ایل مسِتّارאֵל מִסְתַּתֵּרel mistaterپوشیدہ/ ستّار

اَے اِسرائیل کے خُدا! اَے نجات دینے والے!

یقِیناًتُو پوشِیدہ خُدا ہے۔

24ایل صدیقאֵל-צַדִּיקEl Tsaddikسچّا/ صادقسو میرے سِوا کوئی خُدا نہیں ہے۔ صادِقُ القَول اور نجات دینے والا خُدامیرے سِوا کوئی نہیں۔
25ایل ایموتאֵל אֱמֶתEl Emethسچّائی کا خدا، الحقّمَیں اپنی رُوح تیرے ہاتھ میں سَونپتا ہُوں۔ اَے خُداوند! سچّائی کے خُدا! تُو نے میرا فِدیہ دِیا ہے۔
26ایل دعیوتאֵל דֵּעוֹתEl De’otعلم کا خدا،خُدائے علِیماِس قدر غرُور سے اَور باتیں نہ کرو اور بڑا بول تُمہارے مُنہ سے نہ نِکلے، کیونکہ خُداوند خُدائے علِیم ہے اور اعمال کا تولنے والا۔
27ایل ها جدولאֵל הַגָּדֹלEl Haggadolعظیم، بزرگوارکیونکہ خُداوند تُمہارا خُدا اِلہٰوں کا اِلہٰ خُداوندوں کا خُداوند ہے۔ وہ بزُرگوار اور قادِر اور مُہِیب خُدا ہے جو طرفداری نہیں کرتا اور نہ رِشوت لیتا ہے
28هنوراהַנּוֹרָאHanoraمہیب، پر ہیبتاور مَیں نے خُداوند اپنے خُدا سے دُعا کی اور اِقرار کِیا کہا کہ اَے خُداوندِ عظِیم اور مُہِیب خُدا تُو اپنے فرماں بردار مُحبّت رکھنے والوں کے لِئے اپنے عہد و رحم کو قائِم رکھتا ہے۔
29ایل حنونאֵל-חַנּוּןEl-channunحنان، شفقت کرنے والامَیں جانتا تھاکہ تُو رحِیم و کرِیم خُدا ہے جو قہر کرنے میں دھِیمااور شفقت میں غنی ہے اور عذاب نازِل کرنے سے باز رہتاہے۔
30ایل رحومאֵל רַחוּםEl-Rachumرحیم ،رحم کرنے والاکیونکہ خُداوند تیرا خُدا رحیم خُدا ہے۔ وہ تُجھ کو نہ تو چھوڑے گا اور نہ ہلاک کرے گا اور نہ اُس عہد کو بُھولے گا جِس کی قَسم اُس نے تیرے باپ دادا سے کھائی۔
31ایل قنّاאֵל קַנָּאEl-Kannoغیُور ،غیرت والا

کیونکہ تُجھ کو کِسی دُوسرے معبُود کی پرستِش نہیں کرنی ہو گی اِس لِئے کہ خُداوند جِس کا نام غیُور ہے وہ خُدائے غیُور ہے بھی۔

تُو اُن کے آگے سِجدہ نہ کرنا اور نہ اُن کی عِبادت کرنا کیونکہ مَیں خُداوند تیرا خُدا غیُور خُدا ہُوں۔

32یهوواه راعیיְהוָה רֹעִיJehovah Ro’iنگراں، المہیمن المقیت، نگہبانخُداوند میرا چَوپان ہے۔ مُجھے کمی نہ ہو گی۔
33یهوواه یریٰיְהוָה יִרְאֶהJehovah Jirehالظاہر، نظر آنے والااور اب رہام نے اُس مقام کا نام یہوواہ یِری رکھّا چُنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے کہ خُداوند کے پہاڑ پر ظاہر ہوگا۔۔
34ناصرحسدנֹצֵר חֶסֶדNotser Chesedبخشنے والا، فضل کرنے والاہزاروں پر فضل کرنے والا۔ گُناہ اور تقصِیر اور خطا کا بخشنے والا۔

مسیحیت (انجیل) میں اسم الہیہ اور تصورِ خدا 

مسیح جن کو اسلامی دنیا عیٰسی علیہ السلام کے نام سے نبی مانتی ہے، انہوں نے اور ان کے حواریوں نے انجیل میں خدا کو کئی ناموں سے پکارا ہے۔ سب سے زیادہ جو نام انجیل میں ملتا ہے، وہ ہے تھیوس (جس کے معنی وہی ہیں جو ایل کے ہیں یعنی خدا) اور دوسرا اِسم کوریوس Kuriou جس کے وہی معنی ہیں جو یہوواہ کے ہیں یعنی ”وہ“ اس کے علاوہ انجیل میں موجود چند یونانی زبان کے اسمائے الہٰیہ یہ ہیں۔

 
شمارنامیونانیانگریزیترجمہماخذ مع حوالہ
1ایلیἠλὶEliالٰہی، میرے خدایِسُو ع نے بڑی آواز سے چِلاّ کر کہا ایلی۔ ایلی ۔ لَما شَبقتَنِی؟ یعنی اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟۔۔
2تهییΘεέTheeمیرے خدایِسُو ع نے بڑی آواز سے چِلاّ کر کہا ایلی۔ ایلی۔ لَما شَبقتَنِی؟ یعنی اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟۔۔
3تهیونθεόνtheonخُدامُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں۔ کیونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے۔۔
4تهیوسΘεόςtheosخُدادیکھو ایک کنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹاجنے گی اور اُس کا نام عِمّا نُوایل ر کھیں گے جِس کا ترجمہ ہے خُدا ہمارے ساتھ۔۔
5کوریوسΚύριοςKuriosخُداوند، مالک، آقاایک ہی خُداوند ہے۔ جِس خُدا نے دُنیا اور اُس کی سب چِیزوں کو پَیدا کِیا وہ آسمان اور زمِین کا مالِک ہو کر ہاتھ کے بنائے ہُوئے مندروں میں نہیں رہتا۔—نوٹ: بائبل میں بعض مقامات پر یہ صفت عیسیٰ مسیح کے لیے بھی استعمال ہوئی ہے۔ اور عام چیزوں کے مالک اور آقا کے لیے بھی۔
6کوریوΚύριο/ ΚυρίουKyriō / Kyriouخُداوند، مالک، آقااگر ہم جِیتے ہیں تو خُداوند کے واسطے جِیتے ہیں اور اگر مَرتے ہیں تو خُداوند کے واسطے مَرتے ہیں۔ پس ہم جِئیں یا مَریں خُداوند ہی کے ہیں۔۔
7کوریون تن تهیونΚύριον τὸν θεόνKyrion ton theonخُداوند اپنا خدایِسُو ع نے اُس سے کہا اَے شَیطان دُور ہو کیونکہ لِکھاہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سِجدہ کر اور صِرف اُسی کی عبادت کر۔
8ہائسεἷςheisاحد، ایک، یکتا

ایک ہی خُداوند ہے۔ ایک ہی اِیمان۔ ایک ہی بپتِسمہ۔ یِسُو ع نے جواب دِیا کہ اوّل یہ ہے اَے اِسرا ئیل سُن۔ خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔

9پاتیرس /فادرΠάτερPaterپیدا کرنے والا، باپ

اُس وقت یِسُو ع نے کہا اَے باپ آسمان اور زمِین کے خُداوند مَیں تیری حمد کرتا ہُوں کہ تُو نے یہ باتیں داناؤں اور عقلمندوں سے چُھپائِیں اور بچّوں پر ظاہِر کِیں۔

10نیوماΠνεῦμάPneumaرُوح

اور خُداوند رُوح ہے اور جہاں کہِیں خُداوند کا رُوح ہے وہاں آزادی ہے۔

11اگاپےἀγάπηagapēمحبت

جو مُحبّت نہیں رکھتا وہ خُدا کو نہیں جانتا کیونکہ خُدا مُحبّت ہے۔خُدا مُحبّت ہے اور جو مُحبّت میں قائِم رہتا ہے وہ خُدا میں قائِم رہتا ہے اور خُدا اُس میں قائِم رہتا ہے۔

12اگانوسٹوAgnostoἈγνώστῳانجان، پاک، مبرّا

مَیں نے سَیر کرتے اور تُمہارے معبُودوں پر غَور کرتے وقت ایک اَیسی قُربان گاہ بھی پائی جِس پر لِکھا تھا کہ نامعلُوم خُدا کے لِئے۔ پس جِس کو تُم بغَیر معلُوم کِئے پُوجتے ہو مَیں تُم کو اُسی کی خبر دیتا ہُوں۔

13الفا -اومیگاAlpha-OmegaἌλφα-Ὦاالفا، ا َوّل۔ اومیگا، آخِر

خُداوند خُدا جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے یعنی قادِرِ مُطلق فرماتا ہے کہ مَیں الفا اور اومیگا ہُوں۔

14پروٹوس -اِسکا ٹوسprōtos-eschatosπρῶτος-ἔσχατοςاَوّل،آخِر، مقدم موخر، البادی المدبر

مَیں الفااور اومیگا۔ اَوّل و آخِر ۔ اِبتدا و اِنتہا ہُوں۔

15آرکے۔ ٹیلوسarchē-telosἀρχὴ-τέλοςابتدا۔ انتہا

پِھر اُس نے مُجھ سے کہا یہ باتیں پُوری ہو گئیِیں۔ مَیں الفااور اومیگا یعنی اِبتدا اور اِنتِہا ہُوں۔ مَیں پیاسے کو آبِ حیات کے چشمہ سے مُفت پِلاؤُں گا۔

16پینٹو کریٹرPantokratōrΠαντοκράτωρقادر المطلق

اور یہ کہا کہ اَے خُداوند خُدا۔ قادِرِ مُطلِق! جو ہے اور جو تھا۔ ہم تیرا شُکر کرتے ہیں کیونکہ تُو نے اپنی بڑی قُدرت کو ہاتھ میں لے کر بادشاہی کی۔آواز سُنی کہ ہلّلُویاہ! اِس لِئے کہ خُداوند ہمارا خُدا قادِرِ مُطلِق بادشاہی کرتا ہے۔

17حجیوسHagiosἍγιοςقدّوس، پاک

اور رات دِن بغَیر آرام لِئے یہ کہتے رہتے ہیں کہ قدُّ وس۔ قدُّوس۔ قدُّوس ۔ خُداوند خُدا قادِرِ مُطلق جو تھا اور جو ہے اور جو آنے والا ہے۔

18ال اتھینوسalēthinosἀληθινόςسچا، برحق

اَے مالِک! اَے قدُّوس و برحق! تُو کب تک اِنصاف نہ کرے گا اور زمِین کے رہنے والوں سے ہمارے خُون کا بدلہ نہ لے گا؟۔

19بسلیوس تن عطنونBasileus tōn ethnōnΒασιλεὺς τῶν ἐθνῶν·قوموں کا بادشاہ، ازلی بادشاہ

اَے خُداوند خُدا ! قادِرِ مُطلق! تیرے کام بڑے اور عجِیب ہیں۔ اَے ازلی بادشاہ! تیری راہیں راست اور درُست ہیں۔

20اہنیوس تھیوaiōniou Theouαἰωνίου Θεοῦابدی خدا، خدائے ازلی

مگر اِس وقت ظاہِر ہو کر خُدایِ اَزلی کے حُکم کے مُطابِق نبِیوں کی کِتابوں کے زرِیعہ سے سب قَوموں کو بتایا گیا تاکہ وہ اِیمان کے تابِع ہو جائیں۔

ہندو مت میں اسماء الہیہ اور تصور خدا

اہل ہند کو کرشن جی نے ایشور کے ہزار نام بتائے ہیں ۔ مہابھارت کے انوشاسنہ پروا باب میں ایشورکے الہامی ناموں کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے۔ اسے ہندی میں وِشنو سہستر نمہ (ہندی: विष्णु सहस्त्र नाम) یعنی وشنو کے ہزار نام کہتے ہیں۔ یہ نام مہا بھارت کے اس باب میں ایک سو آٹھ چھندو (جملوں) پر مشتمل ہیں۔

مہا بھارت کے مطابق مشہور یودھا بھیشم، جو كروكشیتر کی لڑائی میں موت کے بستر پر تھے تو انہوں نے بھگوان وشنو کے یہ ہزار نام يدھشٹر کو بتائے تھے۔

 ”ایشور کے ہزار نام اس کی خوبیوں اور صفات پر مبنی ہیں جو اُس کے بندے پکارتے ہیں۔ آج میں دنیا کی بہبود کے لیے اُنہیں بیان کرتا ہوں۔ وہ کائنات کی ہر شئے میں ہے۔ ہر جگہ موجود ہے۔ قربانیوں کا مالک، سنبھالنے والا، زندہ (الحئی) اور قائم (قیوم)، خیر خواہ، مالک اور سب سے عظیم، وہ نجات کا اعلیٰ مقام ہے، لازوال روح ہے، وہ نظر رکھتا ہے، دل کے بھید جانتا ہے، وہ راہِ ہدایت ہے اور راہ دکھانے والوں کا رب ہے“۔ 

یہ ہر نام بھگوان وشنو کی ان گنت عظمت اور قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ہندو مذہب کے سب سے مقدس اور عام طور پر جاپ کرنے والے نام ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں۔

ہندومت میں بھی ایشور (یعنی اللہ) کے کئی صفاتی نام ہیں۔ جن میں تین صفت اوّلین ہیں ایک برھما (خالق)، وشنو (رب) اور شیو (قہّار) برھما (خالق) کے ناموں میں یہ نام ہیں:

شمارنامسنسکرتانگریزیترجمہ
1ایشورईश्वरIshwaraمخلوقات کا مختار و مالک
2برہماब्रह्माBrahmaخالق
3وِشنوُविष्णुVishnuہر جگہ موجود،
4شیواशिवShivaہمیشہ پاک
5پرماتماपरमात्माParamatmaعظیم روح، اعلیٰ و برتر ذات
6پربھُوप्रभुPrabhuحاکم اعلی، رب تعالیٰ
7بُھوت بھويٰ بھوَت پربھُوभूतभव्यभवत्प्रभुःBhootabhavya-bhavat-prabhuhماضی، حال اور مستقبل کے رب
8بُھوت کِرتभूतकृतBhoota-kritتمام مخلوقات کا خالق
9بُھوت بھِرتभूतभृतBhoota-bhritتمام مخلوقات کی آبیاری کرنے والا
10بھواभावBhavaمطلق وجود
11بھُوتاتماभूतात्माBhootaatmaجس سے کُل کائنات و کُل مخلوق کی روح ہے
12بھوت بھاونभूतभावनBhootabhavanaکُل کائنات و کُل مخلوق کی پرورش کرنے والا
13مكتاناں پرم گتيےमुक्तानां परमागतिःMuktanam Parama Gatihآزادی (مُکتی ) کے احاطے (سلسلہ)کی انتہا
14اوئیہअव्ययःAvyayahجو ہمیشہ ایک سا رہے
15پُرشاہपुरुषःPurushahجو ہر ایک (اجسام)کے اندر ہے
16شاکشیसाक्षिणेSakshiہر چیز کا گواہ، شاہد
17شیتر گیاہक्षेत्रज्ञःKshetragyahزمین (میدان جنگ) کا علم رکھنے والا
18اکشراअक्षरAksharaغیر زوال پزیر، لایزال
19یوگاہयोगःYogahیوگ (باطنی اتحاد) کے ذریعے احساس کرنے والا
20یوگ ویدھم نیتاयोगविदां नेताYoga-vidaam Netaیوگ (باطنی اتحاد) جاننے والوں کا راہبر
27پردھان پرُشیسورप्रधानपुरुषेश्वरPradhana-Purusheshwaraفطرت اور مخلوق کا رب
22پرُشوتمपुरुषोत्तमPurushottamaمختارِ کُل، سب سے بڑا منتظم
23سروَसर्वSarwaہر شے، وحدت الوجود
24شروَशर्वSharvaہر شے کا خاتمہ کرنے والا
25ستھانُوस्थाणुSthanuجسے ہٹایا نہ جاسکے، قوی، عزیز
25بھُوتندیभूतादिBhootadiجس نے مخلوقات کو تیار کیا
26نِردھویایہनिधिरव्ययNidhiravyayaان مٹ خزانہ، لازوال دولت
27اپرمییاअप्रमेयAprameyaقواعد و ضوابط (کی پابندیوں) اور وضع قطع (صورت)سے پاک
28بھاونभावनBhavanaاپنے بندوں کے لیے سب کچھ کرنے والا
29بھَرتभर्ताBhartaدنیا کا فرمانروا
30سمبھَوसम्भवSambhavaجس کے لیے سب کچھ ممکن ہے
31پربھَوप्रभवPrabhavaجس سے سب چیزیں پیدا ہوئیں
32پُوت آتماपूतात्माPootatmaایک انتہائی پاک ذات والا
33وِشوَمविश्वम्Vishvamجو کائنات کی ہر شے میں سمایا ہے
34سویم بھُوस्वयम्भूSwayambhuخود ظاہر ہونے والا، خُدا
35شمبھُوशम्भुShambhuخوشیاں بنانے والا
36دھاتاधाताDhataحمایت کرنے والا، حامی
37ودھاتاविधाताVidhataعمل اور اُن کے نتائج بنانے والا
38ہرشیکیشहृषीकेशHrishikeshaحواس (احساسات) کا مالک، حافظ، اولیٰ الباب
3وِشنٹ کارवषट्कारVashatkaraجس کے لیے قربانی، چڑھاوا، نذر دعائیں ہیں
40سرشٹاसृष्टाSrishtaتخلیق کرنے والا، مصور
41پرجاپتیप्रजापतिPrajapatiلوگوں کا مالک
42گوندم پتیगोविदांपतिPrajapatiلوگوں کا مالک
43مدینی پتیमेदिनीपतिMedinipatiزمین کا مالک
44واسو دیوवासुदेवVasudevaدولت کا مالک، المغنی
45ایشانईशानIshanaسب پر حکومت کرنے والا

سکھ مت میں اسماء الہیہ اور تصور خدا

سکھ مذہب میں خدا کے تصور کے حوالے سے مول منترا سکھوں کے بنیادی عقائد کا مجموعہ اور اس کو ان کی مذہبی کتاب گروگرنتھ صاحب کے شروع میں بیان کیا سری گرنتھ صاحب کی جلد اول “جپُ جی کا پہلا” منتر اس طرح ہے۔

ੴ ਸਤਿ ਨਾਮੁ ਕਰਤਾ ਪੁਰਖੁ ਨਿਰਭਉ ਨਿਰਵੈਰੁ ਅਕਾਲ ਮੂਰਤਿ ਅਜੂਨੀ ਸੈਭੰ ਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿ ॥

  • اک اوعنکار سَتِ نام، کرتا پرکھ، نِر بھَو، نِرویر – اکال مورتِ، اجونی، سَیبھن، گُر پرساد۔

صرف ایک خدا کا وجود ہے۔ جو حقیقتا پیدا کرنے والا ہے وہ خوف اور نفرت سے عاری ہے، جسے موت نہیں، وہ کسی سے پیدا نہیں ہوا۔ وہ خود سے وجود رکھنے والا عظیم اور رحیم ہے۔

سکھ مت میں ایک ہی رب اعلی ہے۔ وہ ایک غیر واضح اور مبہم صورت میں موجود ہے۔ جس کے ایک اونکار (یا اومکارا )کہاجاتا ہے۔ سکھ مت کی کتاب گرنتھ میں بابا گرونانک فرماتے ہیں :

  • ”خدا کے ناموں پر غور کرو اور دوسروں کو بتاؤ۔ اس پر توجہ دو اور اس کی کھوج کرو، اس پر زندگی گزارو اور نجات حاصل کرو، اصل جوہر اور ابدی ہستی رب کا نام ہے۔ نانک کہتا ہے کہ خود کو بے ساختہ اس پر وقف کردو اور رب کی حمدوثناءکے گیت گاؤ“۔(آدگرنتھ، گوری سکھنمی 19، م5، صفحہ 289)

سکھ مت میں مزید ملتا ہے ۔

  • وہ ایک ہے اگر تم اسے نام دینا چاہتے ہوتو اسے سیتہ (دائمی حق )کہو وہ فاعل ہے۔ ہر شے میں جاری و ساری ہے۔ خوف اور بغض سے پاک ہے۔ اس کی ہستی پر وقت کا اثر نہیں۔ (گرنتھ صاحب انگلش ترجمہ جلد دیباچہ صفحہ 2/بحوالہ سکھ مت اور توحید )
  • سکھ مت میں اومکارا کے کئی صفات بیان کیے جاتے ہیں۔

کرتار( خالق)، صاحب(بادشاہ)، اکال(ابدی)، سنت نام (پاک نام)، پروردگار(محبت سے پرورش کرنے والا)،رحیم( رحم کرنے والا(، کریم( خیر خواہ)۔ سکھ مذہب میں ایک خدا کے لیے واہے گرو (ایک سچا خدا ) کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ سکھ مت میں ایک اور منتر جو گوروگو بند سنگھ جپ جی میں فرماتے ہیں (سکھوں کے یہاں گوروگوبند سنگھ کے جپ جی کی وہی اہمیت ہے جو گورو نانک کے جیپوجی کی ہے )

  • خدا ایک ہی ہے۔ ستیہ ہے ‘عظیم ہے داتا ہے۔۔۔۔ اس کا کوئی چکر نہیں ہے۔ کوئی نشان نہیں ہے۔ کوئی رنگ نہیں۔ کوئی ذات اور سلسلہ نسب نہیں۔
شمارنامگورمکھیانگریزیترجمہ
1اک اونکارੴ / ਇੱਕ ਓਅੰਕਾਰIk Onkarایک ابدی حقیقت
2ست ِنامਸਤਿ ਨਾਮੁsatinaamسچا نام، سچا پکارا جانے والا، ابدی نام
3کرتا پوُرکھਕਰਤਾ ਪੁਰਖੁkarataa purakhعدم سے پیدا کرنے والا ہے
4نِربھَؤਨਿਰਭਉNirabhoبے خوف
5نِرویرਨਿਰਵੈਰੁNiravairنفرت و دشمنی سے عاری
6اکال مُورتਅਕਾਲ ਮੂਰਤਿAkaal Moorathابدی ذات، وہ ہستی جس کی کوئی مورت نہیں
7اجُوانیਅਜੂਨੀAjooneeلم یلد، پیدا ہونے سے پاک، جنم کے بغیر
8سیبھنگਸੈਭੰSaibhanخود روشن ہونے والا
9گرُو پرسادਗੁਰ ਪ੍ਰਸਾਦਿguru prasaadمہربان مالک
10سچا صاحبਸਾਚਾ ਸਾਹਿਬੁSaachaa Saahibسچا مالک
11ویپرواہوਵੇਪਰਵਾਹੁVaeparavaahuبے پروا، صمد
12وگسےਵਿਗਸੈVigasaiبے فکر، پریشانیوں سے پاک
13نرنجنਨਿਰੰਜਨੁNiranjanعیوب سے پاک
14واہِ گرُوਵਾਹਿਗੁਰੂWaheguruبہترین استاد
15نرنکارਨਿਰੰਕਾਰNirankaarشکل و صورت سے پاک

زرتشتیت میں اسمائِے الہٰیہ اور تصورِ خدا

پارسی مذہب کے بانی زرتشت نے خالق کائنات کو اہر مزد کے نام سے پُکارا ہے۔ اہورا کے معنی مالک اور مزدا کے معنی دانا ہیں یعنی ”دانا مالک“۔ زرتشت کی کتاب یاسنا (یسن)میں خدا کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں:

stûtô garô vahmêñg ahurâi mazdâi ashâicâ vahishtâi dademahicâ cîshmahicâ âcâ âvaêdayamahî. vohû xshathrem tôi mazdâ ahurâ apaêmâ vîspâ ýavê, huxshathrastû-nê nâ-vâ nâirî-vâ xshaêtâ ubôyô anghvô hâtãm hudâstemâ

  • ستوتو گارو واہمنگ اہورائی مزدائی اشائچا واہشتائی دادم مہیچا شماہے چہ اچہ اوائد یمہی۔ وہو شتہرم توئی مزدا اہورا اپیما وسپا یاوے ہشتھرستو نے ناوا ناری وائے اُبویو انگھو ہاتم ہُدا ستیما

(ترجمہ: حمد و ثنائے مدح خدائے دانا (اہور مزدا) کے لیے جو بہتر راہ دکھانے والا ہے۔ ہماری خدمات ہماری نسبت ہمارا اقرار تیرے لیے ہے۔ اور تیری اچھی سلطنت میں اے خدا (اہورمزدا) ہمیں ہمیشہ کے لیے داخل کر دے۔ تُو ہی ہمارا حقیقی بادشاہ ہے۔ ہمارا ہر مرد اور ہر عورت تیری ہی عبادت (اطاعت) کرتا ہے کیونکہ تُو بہت مہربان ہے تمام عالمین کے لیے۔) 

زرتشت کی کتاب دساتیر میں خدا کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ یہ ہیں

  • وہ ایک ہے، اس کا کوئی ہمسرنہیں، نہ اس کی ابتدا ہے اور نہ ہی انتہا، نہ اس کا کوئی باپ ہے نہ ہی کوئی بیٹا، نہ کوئی بیوی ہے اور نہ ہی اولاد ہے۔ وہ بے جسم اور بے شکل ہے۔ نہ آنکھ اس کا احاطہ کرسکتی ہے۔ نہ ہی فکری قوت سے اسے تصور میں لایا جاسکتا ہے۔ وہ ان سب سے بڑھ کر ہے جن کے متعلق ہم سوچ سکتے ہیں۔ وہ ہم سے زیادہ ہمارے نزدیک ہے۔

اس کے علاوہ سمیرام اسپ ہاسیمرا ہردار (خدا ایک ہے اور اس کی احدیت ذاتی ہے)، ہمتا ندارد (اس کا کوئی ہم پلہ نہیں)، ہیچ چیز باونما ند (وہ بے مثال ہے)، ہستی وہمر (ہر شے کو ہست کرنے والا)، امپیر شاد (لافانی)، وہومیتو (عقلِ کُل)، خشاوریا (نعمتوں کا مالک)، اشاد ہست (حقیقت اعلیٰ)، ارمائتی (دین دار)، ہورواتاد (قوی)، چوک (پاک)، ہرمزد (روح اعلیٰ)، دادا (منصف)، پرورتار (محافظ) اور نیزان (سب سے قوی) نام مشہور ہیں۔ آوستا،گتھا اور یسن کے مطابق اہورمزدا کی کئی ایک صفات ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں: خالق، بہت قوت،بہت عظمت والا، داتا ”ہدائی”، سخی”سپینٹا”

اوستائی زبان میں اہر مزد کے علاوہ ان کے لیے اہرمزد کے کئی نام ملتے ہیں جن میں 101 مشہور ہیں۔ جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

شمارنامانگریزیترجمہشمارنامانگریزیترجمہ
1اہور مزداAhura Mazdaدانا مطلق، عقلمند آقا2یزداںYazadعبادت کے لائق
3هروسپ توانHarvesp-tawanہر شے پر قادر2آُبدهHarvesp-Agahسب باتوں کو جاننے والا
5هروسپ خداHarvesp-Khodaہر شے کا رب6آُبدهHarvesp-Agahپیدائش سے مبرّا
7ابی انجامAbi-Anjamاختتام سے مبرّا8بنشتBun-e-stihaتخلیق کی بنیاد کرنے والا
9فراخ تنہهFrakhtan-taihبے انتہا برکت والا10جمغJamagaسب سے بالاتر
11فرجه ترهPrajatarahسب سے برتر12تام آُفیچTum-afikپاک سے بھی پاک تر
13اُبره وندهAbaravandسب سے الگ14پروانداParavandehسب سے جُڑا
15ان ایاپAn-ayafehجس تک کسی کی رسائی نہیں16هم ایاپHama-Ayafehجو سب تک رسائی رکھتا ہے
17آدُروAdroسب سے نیک18گیراGiraدستگیر، سب پر دسترس رکھنے والا
19اُچمA-ehemاسباب سے مبرا، صمد20چمناChamanaمسبب الاسباب
21ناشاNashaانصاف والا22پروراParwaraپروردگار، پالنے والا
23واسناVasnaہر جگہ موجود24هروسپ تومHarvastumوجودِ کُل
25ادوایAdvayیکتا، واحد26پیروزگرFirozgarفاتح
27خداوندKhudawandخداوند، خود آنے والا28اهوAhuحاکم مطلق

چینی مذہب میں اسماء الہیہ اور تصور خدا

چین کے سب سے با اثر مذاہب دو ہیں کنفیوشش متاور تاؤ مت …. لیکن ان دونوں مذاہب کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ابتداءمیں یہ کوئی باقاعدہ مذہب نہیں تھا بلکہ اخلاقیات کا ایک ضابطہ تھا جس نے رفتہ رفتہ مذہب کی صو رت اختیار کر لی۔ کنفیوشش مت اور تاؤ مت کی ہیت مذہب سے زیادہ اخلاقی فلسفہ کی ہے اس لے اس میں خدا کا تصور موجود نہیں۔ البتہ ایک خالق اور مالک ہستی کا تصور ہمیشہ سے ہی چین میں موجود ہے۔ قدیم چین کے لوگ کثرت پسند تھے اور اپنے اجداد کی ارواح کی پرستش کرتے تھے یا پھر مظاہرفطرت چاند سورج وغیرہ کی۔ کائنات کی تخلیق کے بنیادی اصول کی وضاحت کے لیے قدیم چینی مفکرین نے ین اور یانگ کے تصورات کا استعمال کیا۔ ین فطرت کی منفی قوت اور یانگ فطرت کی مثبت قوت کو کہا جاتا ہے۔

سب سے پہلے خالق ہستی کے لیے تیان 天 یعنی آسمان کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا، اُس وقت اسے دوسرے قدرتی مظاہر کی طرح بطور آسمان ہی پوجا جاتا تھا۔ بعد میں شینگ سلطنت 1600  قبل مسیحکی قدیم ترین تحاریر میں خدا کے لیے شنگ ٹی 上帝 (یا شنگ ڈی) کا نام ملتا ہے جس کے معنی حاکمِ اعلیٰ کے ہیں۔ زھو سلطنت (1000 قبل مسیح) کے عہد میں چینی مذاہب میں ایک نام پانکُو یا پانگُو 盘古 (قدیم وجود) بھی ملتا ہے، جسے کائنات کی اولین ہستی اور سب چیزوں کا خالق کہا جاتا ہے۔

چوتھی صدی قبل مسیح میں شنگ ڈی کے ساتھ ساتھ تیان لفظ بھی استعمال ہونے لگا۔ اس دور کے چینی فلسفی موزی لکھتے ہیں:

 ”میں جانتا ہوں، تیان (آسمان)انسان سے بے انتہا محبت کرتا ہے، بغیر کسی وجہ کے۔ تیان (آسمان) ہی سورج کو حکم دیتا ہے اور چاند، اور ستاروں کو کہ روشن ہوں اور ان کی را ہنمائی کے لیے۔ تیان (آسمان) ہی موسموں کا حکم دیتا ہے ، بہار، خزاں، سرما، اور گرما کو ، کہ بدل بدل کر آئے۔ تیان (آسمان) ہی نازل کرتا ہے، برف، کہر، بارش، اور شبنم ، پانچ اناج اور سن اور ریشم اگانے کے لیے۔ تاکہ لوگ استعمال کریں اور ان سے لطف اندوز ہوسکیں۔ تیان (آسمان) ہی نے پہاڑیوں اور دریا ، گھاٹیوں اور وادیوں کو قائم کیا اور اور انسان کی خدمت بہت سی چیزوں کا اہتمام کیا جو اچھی بھی ہیں اور بری بھی۔“۔ 

پہلی صدی عیسوی میں یہ مان للیا گیا کہ تیان اور شنگ ڈی ایک ہی ہستی کے دو نام ہیں اس دور کے چینی مفکر اور کنفیوشش مت کے اسکالر زینگ ژوان Zheng Xuan لکھتے ہیں ‘‘شنگ ٹی دراصل تیان کا ہی دوسرا نام ہے۔’’ 

چینی مذاہب میں کنفیوشش مت، تاؤ مت اور  بدھ مت کی تحریروں کی تشریحات سے بعض اصطلاحات کو تبدیل کرکے خدا کے لیے استعمال کیا گیا۔ جن میں زیادہ تر میں تیان یعنی آسمان لفظ سے مرکب کیے گئے، مثلاً ہوانگ تیان شنگ ڈی 玄天上帝(شہنشاہِ آسمان خداوند)، ژوان تیان شنگ ڈی 玄天上帝(گہرے آسمانوں والا خدا)، شینگ تیان (عظیم آسمان )۔ اس کے علاوہ تیان شین (آسمانی خدا)اور تیان ژیان (لازوال) بھی شامل ہیں لیکن یہ لفظ شین انگریزی god کا متبادل ہے جو عموماً دیوتاؤں یا ایک سے زیادہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، جبکہ واحد خدا God کے لیے ڈی帝 کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

چین میں جب باہر سے دوسرے مذاہب داخل ہوئے اور کئی چینی لوگوں اسلام، مسیحیت، یہودیت اور دیگر مذاہب کو اپنایا تو ان مذاہب کے خدا کا تصور اور نام بھی انہوں نے اپنی زبان میں ڈال لیا۔ تقریبا 635ء میں چین میں فارس کے نسطوری مسیحیوں نے مسیحیت کا پر چار کیا جسے انہوں نے جِنگ جیاؤ 景教 (روشن تعلیمات ) کا نام دیا۔ خدا کے لیے انہوں نے زھین زھو真主 (سچا مالک) اور تیان زھو 天主(آسمانی مالک ) کا نام استعمال کیا۔ تیان زھو (آسمانی مالک ) کا نام بعد میں کیتھولک مسیحیوں نے بھی استعمال کیا جبکہ پروٹسٹن مسیحیوں نے شنگ ڈی (حاکم اعلیٰ ) کے لفظ کو ہی اپنایا۔ اسلام کی آمد پر چینی مسلمانوں نے زھین زھو真主 (سچا مالک) کا لفظ ہی استعمال کیا ساتھ ہی لفظ اللہ کے لیے متبادل لفظ اَین لا安拉 (پُرامن سہارا) اور لفظ خدا کے لیے متبادل لفظ ہُودا 湖大(عظیم جھیل ) استعمال آج بھی  شمالی چین کے مسلم آبادیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

شمارنامچینیانگریزیترجمہ
1تیانTianآسمان، اعلٰی
2شنگ ٹی上帝Shang-tiحاکمِ اعلٰی، رب تعالٰی
3تیان زھو天主Tianzhuآسمان کا مالک، رب السموٰت
4ڈیdiخداوند،
5شینshenاعلیٰ رُوح، خدا، دیوتا
6زھین زھو真主Zhenzhuسچا مالک
7اَین لا安拉Anlaپُرامن سہارا،
8ہُودا湖大hudaعظیم جھیل
9تائی ڈی太帝tai diعظیم خدا، برتر خدا،
10زھی شینگ زھی至上者Zhishang zheعظیم ترین ہستی، اعلٰی ہستی
11پانگُو盘古Panguقدیم وجود، المقدم، الاول
12ہوانگ تیان شنگ ڈی玄天上帝Huang Tian Shangdiشہنشاہِ آسمان خداوند
13ژوان تیان شنگ ڈی玄天上帝Xuan Tian Shangdiگہرے آسمانوں والا خدا
14تیان ژیان天线tianxianلازوال
15شینگ تیان上天shangtianعظیم آسمان
16تیان شین天神tianshenآسمانی خدا
17لاؤ تیان یے老天爷laotianyeقدیم آسمانی مالک، قدیم آسمانی باپ
17پُوسا菩萨Pusaلفظی ترجمہ: روشن ضمیر، واقف آگاہ، العلیم۔ (بُدھااور خدا دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے)

جاپانی مذہب میں اسماء الہیہ اور تصورِ خدا

شنتو مت جاپان کا ایک اہم ترین مذہب ہے۔ شنتو چینی زبان کا لفظ (شین تو 神道) ہے جس کے معانی خدا کا راستہ کے ہے۔ شین جو دراصل خدا کے لیے استعمال ہونے والی چینی اصطلاح ہے، اسی لفظ کو جاپانی میں کامی بھی کہا جاتا ہے۔ شنتو مذہب کا باقاعدہ آغاز تین سو سال قبل مسیح میں ہوا۔ شنتو مت میں ارواحیت اور قدرتی مظاہر کی پرستش کا خاصہ عمل دخل ہے۔ اس میں کامی کی عبادت کی جاتی ہے، کامیかみ کو عام طور پر لفظ خدا کا ترجمہ سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ اسلامی تصور خدا سے قدرے مختلف اور تقریباً وحدت الوجود کی طرح ہے۔ اس کی بنیادی تعلیمات کے مطابق انسان خدا کی مرضی سے فرار حاصل نہیں کر سکتا، خدا کامی عظیم روح ہے، جو مقدس ہے اور قابل عبادت ہے اور قدرتی طور پر ہر شے میں موجود ہے، ہر جاندار و بے جان مقدس چیز کامی کا درجہ پاجاتی ہے۔

انگریزی سے اخذ لفظ God کے متبادل کے لیے جاپانی لفظ گاڈ ゴッド استمال کیا جاتا ہے۔

شمارنامجاپانیانگریزیترجمہ
1کامیかみkamiعظیم روح
2گاڈゴッドGoddoخدا (لفظی ترجمہ:جو دماغ میں خون کی طرح بہتا ہے)
3شین رے心霊Shinreiروح القلب
3شِنجو شا至上者Shijo-shaبالادست ہستی، اعلی ترین ہستی

دیگر مذاہب اور زبانوں میں اسمائِے الہٰیہ اور تصورِ خدا

دنیا کے دیگر ممالک اور زبانوں میں خدا کو جن ناموں سے پکارا جاتا ہے وہ یہ ہیں۔ فارسی میں خدا (خود آنے والا)، انگریزی میں God، سائوتھ افریقہ اور ہالینڈ میں Got، جرمن میں Gott، ڈینش، سویڈش اور ناروے میں Gudd، پرتگالی میں Deus، فرنچ میں Dieu، اٹلی میں Dio، اسپینی میں Dies، اسکاٹِش اور آئرش میں Dia، ویلش میں Duw، ایتھوپیا میں املاک، زرتشت نے اہورا مزدا (دانا مالک) کو اسمِ الٰہی قرار دیا۔ اس کے علاوہ یزداں، ہرمزد، پرورتار اور کئی اسم الہٰیہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ چین میں پانکو، بدھ مت میں ایسانا اور ٹاؤمت میں ٹاؤ، شنٹوازم میں کامی، کنفیوشس ازم میں شنگٹی ہے۔

دنیا کا کوئی بھی شخص جب بھی کبھی خدا کو پکارے گا تو اُسے اپنی مادری زبان میں ہی پکارے گا۔ عربی بولنے والا اللہ کہے گا، فارسی اور اردو جاننے والا خدا، ہندی ایشور، عبرانی الوہم، ڈچ، ہنگری اور انگریز اسے God کہہ کر پکاریں گے، اسپرانتو زبان میں اِسی واحد اور یکتا ہستی کے لیے دی Di کے الفاظ ہیں، نارویجن، ڈینش اور سویڈش میں گڈ Gud، اٹالین میں دایو Dio، لاطینی اور اسپینی میں Deus اور Dios، فرنچ میں ڈیو Dieu، جرمن میں گٹGott، فینش میں جمالہ، جاپانی میں کامی، پالی میں ایسانا، چینی میں پانکو، ایتھوپیائی میں املاک، اس کے علاوہ ٹائو، یزداں، اہورمزدا، ایل، الہ، زیوس، یہواہ کے الفاظ بھی اسی خالقِ کائنات کے لیے ہی مختص ہیں۔

صوفیا کرام اور اولیاء اللہ کے بیان کردہ اسمائِے الہٰیہ اور تصورِ خدا

مسلمان صوفیا کرام، اولیاء اللہ اور بزرگانِ دین نے بھی اللہ کو کئی ناموں سے پکارا ہے، مثلاً سیدنا جعفر صادق نے منعم (نعمت عطا کرنے والا)، منان (احسان کرنے والا)، وتر (ایک یگانہ)، نعم المولیٰ (سچا ساتھی)، فرد (یکتا)، فعال لمایرید (جو چاہتا ہے وہ کر سکتا ہے)، سریع (جلدی کرنے والا)، متفضل (بزرگی والا) اور معین (اعانت کرنے والا) کو بطور اسمِ الٰہی تحریر کیا۔ شیخ ابن عربی، عبد الکریم اور الجبلی نے الاعماءکو اسم الٰہی کہا غوث اعظم شیخ  عبدالقادر جیلانینے سرو بالا (محبوب)، سلطان (بادشاہ)، صدرِ جنت (جنت کا مالک)، رفیق (دوست)، مونس (ساتھی)، بے چوں (بے مثال)، جملہ منم (سب کچھ میں ہی ہوں)، جزمن یک زرّہ نیست (میرے بغیر ایک زرّہ نہیں)، پے دائی (ظاہر)، پنہاں (باطن)کے الفاظ بطور اسمِ الٰہی پیش کیے۔ خواجہ معین الدین چشتی نے خدا (خود آنے والا)، ہستئ مطلق(آزاد ہستی) جبکہ مولانا جلال الدین رومی نے بادشاہِ حقیقی، مصلحی (صلاح کرنے والا)، سلطانِ سخن (کلام کا بادشاہ)، خورشید (نور، آفتاب)، لایزال (لازوال)، یکے (اکیلا)، محی عظم رمیم (مردہ ہڈیوں میں جان ڈالنے والا) کو بطور اسمائے الہٰیہ تحریر فرمایا۔

بابا بلھے شاہنے پنجابی اور  فارسی زبان کے الفاظ شوہ (خدا)، وہیا (وہی)، لاانتہا، ہمہ دان(سب جاننے والا)، قادر مطلق (ہر شے پر قادر)، بے چون (بے مادہ)، نر وید (خداوند)، اِکلا (اکیلا)، اِک، احد (ایک)، سوہنا یار (پیارا ساتھی) کو اللہتعالیٰ کے صفاتی ناموں کے طورپر استعمال کیا شاہ عبد اللطیف بھٹائی نے سندھی زبانکے الفاظ راول (محبوب)، ڈاٹر (داتا)، سجن (پیارا)، ھِک (ایک)، جوڑیاں جوڑ جہان (خالق کائنات)، دھڑیں(دینے والا)، صاحب (مالک) کے ذریعے خدا کو مخاطب کیا حضرت شاہ ولی اللہ  نے توریت میں درج اسم الٰہی ”اہیا اشراہیا“ کو بھی اپنی کتاب میں تحریر فرمایا اور اس کے معنی ”الحئ القیوم“ بتائے ہیں حضرت بابا فرید نے اپنے اشعار میں اللہ اور رب کے ساتھ سائیں (خدا، محبوب)، شَوہ (مالک)، ننڈھڑا (صمد)، وڈ (بڑا)، صاحب سچے (سچا مالک)، صاحب سدا (مہربان مالک)، کھسم (مالک، رب)، دھنی (مالک)، کنت (رب) کو بھی بطور اسمِ الٰہی بیان کیا ہے شہنشاہ ہفت اقلیم حضرت بابا  تاج الدین ناگپوری نے بھی اللہ تعالیٰ کے کئی اسم اپنے ہندی اشعار میں بیان فرمائے ہیں۔ بابا تاج الدین شاعری میں اپنا تخلص ”داس ملوکا“ کرتے تھے۔ داس کے معنی بندہ اور ملوکا کے معنی خدا کے ہیں۔ ملوکا کے علاوہ بابا تاج الدین نے داتا (پرورش کرنے والا)، رام (خدا)، پربھو (عبادت کے لائق) اور کرتا (قادر کریم) کو بھی اپنی شاعری میں اللہ کے صفاتی نام کے بطور استعمال کیا ہے عظیم روحانی سائنس دان ابدال حق حضور قلندر بابا اولیائ نے اپنی شہرئہ آفاق تصنیف ”لوح وقلم“ میں 134 اسمائے الہٰیہ تحریر فرمائے ہیں، جن میں سے چند ہم یہاں نقل کر رہے ہیں، یہ وہ اسماءہیں جو معروف 99 اسماءکے علاوہ ہیں عدیل (انصاف کرنے والا)، معبود (عبادت کے لائق)، راشد (رہنما)، منعم (نعمت عطا کرنے والا)، شافی (شفا دینے والا)، کلیم (گفتگو کرنے والا)، خلیل (دوست)، نذیر (ڈرانے والا)، بشیر (خوشخبری دینے والا)، ناصر (مدد کرنے والا)، مختار(اختیار دینے والا)، قاسم (بانٹنے والا)، محسن (احسان کرنے والا)، مشیر (مشورہ دینے والا)، واقع (قائم)، وقیع (بھاری بھرکم)، امین (امانت دار)، جواد (سخی، فیاض)، طیب (پاکیزہ)، طاہر (مقدس)، کامل (غیر ناقص)، صبوح (پاک)، محمود (قابلِ تعریف)، حامد (تعریف کرنے والا) اور شاہد (حاضر)

معروف روحانی اسکالر اور اللہ کے دوست حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے اللہ کو لاانتہا لامحدود، لازوال ہستی، نگراں ذات، محیطِ کُل، غیبُ الغیب، دوست، وجودِ مدرک، ماوراءُ لماوراء، حقیقت، وراءُ الوراء، حقیقت مطلقہ، غیر متغیر ہستی، ماوراء الماورائی ہستی کے ناموں سے پکارا ہے۔

شمارنامترجمہاقتباسحوالہ
1سائیںبزرگ، صاحبِ حیثیتدیکھ فریدا جو تھِیا: سکّر ہوئی وِس

سائیں باجھوں آپنے ویدن کہیئے کِس

جب زندگی کی ساری مٹھاس بھی زہر میں بدل گئی ہو تب بھی بابا فرید

سوائے خدا کے کسی اور کی طرف منہ نہ کرتے

2شوہمحبوباول آخر آپ نوں جاناں؛ نہ کوئی دوجا ہور پچھاناں

میتھوں ہور نہ کوئی سیاناں ؛ بلھّا شوہ کیہڑا ہے کون بلھّا کیہ جاناں میں کون

اول بھی تو ہے اور آخر بھی تو ہے، ایک تیرے ے سوا میں کسی کو نہیں جانتا،

نہ ہی مجھے تیرے ے سوا کوئی سمجھدار لگتا ہے، بلھے شاہ کون کس کا محبوب ہے، بلھے شاہ کیا جانوں میں کون ہوں۔

3وہیاوہی،جس دے عشق پہنائے سانوں ساوے تے سُوہے

جاں میں ماری ہے اڈی مل پئیا ہے وہیئا

تیرے عشق نچایا کر تھیا تھیا

جس کے عشق نے مجھے سرخ و سبز لباس پہنایا،

جیسے ہی میں نے اڑان بھری میں نے اس کو پالیا،

تیرے عشق نے مجھے نچایا کرکے تھیا تھیا۔

4بے چونبے مادہ، شکل صورت سے پاکواہ خالق بے چون پکارن چوں کیتی جس ظاہر

رنگا رنگ پیدائش اس دی انت حسابوں باہر

واہ رے خالق جو بے شکل بے مادہ ہے، اس نے مادہ اور شکل کو خلق کیا

رنگا رنگ مخلوقات اس کی، جس کی تعداد حسابوں سے باہر ہے۔ ۔

5اِکلاکیلا، واحدچل چل گئیاں پنچھیاں جنھیں وسائے تِل

سر بھریا بھی چلسی ٹہکے کنول اِکل

چلے گئے وہ پرندے، جنہوں نے بسائے تھے تالاب

یہ تالاب بھی سوکھ جائے کا رہ جائے گا شان دکھاتا کنول اکیلا ۔

6سوہنا یارپیارا ساتھی، محبوبسوہنے یار باجھوں میڈی نہیں سردی

تانگھ آوے ودھدی سک آوے چڑھدی

پیارے ساتھی کے بغیر میرا گزارا نہیں ہو رہا

انتظاربھی دم بدم اورذوق و شوق بھی بڑھ رہا ہے ۔

7ننڈھڑابے نیاز، صمدجے جاناں تِل تھورڑے سنبھل بُک بھریں

جے جاناں شَوہ ننڈھڑا تھوڑا مان کریں

اگر جانتا کہ تِل (زندگی) تھوڑے ہیں، سنبھل کر پیالہ بھرتا

اگر جانتا کہ خدا بے نیاز ہے، تو تھوڑا اور کی مانگ کرتا ۔

8صاحِب سچّااصل مالک، سچا مالکچِنت کھٹولا، وان دُکھ، بِرہ وِچھاون لیف

ایہہ ہمارا جیونا، تُوں صاحِب سچّے ویکھ

فکر کی چارپائی، دکھوں کی بان اوپر سے فراق کی رضائی

یہی ہماری زندگی ہے، تو سچے مالک دیکھ ۔

9کنتمالک، محبوب، خداکَون سو اکھّر، کَون گُن، کَون سو منیا منت

کَون سو ویسو ہَوں کِری جِت وَس آوے کنت

کون سے الفاظ، کون سی خوبی، کون سا موتی و منتر، کون سا بھیس (لباس) میں اپناؤں جس سے میرا محبوب خدا قابو میں آجائے۔
10دھنیمالک، ربِک پِھکّا نہ گالائیں، سبھناں میں سچّا دھنی

ہیاؤ نہ کہیں ٹھاہیں، مانک سبھ امَولویں

کسی سے ایک لفظ بھی روکھا نہ بولنا کیونکہ سب میں سچا رب بستا ہے کسی کا بھی دل نہ توڑنا کیونکہ یہ (دل) ایسے موتی ہیں جن کا کوئی مُول نہیں ۔

ایسی ہستی جس کی کوئی حد نہ ہو، جس کی کوئی مثال نہ ہو، ظاہر و باطن کی کوئی شے اس سے مشابہ نہیں، سب اُس کے محتاج ہیں، اُسے کسی کی احتیاج نہیں، دنیا کی ساری زبانوں کے سارے الفاظ مل کر بھی اُس ہستی کا احاطہ نہیں کرسکتے ایسی لازوال ہستی کو سمجھنے اور اُس کا عرفان حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ محدود طرزِفکر کے دائرے سے باہر نکل کر سوچا جائے۔

مذکورہ بیانات کے مطالعہ کے بعد یہ حقیقت ہمارے ذہن پر منکشف ہوتی ہے کہ بالفرض اگر ہم اللہ کی لامحدود صفات کا تذکرہ کرتے ہیں تو اِس لامحدودیت کے تذکرے سے بھی ہماری محدودیت ہی اُجاگر ہوتی ہے۔ فی الواقع انسان کا شعور اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا احاطہ کرسکے۔ انسان کی لامحدود نگاہ بھی اللہ کے سامنے محدود ہے۔ انسان کا اللہ کو پہچاننا فقط اُس کی اپنی استعداد کی حد تک ہے۔ اللہ تعالیٰ آخری الہامی کتاب قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:

 ”اور اگر یوں ہو کہ زمین کے جتنے درخت ہیں (سب کے سب) قلم بن جائیں اور سمندر (کا تمام پانی) سیاہی ہو اور اس کے بعد سات سمندر مزید (سیاہی بن جائیں) تو خدا کی باتیں (یعنی اُس کی صفات) ختم نہ ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں