“آن لائن کلاسز کے فوائد و نقصانات” …. کومل شہزادی

Spread the love

کرونا نے جہاں پوری دنیا میں سبھی شعبوں کو تباہی سے دوچار کیا وہیں اس وبا نے تعلیمی شعبوں کو زیادہ متاثر کیا ہے-احتیاطی تدابیر کے لیے فورا تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا-تاکہ اس وبا پر قابو بآسانی پایا جاسکے- وہیں طلبہ کے تعلیمی خرج سے بچنے کے لیے آئن لائن کلاسز کی ابتداء کی گئی تاکہ تعلیم کا خرج نہ ہو اور  طلبہ اپنے گھروں میں محصور ہو کر بھی تعلیم سے مستفید ہو سکیں-

بالخصوص پاکستان میں یہ آن لائن کلاسز کا سلسلہ اتنا مقبولیت کا حامل نہیں – طالب علموں اور اساتذہ کے لیے ایک حیران کن اور پریشان کن بات ہے-آن لائن کلاسز کے آغاز کا مقصد کہ اساتذہ اور طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر لانا تاکہ پڑھائی میں تعطل نہ آئے- جہاں اس کے بہت سے فوائد ہیں وہیں نقصانات بھی ہیں- آن لائن کلاسز سے کچھ طبقہ مستفید بھی ہو رہا جن کو اس سسٹم سے کسی بھی مسائل سے دوچار نہیں ہونا پڑ تا-آن لائن کلاسز کے فوائد یہ ہیں کہ  طلبہ کو باقاعدگی کے ساتھ کام کرنا پڑ تا ہے جس سے وہ کاہل اور سست نہیں ہوں گے -روزمرہ معمول کے مطابق باقاعدہ کام کرنے کے عادی رہیں گے-جن اداروں کا سمسٹر سسٹم ہے اُن کے طلبہ اور اساتذہ پر کام کا بوجھ اور دباؤ اس آن لائن سسٹم سے کم ہی رہے گا کیو نکہ باقاعدگی سے معمول کے مطابق کورس مکمل ہو رہا ہے-جس سے دوبارہ اداروں کے کھلنے سے کورس ختم کروانے کے بوجھ اور ذہنی تناؤ کا شکار نہیں ہوں گے-علاوہ ازیں طلبہ بے خوف ہو کر اعتماد کے ساتھ کام کرتے رہیں گے

– اس  آن لائن سسٹم سے طلبہ کو مسلسل متحرک اور آمادہ عمل رکھنے کے لیے مفید ہے-طا لب علموں کی پڑھائی میں آمادگی اور تحریک  پیدا ہوتی رہے گی-آن لائن تعلیم سے طلبہ نصاب بغیر کسی وقفہ یا رکاوٹ کے اپنا کورس ختم کرسکیں گے اور اچھے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہیں گے- اس کے نقصانات کی بات کی جائے تو کچھ طبقہ ایسا ہے جو اس آن لائن سسٹم سے ناواقف ہے اُس لحاظ سے یہ سسٹم کے نقصانات نمایاں ہیں-کچھ طلبہ ایسے ہیں جن کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں ہوتی اور کچھ دور دراز کے علاقے سے ہیں جدھر لوڈشیڈنگ کے باعث بھی آئن لائن تعلیم میں دشواری پیش آتی ہے- اور یہ کچھ طلبہ کو اس سے فائدہ ہے اور کچھ کو نقصان کیونکہ کچھ طلبہ کے پاس کمپیوٹر یا سمارٹ فون بھی موجود نہیں ہوتا جس سے ایسے طلباء کے لیے مکمل  شمولیت آن لائن کلاس میں  کر پانا ناممکن ہوتا ہے – کمرہ جماعت میں طلبہ اپنے اساتذہ کے روبرو ہوتے ہیں اور تعلم حاصل کرتے ہیں -جبکہ آن لائن کلاس میں وہ استاد کی موجودگی اور روبرو ہونے سے محروم رہتے ہیں- بہت سے طلبہ جو اس سے منسلک ٹیکنالوجی مثلا انٹر نیٹ کی سہولیات میسر نہیں ہیں -ابھی بہت سے دور دراز کے علاقے ایسے ہیں جن میں یہ سہولیات اور ان سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام نہیں ہے- جہاں اس کے فوائد ہیں وہیں نقصانات بھی ہیں –

کچھ اساتذہ بھی ایسے ہیں جن کو اس آن لائن کلاسز لینے میں بہت دشواری کا سامنا ہے -کیونکہ  کچھ باقاعدہ طور پر اس طریقہ کار سے ناآشنا ہیں -پوری کلاس لینے کے بعد کچھ عمر رسیدہ اساتذہ کو اندازہ ہوتا ہے کہ اُن کا آواز والا مائیک ہی بند تھا-اس طرح کے آن لائن کلاسز لینے میں بہت سے مسائل ہیں-       طلبا اور اساتذہ دونوں ہی ٹیکنالوجی کی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔  اور ان حالات میں ایسے تعلیم حاصل کرنا کہ جب آپ ٹیچر کی نہ آواز سمجھ پا رہے ہوں اور نہ ہی ان سے دوبارہ پوچھنا ممکن ہو، یہ  تعلیمی اعتبار سے نقصان دہ ہے وہیں کچھ کے لیے انتہائی تکلیف دہ عمل  بھی ہے۔  مزید برآں انٹرنیٹ کی سہولتوں کے فقدان کے علاوہ اکثر اساتذہ اور طلبا آن لائن کلاسز کے لیے تربیت یافتہ نہیں ہیں اس لیے تعلیم کے حصول میں دشواری ہورہی ہے۔المختصر,اُمید کی جاسکتی ہے کہ جلد اس آن لائن کلاسز سسٹم سے نجات حاصل ہوسکے-

اپنا تبصرہ بھیجیں