تین سو تیرہ …. آغرؔ ندیم سحر

Spread the love

یہ رجب ۲ ہجری کی بات ہے۔
نبی کریم ﷺ نے حضرت عبد اللہؓ بن حجش کو ایک خط دے کربارہ آدمیوں کے ساتھ بطنِ نخلہ کی طرف بھیجا ،خط کے مطابق آپؐ کا حکم تھا کہ ’’مقامِ نخلہ میں قیام کرواور قریش کے حالات کا پتہ لگائو اور اطلاع دو‘‘۔اتفاق یہ کہ قریش کے چند آدمی شام سے مالِ تجارت لے کر واپس آ رہے تھے کہ حضرت عبداللہؓ نے ان پر حملہ کر دیا ‘ان میں ایک شخص عمروبن الحضرمی مارا گیا۔دو لو گ گرفتار ہوئے اور مال ِ غنیمت بھی ہاتھ آ گیا۔حضرت عبداللہ نے واپس آ کر جب یہ سارا واقعہ آنحضرتؐ کے حضور گوش گزار کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ تم کو یہ اجازت کس نے دی تھی کہ ان پر حملہ آور ہو؟۔آپؐ نے مالِ غنیمت وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا اور صحابہ کرامؓ بھی حضرت عبد اللہ ؓ سے نہایت برہم ہوئے اور کہا’’تم نے وہ کام کیا جس کا تم کو حکم نہیں تھا اور ماہِ حرام میں لڑے حالانکہ اس مہینے میں لڑائی کا حکم نہیں تھا‘‘۔جو لوگ گرفتار ہوئے وہ انتہائی معزز خاندان کے لوگ تھے،عمر بن الحضرمی ‘عبد اللہ حضرمی کا بیٹا تھا جو حرب بن امیہ (حضرت امیر معاویہؓ کے دادا)کا حلیف تھا اور حرب قریش کا رئیس ِاعظم تھا اور عبد المطلب کے بعد ریاستِ عام اسی کو حاصل ہوئی تھی۔جو لوگ گرفتار ہوئے ان میں ایک عثمان و نوفل دونوں مغیرہ کے پوتے تھے اور مغیرہ جو خالد بن ولید ؓکے دادا تھے اور حرب کے بعد دوسرے درجے کے رئیس تھے۔یہی وجہ ہے کہ اس واقعے نے تمام قریش کو مشتعل کر دیا اور انتقامإ خون کی آگ بھڑک اٹھی۔حضرت عروہؓ بن زبیر(حضرت عائشہؓ کے بھانجے)نے تصریح کی اور علامہ طبری نے بھی یہی لکھا کہ غزوۂ بدر اور تما م لڑائیاں جو قریش سے پیش آئیں ‘سب کا سبب حضرمی کا قتل تھا جس نے قریش میں انتقام کو جنم دیا۔
قریش نے اگرچہ ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ پر حملے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں ۔حملہ کے لیے سب سے بڑی چیز مصارفِ جنک کا بندوبست تھا اسی لیے اب کے موسم میں قریش کا جو کاروانِ تجارت شام کو روانہ ہوا ،اسی سروسامان سے روانہ ہوا کہ مکہ کی تمام آبادی نے جس کے پاس جو رقم تھی،شب جمع کروا دی۔نہ صرف مرد بلکہ عورتیں (جو کاروبارِ تجارت میں کم حصہ لیتی تھیں)کا بھی ایک ایک فرد اس میںشریک تھا۔قافلہ ابھی شام سے روانہ نہیں ہوا تھا کہ حضرمی کے قتل کا اتفاقیہ واقعہ پیش آ گیا جس نے قریش کی آتشِ غضب کو اور بھڑکا دیا۔اسی اثنا میں مکہ معظمہ میںیہ غلط خبر وائرل ہو گئی کہ مسلمان قافلہ لوٹنے کے لیے آ رہے ہیں اور یوں قریش غصے میں آگے بڑھے اور ان کے غضب نے تمام عر ب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔نبی کریمﷺ نے یہ سارا واقعہ صحا بہ کرامؓ کے سامنے پیش کیا تو صحابہ کرامؓ نے جانثارانہ تقاریر کیں جس سے نبی کریمﷺ کا چہرہ چمک اٹھا۔یوں ۱۲ رمضان المبارک ۲ہجری کو آپؐ تین سو تیرہ جانثاروں کے ساتھ شہر سے نکلے اور بدر (جو مدینہ سے ۸۰ میل کے فاصلے پر ہے)کی جانب روانہ ہوئے اور ۱۷ رمضان المبارک کو جب آپؐ بدر کے قریب پہنچے تو خبر رسانوں نے خبر دی کہ قریش وادی کے دوسرے سرے تک آ گئے ہیں ‘نبی کریمﷺ یہیں رک گئے اور فوجیں اتر پڑیں۔مکہ سے قریش انتہائی زیادہ سازوسامان سے نکلے تھے،رسد کا یہ انتظام تھا کہ امرائے قریش جن میں عباس (بن مطلب)،عتبہ بن ربیعہ،حارث بن عامر،نضر بن الحارث ،ابو جہل ،امیہ وغیرہ باری باری ہر روز دس دس اونٹ ذبح کرتے اور لوگوں کو کھلاتے تھے۔دوسری طرف مسلمانوں کی جانب چشمہ یا کنواں تک نہ تھا،زمین ایسی ریتلی تھی کہ اونٹوں کے پائوں زمین میں دھنس جاتے تھے۔حضرت حبابؓ نے نبی پاکﷺ سے پوچھا بھی کہ جو مقام انتخاب کیا گیا‘اس کاحکم وحی کی طرف سے ہے یا فوجی تدبیر؟ارشاد فرمایا کہ’’ وحی نہیں ہے‘‘۔حضرت حباب ؓ نے مشورہ دیاکہ جگہ تبدیل کر لی جائے جس پر نبی کریمﷺ نے اتفاق فرمایا۔یہاں حسنِ اتفاق کہ مینہ برس گیا جس سے گرد جم گئی اور جا بجا پانی کو روک کر چھوٹے چھوٹے حوض بنا دیے گئے کہ وضو اور غسل کے کام آجائے اور اس قدرتی احسان کا خدا نے سورۃ انفال میں ذکر بھی فرمایا’’اور جب خدا نے آسمان سے پانی برسایا کہ تم کو پاک کر دے‘‘۔رات صحابہ کرامؓ کو آرام کا حکم دے کر نبی کریمﷺ پوری رات خدا کے حضور سجدہ ریز رہے اور اپنی فتح کی دعا فرماتے رہے۔صبح ہوئی ‘نماز کے بعد آپؐنے جہا د پر خطاب فرمایا۔
صبح ہوتے ہی نبی کریمﷺ نے صف بندی فرما دی۔لڑائی کے دوران شوروغل تو عام بات ہے مگر نبی کریمﷺ نے منع فرمایا کہ اس کے علاوہ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے۔ایک عجیب منظر تھا ،اتنی بڑی وسیع دنیا میں توحید کی قسمت صرف چند جانوں پر منحصر تھی۔نبی کریمﷺ پر سخت خضوع کی حالت طاری تھی اور دونون ہاتھ پھیلا کر خدا سے فرما رہے تھے’’خدایا! تونے مجھ سے وعدہ کیا ہے ‘آج پورا کر ‘‘۔چادر مبارک کندھے سے بار بار گر رہی تھی‘آپ سجدے میں جاتے اور فرماتے کہ’’خدایا!اگر یہ چند لوگ آج مٹ گئے تو پھر قیامت تک کوئی تیرا نام لیوا نہیں ہو گا‘‘۔اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ صدیقنے عرض کی’’یارسول اللہؐ خدا اپنا وعدہ وفا کرے گا‘‘۔یہ معرکہایثار اور جانبازی کا سب سے بڑا حیرت انگیز منظر تھا۔دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں تو لوگوں کو نظر آیا کہ خود ان کے جگر کے ٹکڑے تلوار کے سامنے ہیں۔حضرت ابوبکر ؓ کے بیٹے (جو ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے) میدانِ جنگ میں آگے بڑھے تو حضرت ابوبکرؓ صدیق تلوار کھینچ کر نکلے،عتبہ میدان میں آیا تو حضرت حذیفہؓ (عتبہ کے بیٹے)اس کے مقابلے کو نکلے،حضرت عمرؓ کی تلوار ماموں کے خون سے رنگین ہوئی اور تاریخ نے دیکھا کہ کیسے اسلامی جانبازوں نے اپنے پرائے کی پراہ کیے بغیر اس جنگ میں آگے بڑھے اور وہ تین سو تیرہ دس ہزار پر بھاری رہے۔یہی وہ جنگ تھی جس میں دو نوجوانوں معوذؓ اور معاذ ؓنے ابوجہل کا کام تمام کیا۔عتبہ اور ابوجہل کے قتل سے قریش کے پائے اثبات اکھڑ گئے اور کفار کی فوج میں بے دل چھا گئی۔(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں