کلورین اور الکوحل کورونا کا خاتمہ نہیں کرسکتے، ڈبلیو ایچ او

Spread the love

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے سادہ لوح عوام کو کورونا وائرس کے خاتمے کے نام پر لوٹنے والے فراڈیوں کا پول کھول دیا ہے جس کے تحت درجنوں کی تعداد میں ایسے طریقوں کی سختی سے مخالفت کردی ہے جس کے ذریعے پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوام کو لوٹا جارہا تھا۔
عالمی ادارہ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر صاف الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ کلورین اور الکوحل کا اسپرے کورونا وائرس کا خاتمہ نہیں کرسکتا جبکہ کورونا وائرس کی ساخت oily lipip molecule پر مشتمل ہوتی ہے جو کم از کم بیس سیکنڈ تک صابن سے ہاتھ دھونے پر انسانی ہاتھ سے ختم ہوسکتا ہے، لہٰذا کلورین اور الکوحل کے محلول چھڑکنے سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔
اس حوالے سے ٹیکنالوجی موومنٹ پاکستان اور تحریک ٹیک کے سربراہ وقار زکا اور ان کی ریسرچ ٹیم کا کہنا ہے کہ آجکل پاکستان میں بڑی تعداد میں واک تھرو گیٹ ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے میں یہ کہہ کر فروخت کیے جارہے ہیں کہ اس کے اندر سے گزرنے سے کورونا وائرس نقصان نہیں پہنچا سکے گا جبکہ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کلورین اور الکوحل ملے محلول کا چھڑکاؤ انسان کی جلد کے لیے نقصان دہ ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔
جبکہ عالمی ادارہ صحت نے واضح کیا ہے کہ 5G موبائل نیٹ ورک کورونا کے پھیلاؤ کا سبب نہیں بن سکتا، 25 سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر کا درجہ حرارت کسی بھی طرح کورونا وائرس کو ختم نہیں کرسکتا، ایک بار کورونا وائرس سے صحت مند ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوبارہ اس کا شکار نہیں ہوسکتے، بچنے کے لیے احتیاط ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آئی فون اور آئی پیڈ استعمال کرنے والےصارفین خبردار!

دس سیکنڈ تک سانس روکنے اور خشک کھانسی نہ ہونے کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ آپ کورونا سے محفوظ ہیں، الکوحل کا زیادہ استعمال آپ کوکورونا سے محفوظ رکھنے کا سبب نہیں بن سکتا۔
کورونا وائرس گرم اور نمی والے علاقوں میں بھی لوگوں میں انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے، سرد موسم اور برفیلے علاقوں میں کورونا میں بھی کورونا وائرس حملہ آور ہوسکتا ہے۔
گرم پانی سے نہانے سے بھی کورونا کو نہیں روکا جاسکتا، کورونا وائرس مچھروں کے ذریعے بھی منتقل نہیں ہوسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں