حدودِ وہم و گماں سے نکل گیا ہے کوئی‌ … غزل … امیر حمزہ سلفی

Spread the love

حدودِ وہم و گماں سے نکل گیا ہے کوئی
مرے وجود کے ریشے مسل گیا ہے کوئی

ہمارے لہجے کی تلخی کا اک سبب یہ ہے
ہمارے ساتھ رویہ بدل گیا ہے کوئی

کہ شادمانی کا باعث بھی تھا ہمارے لیے
ابھی اداسی کے سانچے میں ڈھل گیا ہے کوئی

چلو یہ اچھا ہوا ٹوٹا ہے طلسمِ وفا
چلو یہ اچھا ہوا مجھ پہ کھل گیا ہے کوئی

اسے یہ کون بتائے جو آنے والا نہیں
کہ انتظار کی شدت میں جل گیا ہے کوئی

ہمارے کان یہ سننے کو ترسیں گے حمزہ
ہمارے شعر بھی سن کر پگھل گیا ہے کوئی

امیر حمزہ سلفی

اپنا تبصرہ بھیجیں